پیر، 12 دسمبر، 2016

وقت آگیا ہے کہ 'اب یا کبھی نہیں'

خوش فہمیوں کی کاغذی کشتیاں اب بھی وہی ہیں عارف
کس منہ سے یہ ناخدا منزل و ساحل کی بات کرتے ہیں
کراچی کے حالات بتدریج اسی نشیب اور اسی نہج کی طرف جا رہے ہیں کہ جنکی جانب میں عرصے سے کھل کر بتاتا چلا آرہا ہوں ، حتیٰ کے میرے اپنے حلقے کے کئی دوستوں اور لکھاریوں نے میری باتوں کا متعدد بار مذاق اڑایا اور کہا کہ تم خوہ مخواہ جھنجھلا رہے ہو اور ایسی کوئی بات نہیں دور تک بلکہ بڑی دور تک ۔۔۔ کیونکہ متحدہ تو عرصے سے قومی دھارے میں سرگرم ہے اور پارلیمنٹ و وزارتیں سب سے مستفید ہوتی چلی آرہی ہے لیکن میرے اپنے جو 'عوامی ذرائع' ہیں انہیں آپ نجم سیٹھی چڑیا کی طرح کی کوئی چڑیا سمجھ لیں تو ان سے جو اندر کی خبریں ملتی رہی ہیں وہ صاف یہ بتاتی رہی ہیں کہ متحدہ کا مرکزی دھارے میں آنا محض ڈرامہ تھا اور ہے اور وہ صرف خاموشی سے بتدریج طاقت پکڑے جانا مہم کا حصہ تھا کہ جسکے تحت اس نے اپنے چی؛وں ار جنونیوں کو کراچی کے اہم محکموں میں 'نازک' جگہوں پہ لابٹھانا تھا تاکہ وقت پڑنے پہ اس شہر کے سارے انتظامی و اعصابی نظام کو مفلوج کرکے رکھدے اور پھر جو ہدف پانا چاہے وہ پالے لیکن ہماری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں مجود یقینناً کوئی غدار اب بھی اپنے پتے بڑی مہارت سے کھیل رہا ہے وہ الطافی جو بظاہر بری طرح سے پسپا ہو گئے تھے اب پھر اپنے پنجوں سے ناخن نکالتے دکھائی دے رہے ہیں
کل رات میرے علاقے پاپوش ناظم آباد میں چاندنی چوک پر الطافی لفنگوں نے جلوس نکالا جو کہ ہر چند زیادہ بڑا نہ تھا لیکن اسی انداز اور لب و لہجہ میں بات کی جارہی تھی کہ جو ہم محب وطن لوگوں کیلیئے حدرجہ افسوسناک ہے ۔۔۔ مجھے نہیں معلوم کہ باقی سارے پاکستان کو کیا بتایا جا رہا ہے لیکن ہماری اسٹیبلشمنٹ میں موجود کسی غدار نے پھر وہی کھیل کھیلا ہے کہ جو مشرقی پاکستان میں کھیلا گیا تھا ۔۔۔ اور جان بوجھ کر چوہوں کو شیر بنایا جارہا ہے ۔۔۔ فاروق ستار کا ڈرامہ اسکی ایک بدترین مثال ہے ۔۔۔ الطاف حسین نے 22 اگست کی خرافات کی معافی مانگنے کے بعد 24 اگست کو امریکہ میں اپنے کارکنوں سے جو خطاب کیا ہے وہ 22 اگست والے خطاب سے بھی زیادہ باغیانہ اور گھناؤنا ہے اور خدا کی قسم اگر عارف مصطفیٰ کے پاس ایسا کوئی اختیار ہوتا تو وہ الطاف کے سارے ارکان اسمبلی کو لے کے مزار قائد پہ جاتا اور وہاں انہیں الطاف سے صرف لا تعلقی نہیں بلکہ اس پہ مکمل لعنت بھیجنے کا اعلان کرنے کا مطالبہ کرتا اور اسکی تحریر لکھواتا وہاں مزار قائد پہ فاتحہ پڑھواتا اور ان سے پکستانی پرچم کو سلامی دلوا کر انہیں کلیجے سے لگا لیتا ۔۔۔ ورنہ انکے انکار کی صورت میں انہیں سیدھا مزار قائد کے پاس نمائش چوک پہ لے جاکر برسرعام پھانسی پہ لٹکا دیتا اور متحدہ پہ مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیتا ۔۔۔
میں لکھ لکھ کر تھک چکا ہوں اور میرے لگے بندھے قارئین بھی ہلکان ہوچلے ہیں ،،، بلکہ اب تو شاید بہت ہی کم لوگ میری ان فضولیات کو پڑھنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں ،،، میں نے شدید دہشت اور وحشت کے زمانے میں بھی اس مقتل میں بیٹھ کر ان فرعونوں و جلادوں کا اصل چہرہ لوگوں کو دکھایا ہے بلکہ درحقیقت مجھ اکیلے نے اس موضوع پہ سارے پاکستان کے صحافیوں سے بھی زیادہ لکھا ہے اور اسکی قیمت بھی چکائی ہے ۔۔۔ کوئی مجھے بتائے کہ یہ پاگل صحافی اور کیا کرے ،،، اب اسکے سوا کیا چارہ کار رہ گیا ہے کہ یا تو میں یہ سب کچھ لکھنا بند کردوں اور بےغیرتی اور خاموشی کے سمندر میں ڈوب جاؤں یا پھر طاقت و اختیار کے ایوانوں کو آگ لگاکر خود کو بھی نذر آتش کرلوں ۔۔۔ آپ ہی بتایئے کہ کیا کیا جائے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں