پیر، 12 دسمبر، 2016

وقت آگیا ہے کہ 'اب یا کبھی نہیں'

خوش فہمیوں کی کاغذی کشتیاں اب بھی وہی ہیں عارف
کس منہ سے یہ ناخدا منزل و ساحل کی بات کرتے ہیں
کراچی کے حالات بتدریج اسی نشیب اور اسی نہج کی طرف جا رہے ہیں کہ جنکی جانب میں عرصے سے کھل کر بتاتا چلا آرہا ہوں ، حتیٰ کے میرے اپنے حلقے کے کئی دوستوں اور لکھاریوں نے میری باتوں کا متعدد بار مذاق اڑایا اور کہا کہ تم خوہ مخواہ جھنجھلا رہے ہو اور ایسی کوئی بات نہیں دور تک بلکہ بڑی دور تک ۔۔۔ کیونکہ متحدہ تو عرصے سے قومی دھارے میں سرگرم ہے اور پارلیمنٹ و وزارتیں سب سے مستفید ہوتی چلی آرہی ہے لیکن میرے اپنے جو 'عوامی ذرائع' ہیں انہیں آپ نجم سیٹھی چڑیا کی طرح کی کوئی چڑیا سمجھ لیں تو ان سے جو اندر کی خبریں ملتی رہی ہیں وہ صاف یہ بتاتی رہی ہیں کہ متحدہ کا مرکزی دھارے میں آنا محض ڈرامہ تھا اور ہے اور وہ صرف خاموشی سے بتدریج طاقت پکڑے جانا مہم کا حصہ تھا کہ جسکے تحت اس نے اپنے چی؛وں ار جنونیوں کو کراچی کے اہم محکموں میں 'نازک' جگہوں پہ لابٹھانا تھا تاکہ وقت پڑنے پہ اس شہر کے سارے انتظامی و اعصابی نظام کو مفلوج کرکے رکھدے اور پھر جو ہدف پانا چاہے وہ پالے لیکن ہماری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں مجود یقینناً کوئی غدار اب بھی اپنے پتے بڑی مہارت سے کھیل رہا ہے وہ الطافی جو بظاہر بری طرح سے پسپا ہو گئے تھے اب پھر اپنے پنجوں سے ناخن نکالتے دکھائی دے رہے ہیں
کل رات میرے علاقے پاپوش ناظم آباد میں چاندنی چوک پر الطافی لفنگوں نے جلوس نکالا جو کہ ہر چند زیادہ بڑا نہ تھا لیکن اسی انداز اور لب و لہجہ میں بات کی جارہی تھی کہ جو ہم محب وطن لوگوں کیلیئے حدرجہ افسوسناک ہے ۔۔۔ مجھے نہیں معلوم کہ باقی سارے پاکستان کو کیا بتایا جا رہا ہے لیکن ہماری اسٹیبلشمنٹ میں موجود کسی غدار نے پھر وہی کھیل کھیلا ہے کہ جو مشرقی پاکستان میں کھیلا گیا تھا ۔۔۔ اور جان بوجھ کر چوہوں کو شیر بنایا جارہا ہے ۔۔۔ فاروق ستار کا ڈرامہ اسکی ایک بدترین مثال ہے ۔۔۔ الطاف حسین نے 22 اگست کی خرافات کی معافی مانگنے کے بعد 24 اگست کو امریکہ میں اپنے کارکنوں سے جو خطاب کیا ہے وہ 22 اگست والے خطاب سے بھی زیادہ باغیانہ اور گھناؤنا ہے اور خدا کی قسم اگر عارف مصطفیٰ کے پاس ایسا کوئی اختیار ہوتا تو وہ الطاف کے سارے ارکان اسمبلی کو لے کے مزار قائد پہ جاتا اور وہاں انہیں الطاف سے صرف لا تعلقی نہیں بلکہ اس پہ مکمل لعنت بھیجنے کا اعلان کرنے کا مطالبہ کرتا اور اسکی تحریر لکھواتا وہاں مزار قائد پہ فاتحہ پڑھواتا اور ان سے پکستانی پرچم کو سلامی دلوا کر انہیں کلیجے سے لگا لیتا ۔۔۔ ورنہ انکے انکار کی صورت میں انہیں سیدھا مزار قائد کے پاس نمائش چوک پہ لے جاکر برسرعام پھانسی پہ لٹکا دیتا اور متحدہ پہ مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیتا ۔۔۔
میں لکھ لکھ کر تھک چکا ہوں اور میرے لگے بندھے قارئین بھی ہلکان ہوچلے ہیں ،،، بلکہ اب تو شاید بہت ہی کم لوگ میری ان فضولیات کو پڑھنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں ،،، میں نے شدید دہشت اور وحشت کے زمانے میں بھی اس مقتل میں بیٹھ کر ان فرعونوں و جلادوں کا اصل چہرہ لوگوں کو دکھایا ہے بلکہ درحقیقت مجھ اکیلے نے اس موضوع پہ سارے پاکستان کے صحافیوں سے بھی زیادہ لکھا ہے اور اسکی قیمت بھی چکائی ہے ۔۔۔ کوئی مجھے بتائے کہ یہ پاگل صحافی اور کیا کرے ،،، اب اسکے سوا کیا چارہ کار رہ گیا ہے کہ یا تو میں یہ سب کچھ لکھنا بند کردوں اور بےغیرتی اور خاموشی کے سمندر میں ڈوب جاؤں یا پھر طاقت و اختیار کے ایوانوں کو آگ لگاکر خود کو بھی نذر آتش کرلوں ۔۔۔ آپ ہی بتایئے کہ کیا کیا جائے

یہ اپنے یوسفی صاحب

( اپنی یہ تحریر 4 ستمبر کو میں نے آرٹس کونسل کراچی میں بزم ظرافت کی طرف سے منعقدہ یوسفی صاحب کی 95 ویں سالگرہ کے موقع پہ پڑھی تھی )
صآحبو ۔۔۔ کسی دانشور نے کہا تھا کہ ہر اچھی چیز ہر ایک کے لیئے نہیں ہوتی ، یوسفی صاحب کی تحریریں بھی ہرکسی کے لیئے نہیں ہیں لیکن پھر بھی دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ یوسفی صاحب کسی محفل میں اپنا کوئی مضمون جب بھی پڑھیں ہال میں سبھی لوگ مسکرا رہے ہوتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی بھی لوگ ایک دوسرے پہ کچھ نہ کچھ بھروسہ کرتے ہیں حالانکہ کچھ لوگ اگر چاہیں تو اپنی یہ مسکراہٹ ملتوی کرکے بعد میں اسکے معنی پوچھ کے باضابطہ طور پہ بھی ہنس سکتے ہیں لیکن آن دی اسپاٹ بدذوق سمجھے جانے کا خطرہ مول لینے کی ہمت بھلا کس میں ہے ۔۔ ۔۔۔ یوسفی تابڑ توڑ مزاح پہ یقین نہیں رکھتے اک عجب سی دھیرج اور باوقار دلکی چال انکی تحریروں کا خاصا ہے ۔۔۔ کسی حد تک ہومیوپیتھکانہ مزاج پایا ہے لیکن تاثیر کے اعتبار سے وہ ایلو پیتھک ، مگر نتائج کے لحاظ سے جراحت کے ہم پلہ ہے
یوسفی کے مزاح کا بس ایک ہی جھنجھٹ ہے اور وہ یہ انہیں سمجھے بغیر ہنسا نہیں جاسکتا جبکہ اکثر مزاح نگاروں کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر انکے لکھے کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو پھربالکل بھی ہنسا نہیں جاسکتا ۔۔۔ کئی مزاح نگار فی زمانہ ایسے ہیں کہ پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ یہ تحریر نہ لکھتے محض کولہے ہی مٹکا لیتے اور اسکی تصویر لگا دیتے توکسی نہ کسی حد تک ضرور ہنسا جاسکتا تھا ۔۔۔ لیکن ویسے یوسفی کے مزاح میں خرابی یہ ہے کہ خرابی کوئی نہیں، قاری خواہ کتنا ہی گھنا کیوں نہ ہو اگر سمجھدار ہے تو اس سےمسکراہٹ اس طرح برآمد کرواتے ہیں جیسے پولیس والے چور سے مال مسروقہ لیکن پولیس والوں کے طریقے فرق بس اتنا ہی ہے کہ صرف اس ہی لفظ اور جملے سے مسکراہٹ برآمد کرواتے ہیں کہ جہاں یہ متاع خاص چھپاکر رکھی گئی ہوتی ہے اب یہ چور کی مجبوری ، کمزوری یا گیگلے پن پہ منحصر ہے کہ اصل سے زیادہ مال برآمد کروادے ،،، لیکن کسی طور یہ فضول خرچی انکا تقاضہ ہرگز نہیں کیونکہ وہ تو چاروں کھونٹ بینکار ہیں اور جہاں محض مسکان سے کام چل سکتا ہے وہاں قہقہہ بچا لینے کی کفایت کو ضروری گردانتے ہیں تاہم قاری کی اپنی اپنی ظریفانہ پیاس کی شدت مختلف بھی ہوسکتی ہے اور اسکے نتائج مختلف بھی ۔۔۔ ۔۔۔ انکی خوبی یہ ہے کہ کسی جملے میں انکے کسی ایک لفظ کو بھی ذرا ادھر ادھر کردیں تو سارا پیرگراف ہی لاوارث ہوکر عجب سی یتیمی کا شکار ہوجاتا ہے اور یوسفی کی دہلیز سے باہر کو جا بیٹھتا ہے تاہم کسی اور کا پھر بھی نہیں معلوم ہوتا مغل بچہ خواہ کوئی ایک آدھ صفت کھو بھی بیٹھے تب بھی نر بچہ ہی دکھتا ہے -
جس طرح حضرت جوش کے معاملے میں الفاظ الماری میں ٹنگے کپڑوں کی طرح خود کو برائے ملاحظہ و انتخاب پیش کیے دیتے ہیں - یوسفی صاحب کے یہاں بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ صرف مناسب نہیں بلکہ عین مناسب ترین الفاظ خود کو انکی تحریر کے لیئے چنے جانے کے لیئے بیقرار ہوکے ان سے درخواست گزار ہوئے ہیں - انکے ہاں آورد بھی آمد کی سی شان لیئے ہے اور بلا کی سادگی میں بھی غضب کی پرکاری ہے - ویسی معصومیت انکا شیوہ ہے جو صرف چشم حیرت میں بسیرا کرتی ہے اور یہی حیرت انکی نظر کو نئے رخ بھی دکھا دیتی ہے اور انکے توسط سے دوسروں کو دکھا بھی پاتی ہے
لیکن عظیم تر مزاح نگار ہونے کے باوجود انکے لبوں سے ہمہ وقت ظرافت کے زمزمے ابلتے نہیں دیکھے گئے ،،، ایک صاحب یوسفی صاحب سے ملاقات کے بڑے شائق تھے ملاقات ہوئی تو بعد میں انکے تاثر کا خلاصہ یوں تھا کہ "اس سے تو پہلے ہی بہت بہتر تھا " کیونکہ قوی گمان ہے کہ یوسفی صاحب کو کسی حکیم نے بچھے جانے والے انکسار اور ہر وقت کی فقرہ سازی سے پرہیز کسی نسخے میں لکھ کے دیا ہے
یوسفی کا مزاح بھی اک مستند و مشہور برانڈ سا بن گیا ہے لیکن اسے رولیکس کی گھڑی ، بالی کے جوتے اور رولس رائس کار جیسے برانڈز کے ذمرے میں پھر بھی نہیں رکھا جانا چاہیئے کہ ان سب چیزوں کی عمدگی بھی کبھی نہ کبھی کمپرومائز ہو ہی جاتی ہے

اردو ادب کے بےحد ذہین اور صاحب مطالعہ شاعر سلیم احمد مرحوم کی شاہکار نظم ' مشرق ہار گیا' ملاحظہ کیجیئے

مشرق ہار گیا
؂؂؂؂؂؂؂
کپلنگ نے کہا تھا
"مشرق مشرق ہے
اور مغرب مغرب ہے
اور دونوں کا ملنا نا ممکن ہے"
لیکن مغرب ، مشرق کے گھر آنگن میں آ پہونچا ہے
میرے بچوں کے کپڑے لندن سے آتے ہیں
میرا نوکر بی بی سی سے خبریں سنتا ہے
میں بیدل اور حافظ کی بجائے
شیکسپیئر اور رلکے کی باتیں کرتا ہوں
اخباروں میں
مغرب کے چکلوں کی خبریں اور تصویریں چھَپتی ہیں
مجھ کو چگی ڈاڑھی والے اکبرَ کی کھسیانی ہنسی پر
۔ ۔ ۔ ۔ رحم آتا ہے
(اقبال کی باتیں (گستاخی ہوتی ہیں
۔ ۔ ۔ ۔ مجذوب کی بڑ ہیں
وارث شاہ اور بُلھےَ شاہ اور بابا فرید ؟
چلئے جانے دیجیئے ان باتوں میں کیا رکھا ہے!
مشرق ہار گیا ہے
یہ بکسر اور پلاسی کی ہار نہیں ہے
ٹیپو اور جھانسی کی رانی کی ہار نہیں ہے
سن ستاون کی جنگِ آزادی کی ہار نہیں ہے
ایسی ہار تو جیتی بھی جا سکتی ہے (شاید ہم نے جیت بھی لی ہے)
لیکن مشرق اپنی روح کے اندر ہار گیا ہے!
قبلا خان تم ہار گئے ہو
اور تمہارے ٹکڑوں پر پلنے والا لالچی مارکوپولو
۔ ۔ ۔ ۔ جیت گیا ہے
اکبرِ اعظم ! تم کو مغرب کی جس عیارہ نے تحفے بھیجے تھے
اور بڑا بھائی لکھا تھا
اس کے کتے بھی ان لوگوں سے افضل ہیں
جو تمہیں مہابلی اور ظل اللہ کہا کرتے تھے
مشرق کیا تھا؟
جسم سے اوپر اٹھنے کی اک خواہش تھی
شہوت اور جبلت کی تاریکی میں
اک دیا جلانے کی کوشش تھی
میں سوچ رہا ہوں ، سورج مشرق سے نکلا تھا
(مشرق سے جانے کتنے سورج نکلے تھے)
لیکن مغرب ہر سورج کو نگل گیا ہے
" میں ہار گیا ہوں "
۔ ۔ ۔ ۔ میں نے اپنے گھر کی دیواروں پر لکھا ہے
" میں ہار گیا ہوں "
میں نے اپنے آئینے پر کالک مَل دی ہے
اور تصویروں پر تھوکا ہے
ہارنے والے چہرے ایسے ہوتے ہیں
میری روح کے اندر اک ایسا گہرا زخم لگا ہے
جس کے بھرنے کےلیے صدیاں بھی ناکافی ہیں
میں اپنے بچے اور کتے دونوں کو ٹیپو کہتا ہوں
مجھ سے میرا سب کچھ لے لو
اور مجھے اک نفرت دے دو
مجھ سے میرا سب کچھ لے لو
اور مجھے اک غصہ دے دو
ایسی نفرت ، ایسا غصہ
جس کی آگ میں سب جل جائیں!
۔ ۔ ۔ ۔ میں بھی

خوشیوں کو ترستی قوم کو یوں نہ چڑائیں ۔۔۔۔

( اگر آپ میرے اس مضمون سے متفق ہیں تو اسے آگے شیئر کریں اور اپنی رائے سے آگاہ کریں )
مہذب ملکوں کی حکومتیں اپنے عوام کو خوشیاں دینے کے مواقع ڈھونڈھتی ہیں اور ہماری شاہانہ مزاج حکومت اپنی رعایا کو چڑانے اور ذلیل کرنے کے بہانے تلاش کرتی ہے ۔۔۔ عید کے تیسرے دن کام پہ بلانے کا گھناؤنا عمل بھی انہی میں سے ایک ہے ۔۔۔ خوشیوں کو ترستے عوام کو خود حکومت تو اپنی کارکردگی سے کوئی حقیقی خوشی فراہم کر نہیں سکتی لیکن یہ احساس دلانا ضروریاد رکھتی ہے کہ عید کی خوشیاں بھی اب اسکے اشارہء ابرو کی محتاج ہیں کیونکہ یہ گویا ایک طرح سے حکم حاکم ہے کہ اب قوم حضرت ابراہیم کی سنت نہیں معاذاللہ حضرت نواز شریف کے حکم کو ترجیح دے اور اب تیسرے دن کی قربانی کو تو بھول ہی جائے ۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ میری اس تحریر پہ کیا ردعمل ہوگا ۔۔۔ کیونکہ سرکاری خوشامدیوں کے منہ میں ایسے جوابات ہمیشہ ہی بھرے رہتے ہیں کہ جن میں نری لفاظی کے سوا کچھ نہیں ہوتا لیکن اسکے باوجود جینیوئن سوالات ختم کبھی نہیں ہوتے ۔۔۔ میں بخوبی اندازہ کرسکتا ہوں کہ راگ درباری الاپنے والوں کی طرف سے یہ کہا جائیگا کہ " قوموں کی ترقی کی راہ میں یہ چھٹیاں حائل ہو جاتی ہیں اور یہ کہ ایک دن کام نہ ہونے سے قومی خزانوں کو اتنے ارب روپوں کا نقصان ہوجاتا ہے" جبکہ میرا تو یہ خیال ہے کہ جس طرح پی آئی اے، اسٹیل مل اور ریلوے بدترین خسارے سے دوچار ہیں اور ہر ماہ اس نقصان میں اربوں روپے کا اضافہ ہوتا رہتا ہے ، کسی ایک دن چھٹی کرنے سے شاید اس خسارے کے تاوان میں بھی کچھ کمی تو آہی جاتی ہوگی کیونکہ منافع یا آمدنی تو درکنار ہرماہ حکومتی خزانے سےان اداروں کو کئی ارب روپے انکے بنیادی اخراجات کو پورا کرنے کے لیئے سبسڈی فراہم کی جاتی ہے-
اس بات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس طرح کے سارے حکومتی اقدامات کا سارا اثر مختلف صنعتوں و ملازمتوں سے جڑے تنخواہ دار طبقے پہ ہی پڑتا ہے اور یہ طبقہ ہی وہ ہے کہ جسکی آمدنی پہ لگنے والے ٹیکسوں پہ سارا ملک اور سکے سب ادارے پلتے ہیں جبکہ سرکاری ملازموں کی تو بارہ مہینے ہی عید رہتی ہے ،،، ادھر زمیندار طبقہ تو کھاٹ پہ لیٹے لیٹے کمانے کا عادی ہے ۔۔۔ جبکہ اسکے ہاریوں کے لیئے کسی دن بھی چھٹی نہیں ہوتی ۔۔۔اگر فصل کی اگائی یا کٹائی کے دن ہوں تو کیا جمعہ اور کیا اتوار اور کیسی عید اور کہاں کی شب برات ۔۔۔۔ لے دے کے شہری صنعتی کارکنان ہی وہ گدھی ہیں کہ جن پہ حکومتی کمہاروں کا خوب بس چلتا ہے اوروہ بہانے بہانے سے جی بھر کے انکے کان مروڑے ہی چلے جاتے ہیں ۔۔۔ یہ لوگ ہی وہ طبقہ ہیں کہ جان توڑ محنت کرتے ہیں اور اپنے پیاروں کی زندگیوں راحت لانے کے لیئے اکثر دور دراز کے علاقوں میں ملازمتیں کرتے ہیں اور انکی خوشیوں کی معراج بس یہی عید بقرعید کے تہوار ہوا کرتے ہیں کہ جب ذرا سکون سے یہ اپنےپیاروں کے درمیان چند روز بیٹھ پاتے ہیں اور اپنے سنگی ساتھیوں کے ساتھ کچھ موج میلہ بھی کرپاتے ہیں لیکن ان حکومتی بزرچمہروں کو اس دودھ دینے والی گائے کی یہ مٹھی بھر خوشیاں بھی گوارا نہیں ہوتیں اور اپنا سارا حکومتی اختیار بجائے امن و امان قائم کرنے اور عدل و انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ، یہ لوگ خوشیاں چھیننے اور انکا ،منہ چڑانے میں ہی صرف کرتے دکھائی دیتے ہیں

جہانتک بات ہے اس طرح کی چھٹیوں اور معاصر دنیا کی تو دور کیوں جائیں اپنے پڑوسی ملک بھارت ہی کو دیکھ لیں کہ جہاں بہانے بہانے سے قومی تعطیلت کی بھرمار لگی رہتی ہے اور سیکولر ملک کہلانے کے سب وہاں ہندومت ہی نہیں اسلام ، عیسائیت ، سکھ ازم ، جین ازم اور پارسی مذہب تک کی خاص مذہبی چھٹیوں کو قومی تعطیلات کے طور پہ منایا جاتا ہے جبکہ دیگر قومی نوعیت کے دنوں کی چھٹیاں الگ ہیں لیکن گزشتہ کئی برس سے انکی اقتصادی نمو کی رفتار نہایت تیز یعنی 9 سے دس فیصد سالانہ کے لگ بھگ چلی آرہی ہے- اسی طرح اہل مغرب اپنی قومی یادگاری تعطیلات کے علاوہ ہفتہ بھر کرسمس کی چھٹیاں کرتے ہیں اور گڈ فرائی ڈے اور ایسٹر پہ بھی کئی چھٹیاں مناتے ہیں ۔۔۔لیکن ان سب چھٹیوں کی کسر وہ زیادہ اور بہتر کام کرکے نکال لیتے ہیں ۔۔۔ ہم بھی ایسا کرسکتے ہیں اور اگر کوئی چھٹی اضافی دینی بھی پڑجائے تو اسے دے ڈالیں اور بھلے اسکی کسر اگلے ایک ہفتے کے دفتری اوقات میں ایک گھنٹہ روز بڑھاکے پوری کرلیں لیکن اس مسرتوں سے محروم اور آسائشوں نہیں بنیادی ضروریات تک کے لیئے بلکتی اس قوم کو یوں مزید لاچار نہ کریں اور جو ایک آدھ زیادہ چھٹی وہ دور دراز سے آکے اپنے پیاروں کے ساتھ منا سکتے ہیں انہیں اس سے محروم نہ کریں 

اَجرامِ فلکی کی بابت اِسلامی تعلیمات

اِس کائناتِ ہست و بود میں اللہ ربّ العزت کی تخلیق کے مظاہر ناقابلِ شمار ہیں۔ اَجرامِ سماوِی اور ان مجموعہ ہائے نجوم کی ریل پیل کائنات کے حسن کو دوبالا کرتے ہوئے اُسے ایک خاص انداز میں متوازن رکھے ہوئے ہے۔ یہی توازن اِس کائنات کا حقیقی حسن ہے، جس کے باعث مادّہ (matter) اور ضدِمادّہ (antimatter) پر مشتمل کروڑوں اربوں کہکشاؤں کے مجموعے (clusters) بغیر کسی حادثہ کے کائنات کے مرکز کے گرد محوِ گردش ہیں۔ ان کلسٹرز میں کہکشاؤں کا ایک عظیم سلسلہ اور ہر کہکشاں میں اربوں ستارے اپنے اپنے نظام پر مشتمل سیاروں کا ایک گروہ لئے کُنْ فَیَکُوْن کی تفسیر کے طور پر خالقِ کائنات کے اوّلیں حکم کی تعمیل میں محوِ سفر ہیں۔
حرکت اِس کائنات کا سب سے پہلا اُصول ہے۔ حرکت میں برکت ہے اور برکت صرف حرکت میں ہے۔ حرکت کو ہی اِس کائنات میں حقیقی دوام اور ثبات حاصل ہے۔ حرکت زندگی ہے اور سکون موت ہے۔ کائنات کو اِس موجودہ حالت میں آئے 15 ارب سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ آج سے 15 ارب سال پہلے دراصل بگ بینگ (Big Bang) رُونما ہوا تھا جس سے کائنات کا اِبتدائی مادّہ ہر سُو بکھرا اور اُس کے نتیجے میں یہ سلسلۂ اَفلاک و اَجرام سماوِی وُجود میں آیا۔ تخلیقِ کائنات کا وہ عظیم لمحہ جب سے وقت کی دَوڑ شروع ہوئی نہایت عظیم لمحہ تھا۔ کُنْ فَیَکُوْن کا راز تخلیقِ کائنات کے سائنسی راز کے کھلنے پر ہی مُنکشف ہو سکتا ہے۔ مخلوق پر غور و فکر خالق تک رسائی کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے۔ اللہ ربّ العزت نے تبھی تو اپنے نیکوکاروں کے اَوصاف کے بیان میں فرمایا کہ میرے محبوب بندے وہ ہیں جو کھڑے اور بیٹھے ہر حالت میں مجھے یاد کرتے ہیںاور اُس کے ساتھ ساتھ کائناتِ ارض و سماء کی تخلیق میں بھی غوروفکر کرتے رہتے ہیں۔ کائنات کی تخلیق میں غور و فکر کرنے سے لامحالہ اُنہیں خالقِ کائنات کی عظمت کا اِدراک ہوتا ہے اور بات اِیمان بالغیب سے آگے بڑھ کر اِیقان تک جا پہنچتی ہے۔ اللہ ربّ العزت نے اپنے محبوب بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا :
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُوْلِي الْأَلْبَابِOالَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِO
(آل عمران، 3 : 190، 191)
بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور شب و روز کی گردِش میں عقلِ سلیم والوں کے لئے (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیںo یہ وہ لوگ ہیں جو (سراپا نیاز بن کر) کھڑے اور (سراپا اَدب بن کر) بیٹھے اور (ہجر میں تڑپتے ہوئے) اپنی کروٹوں پر (بھی) اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق (میں کارفرما اُس کی عظمت اور حسن کے جلوؤں) میں فکر کرتے رہتے ہیں، (پھر اُس کی معرفت سے لذّت آشنا ہو کر پکار اُٹھتے ہیں :) ’’اے ہمارے ربّ! تو نے یہ (سب کچھ) بے حکمت اور بے تدبیر نہیں بنایا، تو (سب کوتاہیوں اور مجبوریوں سے) پاک ہے، ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے‘‘o
پہلی آیتِ کریمہ میں حاملینِ عقل و شعور کے لئے تخلیقِ ارض و سماوات اور اِختلافِ لیل و نہار میں بھی اللہ ربّ العزت کی بے شمار نشانیوں کا ذِکر کرنے کے بعد دُوسری آیتِ کریمہ میں اللہ ربّ العزت نے اپنے محبوب بندوں کے اپنے حضور میں روز و شب کی طاعت گزاری اور تقویٰ کا ذِکر کیا اور اُس کے معاً بعد اُن کی دُوسری خوبی یہ بیان کی کہ وہ کائنات کی تخلیق و تشکیل میں غور و فکر کرتے ہیں اور اللہ کی تخلیق کے رازوں پر سے پردہ اُٹھتے ہی اُس کی بارگاہ میں سجدۂ شکر بجا لانے کو پکار اُٹھتے ہیں کہ ’’اے ہمارے ربّ! تو نے یہ (سب کچھ) بے حکمت اور بے تدبیر نہیں بنایا‘‘۔
ایک طرف قرآنِ مجید میں تخلیقِ ارض و سماوات کے رازہائے سربستہ سے پردہ اُٹھانے کا اِس قدر واضح حکم اللہ ربّ العزت کے محبوب و مکرم بندوں کے لئے موجود ہے اور دُوسری طرف دورِ حاضر کی جملہ کائناتی تحقیقات کے علمبردار بالعموم مغربی ممالک کے غیرمسلم سائنسدان ہیں۔ رہی بات مسلمانوں کی تو اُن کی علمی پسماندگی اِس نوبت کو جا پہنچی ہے کہ وہ اِس علم سے متعلقہ کوئی خبر بھی سن لیں تو اِس قرآنی علم کو غیروں کا علم قرار دے کر استغفرُاﷲ / نعوذُباللہ پڑھتے ہوئے کانوں میں اُنگلیاں ٹھونس لیتے ہیں۔ اللہ ربّ العزت کے محبوب بندوں کی صف میں شامل ہونے کے لئے اپنے ہی اَسلاف کا پروان چڑھایا ہوا علم اَغیار سے سیکھنا اور اُسے دوبارہ سے حرزِ جاں بنانا خالقِ کائنات کی حقیقی معرفت کے حصول کے لئے ایک لابدّی امر ہے۔
سرِدست اِس باب میں ہم چند اہم اَجرامِ سماوِی کا مختصر طور پر سائنسی اور قرآنی حوالوں سے تذکرہ کریں گے تاکہ قارئین پر یہ واضح ہو سکے کہ قرآنِ مجید علمِ فلکیات (astronomy) کے کتنے اہم راز ہمارے سامنے بے نقاب کرتا ہے اور ہم سے علمِ فلکیات کے سلسلے میں کیا توقعات رکھتا ہے۔
ستارے (Stars)
بھڑکتی ہوئی ہائیڈروجن (Hydrogen) اور ہیلئم (Helium) کے گولے جو ایک دُوسرے کے مابین لاکھوں کلومیٹر کا فاصلہ چھوڑے پوری کائنات میں ہر سُو بکھرے ہوئے ہیں۔ اُن کے اندر ہونے والی خودکار ایٹمی تابکاری ہر طرف نور بکھیرتی نظر آتی ہے۔ ستارے اپنے اندر جلنے والی گیسوں ہی کی بدولت اِس قدر روشن نظر آتے ہیں۔ جب کائنات کی اوّلین تخلیق عمل میں آئی تو بِگ بینگ کے نتیجے کے طور پر ہر سُو بکھرنے والے مواد سے گیسی مرغولوں نے جنم لیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی کثافت بڑھتی چلی گئی اور وہ نسبتاً کثیف اَجسام کی شکل اِختیار کرتے چلے گئے۔ گیس اور گَرد و غبار کے عظیم بادل کششِ ثقل سے اندرونی سمت سُکڑنا شروع ہو گئے جس سے ستاروں کو وُجود ملا۔ گیسی مرغولوں کے سُکڑنے کے اِس عمل میں ستاروں کے ایٹم باہم ٹکراتے اور رگڑ کھاتے رہے جس سے حرارت اور توانائی کا اِخراج شروع ہو گیا۔ جوں جوں کوئی ستارہ سُکڑتا چلا گیا توانائی کے اِخراج کا عمل اِسی قدر تیز ہوتا چلا گیا۔ مرکزی ایٹم شدید دباؤ کے تحت ایک دُوسرے کے قریب ہونے سے حرارت میں مزید اِضافہ ہوتا چلا گیا، یوں روشن و منوّر ستارے وُجود میں آ گئے۔
قرآنِ مجید میں ستاروں کے لئے ’’النُّجُوْم‘‘ اور ’’المَصَابِیْح‘‘ کا لفظ اِستعمال ہوا ہے۔ فرمایا :
وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ.
(الاعراف، 7 : 54)
اور سورج اور چاند اور ستارے (سب) اُسی کے حکم (سے ایک نظام) کے پابند بنا دیئے گئے ہیں۔
سورج، چاند اور ستارے سب اللہ ربّ العزت کے تخلیق کردہ نظامِ فطرت کے یکساں پابند ہیں اور اَحکامِ خداوندی سے سرِمُو سرتابی کی جرات نہیں کرتے۔ نظامِ فطرت ہی کی پابندی سے کائنات میں حسن ہے اور اگر یہ نظم نہ رہے تو کائنات درہم برہم ہو جائے اور قیامت چھا جائے۔ قیامت کا وُقوع بھی فی الحقیقت ایک ایسے ہی اَمر کا متقاضی ہے، جب ستارے باہمی فاصلہ برقرار رکھنے سے مُنحرف ہو جائیں گے اور اپنے مابین طے شدہ فاصلوں کو برقرار رکھنے کی بجائے منہدم ہوکر ایک دُوسرے سے جا ٹکرائیں گے۔ کششِ ثقل کا یہ توازُن جو آج جمیع کائنات کے حسن و نظم کو تھامے ہوئے ہے، بگڑے گا تو سب نیست و نابود (annihilate) ہو جائے گا۔
قرآنِ مجید بھی وُقوعِ قیامت کے ضمن میں ستاروں کی کششِ ثقل کا توازُن بگڑنے اور باہمی تصادُم پیش آنے کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :
وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْO
(التکوير، 81 : 2)
اور جب ستارے (اپنی کہکشاؤں سے) گِر پڑیں گےo
ستاروں میں موجود اِیندھن کے جل جل کر ختم ہو جانے پر اُن سے توانائی اور حرارت کا اِخراج ختم ہو جائے گا اور وہ بُجھ کر بے نور ہو جائیں گے۔
اِرشادِ ربانی ہے :
فَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَتْO
(المرسلت، 77 : 8)
اور جب ستارے بے نور کر دیئے جائیں گےo
ستاروں کا بے نور ہونا دراصل اُن کی زِندگی کا آخری مرحلہ ہے۔ یہاں ہمیں ایک ستارے کی شروع سے لے کر آخر تک مکمل زِندگی کا سمجھنا ضروری ہے۔ ستارے گیسوں سے مرکب ایسے گولے ہیں جو نیوکلیئر فیوژن سے پیدا شدہ توانائی کا اخراج کرتے ہیں۔ اُن کی پیدائش گرد اور گیس کے اُن بادلوں میں ہوتی ہے جنہیں نیبیولا (nebula) کہا جاتا ہے۔ نیبیولا یعنی سحابیہ دراصل کسی ستارے کی وہ اِبتدائی دُخانی حالت (gaseous stage) ہوتی ہے جس سے وہ تشکیل پاتا ہے۔ سحابیئے میں موجود گیس اور گرد و غبار کششِ باہمی کی وجہ سے آپس میں ٹکرا کر سکڑتے ہوئے پروٹوسٹار کو جنم دیتے ہیں۔ پروٹوسٹار کو ہم نیم ستارہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہی پروٹوسٹار اندرونی دباؤ کے تحت کثیف اور شدید گرم ہوتے چلے جاتے ہیں، بالآخر وہ اِتنے شدید گرم ہو جاتے ہیں کہ اُن کے اندر خودکار ایٹمی دھماکوں کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اَب ہم اُنہیں مکمل ستارہ کہہ سکتے ہیں۔
درمیانے درجے کے ایک ستارے کی زِندگی چند ارب سال کے قریب ہوتی ہے۔ یہ عام طور پر ہائیڈروجن سے بنے ہوتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہائیڈروجن جل جل کر ہیلئم میں تبدیل ہوتی چلی جاتی ہے۔ ہائیڈروجن سے ہیلئم میں تبدیلی کے عمل کے ساتھ ساتھ ہیلئم بھی شدید درجۂ حرارت کی بناء پر جلنے لگتی ہے اور ہائیڈروجن اور ہیلئم کے جلنے کا یہ دُہرا عمل ستارے کو اور بھی زیادہ گرم کر دیتا ہے۔ ہیلئم کی راکھ (یعنی کاربن) ستارے کے مرکز میں جمع ہوتی چلی جاتی ہے۔ جب ہیلئم بڑی مِقدار میں کاربن میں تبدیل ہو جاتی ہے تو ستارہ اچانک ایک دھماکے کے ساتھ پھول جاتا ہے، وہ اپنی اصل جسامت سے کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور اُس کا رنگ بھی سرخ ہو جاتا ہے۔ اِس حالت میں اُسے ’’سرخ ضخام‘‘ (red giant) کہتے ہیں۔ اُس کے بعد ستارہ ٹھنڈا ہونے اور سکڑنے لگتا ہے۔ اگر وہ ستارہ ہمارے سورج سے دس گنا بڑھ ہو تو وہ مرنے سے قبل ایک بار پھر سپرنووا کے دھماکے کے ساتھ پھٹتا ہے مگر یہ مرحلہ کچھ زیادہ دیر باقی نہیں رہتا اور مرتے ہوئے ستارے کی آخری ہچکی ثابت ہوتا ہے۔ اَب وہ ستارہ جلد ہی سیاہ شگاف (black hole) میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ( منقول )

ایدھی گئے تو کیا ٹرسٹ بھی گیا ۔۔۔؟؟؟

کتنے زود فراموش ہیں ہم لوگ ۔۔۔ ابھی جیسے کل ہی کی تو بات ہے کہ ہم نے 8 جولائی کو ایدھی کے انتقال پہ آنسؤوں کے دریا ہی بہا ڈالے تھے ۔۔۔ اور اس خادم انسانیت کے قائم کردہ ادارے کو ایدھی ٹرسٹ کو پورے وطن کا سائبان قرار دے رہے تھے اور یہ عہد کرتے سنے جارہے تھے کہ ہم اس عظیم ادارے کی پشت پہ کھڑے رہینگے اس کا ہاتھ تھامے رکھیں گے لیکن محض دو ہی ماہ میں ہم نے جیسے ان کی ساری خدمات کو بھلا دیا اور اب عالم یہ ہے کہ آج یہ خبر ملی ہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے نئے سربراہ فیصل ایدھی نے پریس کو بتایا ہے کہ اس برس ایدھی ٹرسٹ کو پچھلے برس کی نسبت قربانی کی کھالیں آدھی ملی ہیں ۔۔۔ یہ کوئی سنی سنائی ٹئپ کی خبر ہوتی تو میں کبھی یقین نہ کرتا ۔۔۔ کیونکہ اس سال تو عوام سے گن پوائنٹ پہ کھال چھیننے والے متحدہ کے شیر اب اپنی ذاتی کھال بچاتے پھر رہے ہیں ، لیکن یہ تو خود فیصل ایدھی کی جانب سے دیا گیا ایک باضابطہ بیان ہے ۔۔۔ یعنی یوں محسوس ہورہا ہے کہ عبدالستار ایدھی کیا گئے ان کے ادارے پہ سے ٹرسٹ بھی ختم ہوا ۔۔۔
اہل شہر کی زود فراموشی کے علاوہ اس کمی کی دوسری بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ متحدہ کا وحشیانہ خوف ختم ہونے کے بعد مختلف مدرسوں و فلاحی اداروں کی ٹیموں نے گھر گھر جاکر رابطے کیئے اور کھالیں جمع کرلیں جبکہ ایدھی ٹرسٹ نے ایسی گھر گھر رابطہ کاری کا کام نہ ہی پہلے کبھی کیا تھا اورنہ ہی اب کیا ہے ۔۔۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایدگی ٹرسٹ اس صورتحال کا تدارک کرے اور اور اہل شہر بھی اپنے فرائض سے پہلو تہی نہ کریں اواز خود اس ادارے کی مدد کریں ،،، جب اسکی کارکردگی پہ اعتماد ہے تو پھر یہ غرور کیسا کہ وہ مدد لینے گھر آئیں تبھی دینگے ،،، اسکے بجائے ہونا تو یہ چاہیئے کہ اگر ہر شہری ہر ماہ اپنی آمدنی میں سے ایک دو فیصد رقم بھی پابندی سے رقم ایدھی ٹرسٹ کو دینے کو اپنامعمول بنا لے تو یہ ادرہ اپنے فلاحی کام پوری آسانی سے کرسکے گا بلکہ انکا دائرہ اور بڑھ جائے گا اور رب کریم بھی یقینناً انکی آمدنیوں میں بہت اضافہ بھی فرمائے گا اور دیگر اجر بھی عطا کرے گا-
کوئی یہ بھی تو سوچے کہ اس طرح ایدھی فاؤنڈیشن کو بے یارو مددگار چھوڑدینے سے ان ہزاروں سسکتے افراد کا کیا ہوگا کہ جو اس ادارے کی خدمات سے مستفید ہو رہے ہیں اور جنکی غذا ہی نہیں دوا دارو تک کے اخراجات یہ عظیم فلاحی ادارہ برداشت کر رہا ہے ۔۔۔۔ آج ایدھی صاحب زندہ ہوتے تو اہل شہر سے پوچھتے کہ تم لوگ پہلے تو متحدہ کے خوف سے کھالیں دینے سے رکے رہتے تھے لیکن کیا اب خدا کا خوف بھی نہیں کہ انکے ادارے کی دستگیری پہ انحصار کرنے والے مجبور بلکتے محروم لوگوں کی ان سنی فریادوں پہ کان دھرا جائے

دل پٹھان ہوتا جا رہا ہے

نہانے کو جی نہیں کرتا
دل پٹھان ہوتا جا رہا ہے
جوتیاں گِھسیں کوئے یار میں
بہت نقصآن ہوتا جارہا ہے
الطاف صرف بکواس کرتا ہے
منہ کا جریان ہوتا جارہا ہے
پھر شادی کرے گا بڑھاپےمیں
اک یار عمران ہوتا جارہا ہے
گندم نہیں ، ہے فکر بال اگانےکی
وہ گنجا میاں برادران ہوتا جارہا ہے
کہا بیٹے کو بھیجو برائے جہاد
مولوی بولا توشیطان ہوتا جارہا ہے
سرفراز کی ہے گڈی چڑھی ہوئی
آفریدی حیران ہوتا جارہا ہے
عارف یہ کیسی نظم ہے بھلا
ہر اک شاعر پریشان ہوتا جارہا ہے

لاہور اور ڈیرہ غازی خان میں بھی بزم ظرافت قائم ہوگئی

الحمد للہ کراچی کے بعد چکوال اور اب لاہور اور ڈیرہ غازی خان میں بھی بزم ظرافت کی شاخیں قائم ہوگئی ہیں لاہور میں پروفیسر سلیم ہاشمی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ جو کسی تعارف کے محتاج نہیں کیونکہ وہ ملک میں اردو زبان کے نفاذ کے لیئے کی جانے والی جدوجہد کے مجاہد اعظم ہیں اور ساتھ ہی ساتھ نہایت بذلہ سنج علمی شخصیت ہیں دوسری طرف ڈیرہ غازیخان ڈویژن میں یہ ذمہ داری جناب یاسر شیخ کو دی گئی ہے کہ جو وہاں کے ایک نہایت متحرک سماجی شخصیت اور بہت معروف صحافی رہنماء ہیں اور اے آر وائی چینل سے منسلک ہیں ۔۔۔ ان دونوں حضرات سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہاں کے احباب کے تعاون سے مل جل کر اپنے علاقے کے اہل فکر و نظر، سماجی و علمی شخصیات ، اہل صحافت اور انتظامی افسران اور ذہین طلباء کو وقتاً فوقتاً کھانے کی نشست پہ مدعو کریں اور ہلکی پھلکی گپ شپ کے ساتھ قومی موضوعات پہ تبادلہء خیال کا اہتمام کریں اوریوں یہ حضرات باہم ملک و قوم کو درپیش مسائل کا حل کھوجنے کی کاوشیں کریںگے اور ہماری بزم کے یہ ڈویژنل صدور وہاں پیش کیئے جانے والے خیالات کا خلاصہ اور اہم وڈیو بائٹس سوشل میڈیا پہ پیش کریں گے اور یوں قوم کی ذہنی تربیت کا خاص اہتمام کرینگے- ضروری نہیں ہر بار کسی بڑی نشست کا انتظام کیا جائے لیکن ہر تین چار نشستوں میں سے ایک کو نسبتاً ذرا بہتر پیمانے پہ منعقد کرلیا جائے تو یہ اچھا رہے گا- دوسرے شہروں میں بھی بزم ظرافت کے قیام کے لیئے بھی درد مند اہل ذوق رابطہ کریں لیکن یہ واضح رہے کہ کسی حرام مال کی بل پہ نمایاں ہونے والے یا کسی دو نمبر بندے کی ہمیں مطلق کوئی ضرورت نہیں ہے
اللہ کریم ان مخلص حضرات قومی تعمیر و تربیت کے اس درد مندانہ عمل میں کامیاب کرے-
دوسری بات یہ کہ یہاں کراچی میں ہمارا دوسرا پروگرام سٹار مارکیٹنگ اور مین ہل ایڈورٹائزنگ کے چیئرمین واثق نعیم صاحب کی جانب سے اس پتے پہ جمعہ 30 ستمبر کی شب 8 بجے ہوگا اور جو ہم سے رابطہ کرے گا ان میں سے انتخاب کرکے ہی لوگوں کو مدعو کیا جائے گا- جیسا کہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں اور پھر دہرائے دیتے ہیں کہ ہماری بزم میں کسی فرقہ پرست اور انتہا پسند یا تعصبی کی کوئی گنجائش نہیں - ہر ماہ اس میں ہرشعبہء زندگی سے لوگ مدعو کیئے جاتے ہیں اور غیر رسمی ماحول میں گپ شپ بھی ہوتی ہے تھوڑی سی شاعری بھی سنی جاتی ہے لطائف بھی پیش کیئے جاتے ہیں اور ایک افسانہ یا مزاحیہ مضمون بھی سنایا جاتا ہے اور آخر میں ہلکے پھلکے انداز میں کسی قومی مسئلے یا سماجی موضوع پہ اظہار خیال بھی کیا جاتا ہے ۔۔۔ اور اس ہی کارروائی کے دوران ہی لذیذ کھانا بھی کھالیا جاتا ہے -یوں سمجھ لیجیئے کہ مصروفیت کے اس دور میں آپکواس بہانے زندہ دلی کی ایک مسکراتی شام میں نئےدوستوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے اس دوسری نشست میں طارق ٹونکی کی خطاطی کے شہکار نمونوں کی نمائش کے علاوہ ، ساحر لدھیانوی کی شاعری کے منتخب حصے ( امتیاز ملک) ، امین بھایانی کا افسانہ ( م ص ایمن) ، سلیم فاروقی کی 4 مختصر صدلفظی کہانیاں اور ایک مزاحیہ مضمون پیش کیا جائے گا اسکے علاوہ ایک اہم موضوع " انتہا پسندی کا خاتمہ کیسے ہو اس پہ جناب سلیم مغل اور عقل عباس جعفری کو مختصر اظہار خیال کی دعوت دی جائے گی 

آج کیا پکائیں ۔۔۔ ( طنز و مزاح )

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ کائنات کا سب سے اہم سوال کیا ہے تو نہ تو میں‌ آسمان و زمین کے وجود کی بابت پوچھے جانے والے کسی سوال کی جانب اشارہ کروں گا اور نہ ہی انسانی فطرت کے اسرار کے بارے میں کسی سوال کا حوالہ دوں گا ،،، گو یہ سوال بھی خاصے اہم ہیں لیکن اتنے اہم پھر بھی نہیں نہیں جتنا کہ یہ سوال کہ 
" بتائیں آج کیا پکائیں" 
اور یہ سوال میرے گھر میں کہ جسے میں اپنی کائنات کہتا ہوں تقریباً روز ہی اٹھتا ہے اور بلا ناغہ و باقاعدگی سے صبح ابھی جبکہ ناشتہ جاری ہی ہوتا ہے، بیگم اس سوال کا ہتھوڑا لیئے میرے سر پہ آموجود ہوتی ہیں‌ اکثر تو میں چپ چاپ نکل بھگتا ہوں لیکن کبھی کبھی نکل بھاگنے کے سبھی رستے مسدود ہوتے ہیں کیونکہ محض ڈیڑھ فٹ کے فاصلے پہ وہ ہتھوڑا بدست موجود ہوتی ہیں اور وہ یہ ہتھوڑا اس وقت تک برساتی رہتی ہیں کہ جب تک انکی سانس پھول نہیں جاتی یا وہ یہ سوال ہی بھول نہیں جاتیں ۔۔۔ لیکن بعد میں یاد آتے ہی پھر اسی سوال کا ہتھوڑا لیئے آدھمکتی ہیں اور مجھے درست طور پہ یوں لگنے لگتا ہے کہ مسئلہ کھانا پکانے سے زیادہ مجھے پکانے کا ہے کیونکہ انکے چلے جانے کے بعد میرے دل حزیں‌ سے اور منہ سے ویسی ہی مسرت انگیز سیٹی نکلتی ہے کہ جیسے خوب پکائی کے بعد پریشر ککر میں سے بجتی سنائی دیتی ہے - 
پھر میں یہ سوچنے لگتا ہوں کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ کچھ تکلیف دہ باتیں روز یا اکثر ہی کیوں ہوتی ہیں ، اور خوشگوار باتوں کو بار بار ہونے سے کیا موت پڑتی ہے ،،؟؟ پھر خود کو اس ڈھنگ سے سمجھاتا ہوں کہ " صاحب بس یوں سمجھیئے کہ کچھ نہ کچھ چیزیں اکثر گھروں میں روز ہوتی ہیں جیسے ملنسار لوگوں کے گھروں میں روز کوئی نہ کوئی کوئی مہمان آکے پڑ جاتا ہے ، یا جیسے کچھ سلگتے بلکتے لوگوں کے بدن میں روز ہی صبح سے کوئی نہ کوئی درد جنم لے لیتا ہے اور وہ یہاں وہاں جسم کے کسی کسی نہ کسی حصے پہ ہاتھ رکھے ہمیشہ درد سے کراہتے سنے جاتے ہیں تو عین اس طرح یہ سوال اٹھنا آپکے اپنے گھر کی چھوٹی سی دنیا کا مقسوم ہے اور اس پہ صبر کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں " لیکن کبھی کبھی خود کو سمجھانے کی یہ کوشش بے سود بھی رہتی ہے ۔۔۔ کیونکہ یہ وہ دائمی بلکہ قائمی مسئلہ ہے کہ جو روز ہی چڑاؤنا کیئے دیتا ہے اور مجھے بے طرح ڈستا ہے اور بیگم بھی تازہ دم ہوکے ہر صبح میرے عین سامنے اپنے اس سوالی مورچے پہ آکے ڈٹ جاتی ہیں اور بلا ناغہ گفتگو کی پٹاری کھول کے اس سوال کا ناگ برآمد کرتی ہیں اور پھریہ بین تادیر بجتی رہتی ہے کہ "بتائیے آج کیا پکائیں" ۔۔۔۔
ویسے یہ مسئلہ اک میرے گھر سے ہی مخصوص نہیں کیونکہ پیٹ تو سب کے جسمانی سامان کا لازمی حصہ ہے اور اسی لیئے اس سوال کا ہتھوڑا بھی روز ہی ہر ایسے شریف صاحب خانہ کے سر پہ جم کے برستا ہے کہ جو گھر میں ناشتے کی فاش غلطی کرتا ہے لیکن جو لوگ اس سوال سے بچنےکے لیئے ناشتے سے قبل ہی دفتر کے نام پہ کبھی نکل بھاگتے ہیں تو انکی زندگی ہر رات کے کھانے کے وقت ہی حرام کردی جاتی ہے اور وہ اس سوال سے بچ پھر بھی نہیں سکتے ۔۔۔ اس سوال سے ناوقف لوگ جو کہ محض کنوارے ہی ہوسکتے ہیں یا پھر ایک ماہ کے بعد ہی طلاق یا رنڈاپے کی نوبت تک پہنچ جانے والے ( کیونکہ عموماً پہلے ماہ کسی بھی طرح کی دلہن سے کام کرانے کا رسک نہیں لیا جاتا کہ اپنا دل اور کھانا دونوں جلائے گی ) - اس سوال والے معاملے میں عجب ستم یہ ہے کہ بظاہر تو یہسوال کوئی ایسا خاص گھمبیر معلوم بھی نہیں ہوتا بلکہ اس طرح کے سوال میں تو مخاطب کی عزت افزائی کا پہلو چھپا معلوم ہوتا ہے ۔۔ لیکن اس استفسار کی چبھن ، اس کی حدت اور شدت کا احوال وہی لوگ جانتے ہیں کہ جو ایک عدد بیوی کے حامل ہیں اور روز ہی اس سوال کی سولی چڑھائے جاتے ہیں - کوئی مرد اس سوال کا صحیح جواب دے پائے یہ کچھ یقینی بھی نہیں خواہ وہ آخری درجے کا ایک صلح جو اور مسکین سا شوہر ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس مسئلے میں صرف جواب دینا ہی ضروری نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس جواب کو بیگم کی طرف سے شافی و کافی باور کرلینے کی سند مل جانا بھی لازمی ہے اور یوں بیگم کا درجہء اطمینان تک پہنچ جانا ہی گلو خلاصی کی واحد شرط ہے -
میں دنیا بھر کی بات نہیں کرتا ، لیکن مجھے اپنی کائنات کے سب سے بڑے مسئلے کو پوری دلجمعی و مکمل تندہی سے حل کرنا ہوتا ہے اور وہ بھی ایسے عالم میں کہ بیگم اسکے حل ہونے تک سرپہ موجود رہتی ہیں اور اس سچائی سے تو ہر وہ شخص واقف ہے کہ جو کبھی نہ کبھی خود طالبعلم رہ چکا ہو کہ کوئی ذہین سے ذہین طالبعلم بھی امتحان میں پرچہ کا وہ سوال ڈھنگ سے حل نہیں کرسکتا کہ جو اگر اس دوران کوئی خشمگیں صورت لیئے کوئی ممتحن اسکے سر پہ ہی کھڑا رہے ۔۔۔ - اور پھر یہ سوال بھی تو وہ ہے کہ جس کے جواب میں نقل کی سہولت بھی موجود نہیں ۔۔۔ اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ بیگمات کے اس روزمرہ کے سوال کہ " آج کیا پکائیں" کے نتیجے میں انکی پکائی کا عمل کچن سے زیادہ کچن کے باہر سرانجام پاتا ہے اور کھانا پکنے سے بہت پہلے ہی ہم جیسے شوہر حضرات ضرور پک جاتے ہیں ۔۔۔ لیکن اور بیگمات کی طرح چونکہ میری بیگم کے لیئے بھی یہ مسئلہ کسی عالمی مسئلے سے بھی زیادہ اہمیت لیئے ہوتا ہے چنانچہ وہ مجھے اس میں کھینچ لینا عین ضروری بلکہ لازمی سمجھتی ہیں ، میں اپنی سی کوشش ضرور کرتا ہوں کہ انکے اس 'معمولی' سے سوال کا کوئی جواب ایک آدھ گھنٹے ہی میں دے سکوں لیکن میرا صبر اور میری بصیرت روز ہی اس آزمائش کا شکار رہتی ہیں - ائیے آج آپکو بھی اسکی اک جھلک دکھاتا ہوں
یہ دیکھیئے یہ میرے گھر کا کسی ایک دن کا صبح کا روٹین منظر نامہ ہے اور حسب معمول میری بیگم نے اس وقت مجھے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے اور یہی سوال کسی پتھر کی طرح مجھے کھینچ مارا ہے اور میں بدحواسی میں ادھر ادھر دیکھ رہا ہوں لیکن بدحواسی کو چھپانے اور پراعتماد نظر آنے کیلیئے میں بیٹھے بیٹھے ٹانگ ہلانا شروع کردیتا ہوں جس سے میرا پیر سامنے رکھی تپائی پہ لگ جاتا ہے اور اس پہ رکھی چائے کی پیالی فرش پہ گر پڑتی ہے اور پھر یہ منظر نامہ میری بےکلی کی صفات کو بیان کرنے سے عاجزالفاظ کے تابڑ توڑ استعمال اور شور سے جیسے یکایک بھر سا جاتا ہے ۔۔۔ صاف صفائی ہوجانے اور میری ہجو میں کئی بیانات دے چکنے اور میرے ارد گرد سے، ٹھیس لگنے کے امکان سے گر پڑنے والا سب سامان دور کردیئے جانے کے بعد یہ منظر نامہ وہیں سے جڑجاتا ہے کہ جہاں سے ٹوٹا تھا ،،،۔ 
" ارے اتنی دیر کیوں لگا رہے ہو سیدھی طرح کیوں نہیں بتادیتے کہ آج کیا پکے گا۔۔۔؟؟ بیگم نے غرانا شروع کردیا تھا ۔۔۔۔
کسی بڑے جھگڑے سے بچنے کے لیئے میں حسب عادت پہلے تو یہ کہ کر جان چھڑانے کی فوری تدبیر کا سہارا لیتا ہوں کہ بڑی فیاضی سے کہ اٹھتا ہوں " جو جی چاہے پکالو " لیکن اکثر یہ چال کامیاب نہیں ہوتی کیونکہ ادھر سے جواب میں یہ ارشاد ہوتا ہے کہ "چلو آج کھانے کو رہنے ہی دیتے ہیں" ۔۔۔۔ جس پہ میرے ہاتھ پیر پھول جاتے ہیں کیونکہ میں بھوک کا بہت کچا ہوں اور یہ "رہنے دیں" والے الفاظ گویا صور اسرافیل معلوم ہوتے ہیں تب میں بتیسی نکال کے کہتا ہوں کہ " آج آلو گوشت پکالو" ۔۔۔۔!
" لیکن وہ تو گزشتہ ہفتےہی پکایا تھا" ،،،، 
میں ایسے موقع پہ اپنے جبڑے بھینچ لیا کرتا ہوں تاکہ شروع ہی میں کوئی لفظ ایسا نہ نکل جائے جو میری ناگوری بالکل واضح کردے ۔۔۔ باوقار نظر آنے کی کوشش کرتے ہوئے کمرے میں ادھر سے ادھر نظر گھماتا ہوں پھر چھت کی طرف دیکھتا ہوں اور پھر بے بس نظر کھڑکی کی طرف جاتی ہے پھر کہیں سے کوئی اشارہ یا مدد نہ ملنے پہ بے بس ہوکے کندھے اچکا کے کہتا ہوں " بھئی کچھ بھی پکا لو "
۔۔۔۔' کچھ بھی ۔۔۔! یہ کونسی ڈش ہے بھلا کچھ بھی ؟ " بیگم نے گویا میری نقل اتاری
۔۔۔ "اچھا چلو دھوئیں والی مرغی بنالو "،،، میں نے دانت نکالے ۔۔۔ جس چیز کے دام گرے ہوں اسے پکوانے میں ہمیشہ بڑی مسرت پاتا ہوں ۔۔۔
"وہ تو گزشتہ ہفتےدس بارہ دن پہلے ہی پکی تھی " ۔۔۔ بیگم نے یاد دلایا 
" تو چلو اروی گوشت بنالو " ۔۔۔ میں نے ایک اور تجویز پیش کی 
" اسے تو گھر کے صرف آدھے ہی لوگ کھاتے ہیں ۔۔۔! " بیگم نے تاویل پیش کی 
نہاری بنا لو ۔۔۔ میں نے چمک کے کہا ۔۔۔
" وہ ابھی 4 دن پہلے ہی بنی تھی ۔۔۔ " بیگم نے وضاحت کی 
" اخاہ ۔۔۔ پائے بہت لذیذ بناتی ہو ،،، آج ہوجائیں پائے " ۔۔۔ میں نے تعریف کے رستے جان چھڑانے کی کوشش کی ۔۔۔
" خدا کا خوف کریں اتنا کولیسٹرول ہوتا ہے اس میں ،،، اور آپکا تو بلڈ پیشر بھی ہائی رہتا ہے،،، بیگم نے جیسے میڈیکل کی کتاب ہی کھول لی ۔۔۔
" اچھا مچھلی لے آؤں " ۔۔۔ میں نے گویا حد ہی کردی ۔۔۔
" اتنی گرمی میں ؟ ۔۔۔ اور پھر آپکو مچھلی کی پہچان بھی کہاں ہے !!‌ ،،، مچھلی کے نام پہ جو شے آپ لاتے ہیں وہ ہوتی تو مچھلی کی شباہت والی ہی ہے لیکن پہچانی بڑی مشکل سے جاتی ہے پھر چھانٹ کر پوری کوشش کرکے ایسی افلاطون مچھلی لاتے ہیں کہ کثرت فکر سے گوشت مکمل ناپید ہوگیا ہو بس کانٹوں کا انبار ہی رہ گیا ہو جیسے ۔۔۔ 
،،،آپکی لائی مچھلی اتنی باسی ہوتی ہے کہ پکتے ہوئے باس گلی کے آخر تک جاتی ہے ۔۔۔ میں اسے جیسے ہی کڑھائی میں ڈالتی ہوں دائیں بائیں کے گھروں سے نجانے کتنے لوگ کھانسنے اور بڑبڑانے لگتے ہیں ۔۔۔ 
شرمندگی کا یہ طولانی بیان بہت دیر جاری رہ سکتا تھا اگرمیں موضوع فوراً ہی نہ بدل دیتا ،،، 
" کیوں بیگم ۔۔۔ چکن کڑھائی اچھی رہے گی نا ،،، ؟ 
"‌پچھلی بار بنائی تھی تو زیادہ مزا نہیں آیا تھا آپکو ،،، ایک بار بھیئ تعریف نہیں کی تھی آپنے جبکہ ہمیشہ بہت تعریف کرتے تھے ۔۔۔ ! " 
تو اس سے کیا ہوا ۔۔۔۔؟ 
" میں نے تو بڑی شرمندگی محسوس کی تھی اور قسم کھالی تھی کہ اب ایک برس سے پہلے نہ بناؤں گی چکن کڑھائی ۔۔۔" 
" آخر ایک برس ہی کیوں ۔۔۔؟ " 
تاکہ اس کا کھویا ذائقہ بحال ہوجائے اور پرانے والے کی یاد بھول جائے 
" اچھا بریانی بنالو۔۔۔ یا پھر ۔۔۔۔ قورمہ بھی ہوسکتا ہے ،،،" مین منمنایا
" آخر کیوں یہ بار باربریانی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں آپ ؟؟ جب دیکھو بریانی ۔۔! ابھی اس مہینے ہی 4 شادی ولیموں میں یہی بریانی اور قورموں پہ توبڑھ چڑھ کے ہاتھ صاف کیا ہے آپنے " ۔۔۔ بیگم نے ہاتھ نچائے
"اچھا تو کوئی سبزی ہی بنالو ۔۔۔۔"
" مثلاً ۔۔۔! " 
" یہ کہ بھنڈی ایکدم ٹھیک رہے گی "۔۔۔ مجھے جیسے راہ سوجھ گئی تھی 
" لیکن آپکے دو بچے تو اسکی طرف آنکھ اٹھا کے بھی نہیں دیکھتے ،،،کیا انہیں بھوکا ماردوں ؟؟‌ بیگم غضبناک لہجے میں بولیں 
میں نے فوری اپنے ناخن تدبیر سے یہ گرہ کھولی " اچھا یوں کرو کہ آپ بھنڈی کو گوشت میں ڈالدو توسب بچے کھالیں گے "
" نہیں پھر تو بالکل نہیں کھائینگے ، گوشت بھی خوامخواہ ضائع ہوگا-"
میں تنگ آچکا تھا ،،، بیزاری سے کہا " تو کوئی اور سبزی پکالو۔۔۔‌" 
" مثلاً ۔۔۔! بیگم بھی تنگ آئی لگ رہی تھیں لیکن پھر بھی لہجہ مستحکم تھا ۔۔ 
"میرا خیال ہے لوکی مناسب ہے "،،، میں نے صلح جویانہ انداز میں مشورہ دیا ۔۔۔ 
" کیوں کیا چند دن پہلے جو لوکی پکائی تھی اسکا حشر یاد نہیں ؟؟ ،،، 4 دن تک ساری آپنے ہی کھائی تھی ،،، " بیگم نے یاد دلایا تو یکایک جھرجھری سی آگئی اور دفعتاً میرے رونگٹے یکدم کھڑے ہوگئے
" ،،، نہیں ،،، نہیں بھئی لوکی کو رہنے دو ،،، " 
بیگم نے لقمہ دیا ،،،" کدو اور ٹینڈے کو تو خود آپ بھی مارا باندھے ہی کھاتے ہیں ،،، پھر بچوں کے صبر کا امتحان کیوں لوں ؟؟ "
" میرا خیال ہے ابھی کوئی دال چاول ہی پکالیں تو بہتر رہے گا " ۔۔۔۔ میری آواز جیسے کنوئیں سے آئی ،،، 
" بچوں کو تو ایک ملکہ مسور کی کالی دال کے سوا اور کوئی دال نہیں بھاتی ، الٹ پلٹ کے وہی بار بار پکتی ہے ،،، اسے بھی کہاں تک پکاؤں "۔۔۔ بیگم ترنت بولیں 
" اچھا یوں کرو کے خشکہ ہی بنالو ،،،تمہارے خاص رائتے کے ساتھ کیا مزا دیتا ہے " میں نے مسکہ لگا کے معاملے کو نپٹانے کی کوشش کی
" اپنے کئی بچوں کو نزلہ زکام نے جکڑا ہوا ہے اور آپ کو چاول کی سوجھ رہی ہے وہ بھی دہی کے رائیتے کے ساتھ ۔۔۔ " بیگم نے جلے کٹے انداز میں وضاحت کی
" اوہو ،،، میں تو بھول ہی گیا تھا ۔" ۔۔ خوشدلی سے اپنی کوتاہی کا فوری اعتراف اکثر اچھے نتائج کا موجب بنتا ہے ۔۔۔ بیگم بھی ذرا دیر کو خاموش ہوئیں اور پھر ہاتھ نچاکے گویا ہوئیں،،، "اتنی دیر لگادی اور ابھی تک ایک ذرا سی بات نہیں بتاسکے آہ کہ آج کیا پکائیں "،،،
" چلو یوں کرو کے بچوں کو ہوٹل سے نہاری منگاکے کھلادو " ،،،، میں نے ایک آسان حل یہ سوچ کے پیش کیا کہ اس سے بیگم کو ابھی پکانے کے کام سے چھوٹ مل جائے گی تو دل کا نرم پڑنا یقینی ہے
"وہ جو منجھلے کا پیٹ چل پڑا تھا کیا بھول گئے آپ ۔۔۔ اس پہلے جو نہاری لائے تھے کتنی بھاری پڑی تھی سے ،،،بلکہ ھر ہم سب کو ،،،کتنے پریشان ہوئے تھے اسکے دستوں کی وجہ سے ،،، حیرت ہے آپکو یاد ہی نہیں جبکہ خود آپ کتنے دن ڈاکٹروں‌کے پاس لیئے لیےلئے پھرے تھے ! " بیگم کے لیئے میری یہ پکی پکائی رعایت رائیگاں ہی رہی 
" ارے بس ٹھیک ہے پھر ۔۔۔ ہوٹل نہیں مگر تم گھر ہی میں بنالو نہاری۔۔۔ " میں اوازار ہو چلا تھا 
" آپ خود ہی تو کہتے پھرتے ہیں ہر جگہ کہ نہاری تو بس ببن کے ہوٹل ہی کی مزاہ دیتی ہے ۔۔! " بیگم نے وار کیا 
میں زچ ہوکے بولا " بھئی کڑھی پکانے میں تو کوئی حرج نہیں ؟ "
" ابھی ڈیڑھ ماہ میں دوسری بار 2 ہفتہ پہلے ہی بنائی تھی تو بچے بسور رہے تھے کہ کیا ابا کی جیب کٹ گئی ہے ۔۔۔۔!! " بیگم کھوکھیائیں 
" ہائیں ،،، کیا تم نے بچوں کو ایسا بے لگام کردیا ہے بیگم !! ۔۔۔۔ ایسی زبان درازی ؟؟ توبہ توبہ ۔۔۔ باپ رے ۔۔۔میرا تو دل جل کے کباب ہوگیا ہے ۔۔۔ " میں نے ترش اور اونچے لہجے میں جھلا کے کہا
" ارے تو یوں گول گول کیوں گھماتے ہیں ،،، صاف کیوں نہیں کہتے کہ کباب بناؤ ،،، چلو ٹھیک ہے کباب بناتی ہوں ۔۔۔ بہت دن بھی ہوگئے ہیں ۔۔۔! "

مران کیا چاھتا ہے وزیر اعظم بننا || ؟؟؟؟ پیسہ ؟ ؟؟؟؟ شہرت ؟؟؟؟؟ کرپشن ؟ ؟؟؟؟

پاگل خان۔ ہٹلر خان۔ یوٹرن خان۔ زکوٰۃ خان۔کینسر خان۔ سونامی خان۔ یہودی خان۔ طالبان خان۔ اسٹیبلشمنٹ خان۔ یہ خان۔ وہ خان۔ کون ہے یہ بندہ جو اتنی ساری (آپس میں متضاد) برائیوں کا بیک وقت مجموعہ ہے؟ کیا کیا ظلم ڈھائے ہیں اس بندے نے اس ملک پر؟ 65 سال میں اس ملک کا بیڑہ ہی غرق کردیا ہوگا جو اتنے مختلف غلیظ ناموں سے پکارا جاتا ہے۔
اور کون ہیں اسے ان ناموں سے پکارنے والے؟ ملک و قوم کے وہ ہمدرد جنہوں نے 65 سال سے اس ملک کو ترقی کا گہوارہ بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ؟ وہ زرداری جس نے کبھی بھوکی ننگی قوم کے پیسوں سے گھوڑوں کو مربے نہیں کھلائے؟ وہ شریف خاندان جس نے قوم کی ہڈیوں سے گودہ تک نچوڑ کر دنیا بھر میں اربوں ڈالر کے کاروبار نہیں لگائے؟ وہ الطاف بھائی جس نے روشنیوں کے شہرمیں پچیس سال میں پچیس ہزار لاشیں نہیں گرائیں؟ وہ اسفندیار ولی جس نے پختون قوم کو اس کی تاریخ کے نازک ترین موڑ پر ساڑھے تین کروڑ ڈالر کے عوض نہیں بیچا؟ وہ فضل الرحمن جس نے بینظیر سے لے کر مشرف اور زرداری سے لے کر شریفوں تک ہر حکومت میں چند وزارتوں کیلئے اسلام کا پاک نام نہیں بیچا؟یہ سیٹھی، یہ میر شکیل، یہ ارسلان افتخار، یہ سب کے سب اس کے مخالف آخر کیوں ہوئے؟کیا اس وجہ سے کہ اس بندےنے قائد اعظم کے پاکستان کو پچھلے ۶۵ سال میں اس حال تک پہنچایا؟
اور کیا چیز ہے جو اس بندے کو بے چین رکھتی ہے؟ 65 سال کی عمر میں جبکہ لوگ اپنے بچوں کیساتھ پرسکون وقت گزارنا پسند کرتے ہیں، اس عمر میں یہ بندہ پاکستان کے طول و عرض میں دیوانوں کی طرح پھرتا ہے۔ آخر کیا چاہئیے اسے؟ اس کے مخالفین کہتے ہیں کہ اسے وزارت عظمیٰ کی طلب بے چین کیے ہوئے ہے۔ کیا واقعی؟ لیکن آخر وزارت عظمیٰ کی طلب کسی کو کیوں ہوتی ہے؟ پیسہ کے لئے؟ شہرت کیلئے؟ کرپشن کیلئے؟لیکن۔۔۔۔۔۔
پیسے کیلئے؟؟؟؟
لیکن پیسے کا تو اس بندے کو لالچ نہیں اور یہ دنیا جانتی ہےاور اس کی ساری زندگی اس امر کی گواہ ہے۔ اس نے تو اپنا کرکٹ سے کمایا ہوا اکثر پیسہ بھی اس ملک کے غریبوں کیلئے شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی میں جھونک دیا۔ پیسہ ہی چاہئیے ہوتا تو برطانیہ میں کسی کاؤنٹی ٹیم کی کوچنگ سنبھالتا اور ساتھ ہی کرکٹ میچوں میں کمنٹری سے کروڑوں کماتا۔ پیسہ چاہئیے ہوتا تو جمائمہ خان سے طلاق کے عوض ہی (برطانوی قوانین کے مطابق) اربوں وصول کرسکتا تھا
شہرت کیلئے؟؟؟؟
لیکن عمران خان سے زیادہ شہرت بھلا کس پاکستانی کو اللہ نے دی ہوگی ؟ وہ شخص کہ برطانوی شاہی خاندان جس کیساتھ اٹھنے بیٹھنے میں فخر محسوس کرتا ہے اور انڈیا سے ترکی اور ڈیووس تک بغیر کسی سرکاری عہدے کے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ واحد پاکستانی لیڈر ہے جس کو بیرونی دنیا میں کرپشن یا سوئس اکاؤنٹس یا بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے نہیں جانا جاتا بلکہ اس کا نام اچھے لفظوں میں لیا جاتا ہے۔ اب ایسےبندے کو بھلا مزید شہرت کی کیا ضرورت ہوگی؟
کرپشن کیلئے؟؟؟؟
لیکن کرپشن کا تو یہ بندہ روادار ہی نہیں۔ پختونخوا میں ایک سال سے حکومت ہے نا اس کی۔ کوئی کہہ سکتا ہے ایک پیسے کی کرپشن کی بات اس کے بارے میں؟ کوئی کارخانہ لگایا ہو اس نے؟ کوئی رشتہ دار سرکاری عہدوں پر لگوا دیا ہو؟ کسی کی سفارش کردی ہو؟ کوئی پلاٹ، کوئی بینک اکاؤنٹ، کوئی جدہ، ملائشیا، دبئی میں محل وغیرہ؟ نہیں۔ کچھ بھی نہیں۔ الٹا واحد پاکستانی لیڈر ہے جس کے اثاثے ہر سال پہلے کے مقابلے میں کم ہوتے جارہے ہیں (ورنہ تو لوگ ایم این اے بن کر ہی سات نسلوں کا انتظام فرما لیتے ہیں)
تو پھر؟ آخر کیا چیز اس بندے کو چین نہیں لینے دیتی؟
اس بندے کو سمجھنا ہو تو چند لمحوں کیلئے اپنے آپ کو اس کی جگہ رکھ کر آنکھیں بند کرکے سوچیں۔
کیا بھکاری بننا آسان ہے؟ کسی کے آگے جھولی پھیلانا اور سوالی بننا؟ اور وہ بھی اپنے فائدے کیلئے نہیں بلکہ قوم کے سسکتے ہوئے غریب مریض بچوں کے واسطے۔ وہ کیا چیز ہے جس نے اس آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ، پاکستانی تاریخ کے مشہور ترین کرکٹراور کامیاب ترین کپتان کو بھکاری بننے پر مجبور کیا؟ گلی گلی ، شہر شہر، گاؤں گاؤں ۔ اپنی عزت نفس کو پس پشت ڈال کر جھولی پھیلا کر، بھکاری بننے پر مجبور کیا؟ بیس سال سے یہ بندہ جھولی پھیلائے ملک اور بیرون ملک (صرف پاکستانیوں سے)
پاکستانیوں کیلئے بھیک مانگتا ہے۔کوئی اسے بھکاری ہونے کے طعنے دیتا ہے، کوئی زکوٰۃ خان کہتا ہے، کوئی کسی اور طریقے سے مذاق اڑاتا ہے لیکن یہ بندہ پھر بھی پیچھے نہیں ہٹتا۔ یہ آسان نہیں ہے۔ خدا کی قسم یہ آسان نہیں ہے۔قدم قدم پر دل کو مارنا پڑتا ہے ۔ اپنی عزت نفس ، انا اور فخر کا خون کرنا پڑتا ہے۔ یقین نہ آئے تو کبھی یہ کرکے دیکھ لیں۔ جھولی پھیلا کر کسی دن لوگوں کے سامنے کھڑے ہوں (وہ بھی اپنے لئے نہیں دوسروں کیلئے)۔ سرسید احمد خان نے علی گڑھ یونیورسٹی کیلئے اسی طرح جھولی پھیلائی تھی اور آج عمران خان ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے
نمل یونیورسٹی اور شوکت خانم کیلئے ایسا کرتا ہے۔کیا چیز ہے جوکسی بندے کو ایسےکام کرنے پر مجبور کرتی ہے

کیسے ہیں یہ بَھولے کہ سب بھُولے بیٹھے ہیں

انکی حیرانی پہ نہ جائیئے کہ ان سب کی مونچھوں پہ یکساں مقدار میں انسانی خون لگا ہوا ہے اور بلاشبہ عزیز آباد سے برامد شدہ اسلحہ انہی سب چوروں کا تھا ... کہ جو اب تین حصوں میں بٹ گئے ہیں کہ ان میں کچھ تو مصطفیٰ کمال اور ملک ریاض کی لانڈری میں دھو دھلا کے پاک کئے جارہے ہیں کچھ نے فاروق ستار کے ڈربے میں پناہ ڈھونڈی ہے اور وہاں اپنے جرائم کی گند سے لتھڑے پروں اور کلغیوں‌ کو انکے چرب زبانی کے لیسدار لعاب سے صاف و شفاف کروا رہے ہیں اور باقی چند وہ ہیں کہ سات سمندر پار مقیم پیر لندن کی چھتری تلے غٹر غوں کرتے سنے جارہے ہیں اور عرصے سے لندن میں پڑے پڑے فطرے زکاۃ کی رقوم سے شرابیں پی پی کے پاکستان میں بیٹھے مجرموں کو قتل و غارتگری کی مسلسل ہدایات دے رہے ہیں - لیکن سوال یہ ہے کہ مجرموں کے یہ گینگ کسے بیوقوف بنا رہے ہیں اور کسے یاد نہیں کہ ابھی سات آٹھ ماہ پہلے تک یعنی مارچ سے پہلے تک یہ تینوں گینگ ایک ہی تھے اور ایک ہی سفاک گینگسٹر کے فرمانبردارچیلے تھے کہ جو خود کو اس گینگسٹر کا زیادہ سے زیادہ وفادار ثابت کرنے کی کوششوں میں کوئی بھی گھناؤنے سے گھناؤنا کام بھی کر گزرتے تھے اور جو تین دہائیوں سے اس شہر نا پرساں میں کھلے عام آگ و خون کی ہولی کھیل رہے تھے اور چائنا کٹنگ بھتہ خوری و اغواء برائے تاوان کی ہر بڑی واردات کے شیئر ہولڈر مجرم تھے - اسی طرح جب 2010 میں الطاف حسین دہلی میں کھڑے ہوکر قیام پاکستان کو تاریخی غلطی قرار دے کر اس مملکت خداداد کے خلاف زہر اگل رہا تھا تب بھی یہ فیصل سبز واری اسکی تائید میں نستعلیق لہجے میں نستعلیق بے غیرتی فرمارہے تھے اور اس کے وکیل صفائی بن کے خوشامدانہ الفاظ کی برکھا برسا رہے تھے اور باقی تمام متحدہ رہنما بھی سب کے سب اس بکواسی ائد کی خرافات کے ہمنوا بنے ہوئے تھے اور اسی طرح ڈھئی برس بعد جب لندن میں رابطہ کمیٹی کے دو سینیئر ارکان نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی تفیش کے دوران متحدہ کی را سے فنڈنگ کا اعتراف بھی کر کیا تھا اور جسکی بابت آج مصطفیٰ کمال یہ کہتے ہیں کہ "ہاں مجھے یہ بات معلوم تھی اور یہ بات سچ ہے" تو پھر یہ فاروق ستار اینڈ کمپنی اور مصفیٰ کمال اور انکا حمایتی ریوڑ آخر کہاں مرے ہوئے تھے کہ جو ملک کی محبت میں تڑپ کے سامنے نہ آئے اور متحدہ قائد سے نفرت و بیزاری اور علٰیحدگی کا واشگاف اعلان کیوں نہ داغا ۔۔۔؟؟
میرا خیال یہ ہے کہ اصل گیم تو اب اس شہر کے شہریوں کے ساتھ کھیلا جارہا ہے اور مجرموں کی تقسیم در تقسیم سے ہر گروپ کو یہ موقع دیا جارہا ہے کہ وہ اپنے کھاتے کے جرائم دوسرے پہ ڈال دے یعنی گروپ الف اپنے جرائم گروپ ب اور ج پہ ڈال دے پھر گروپ ب یہی کام گروپ الف اور ج کے ساتھ کرے اور پھر ج بھی باق دو گروپوں پہ اپنا ملبہ ڈالدے یوں اتنی دھول اڑے کہ کہ کچھ بھی پہچاننا آسان نہ رہے اور بالآخر سبھی مجرم معصوم قرار پاجائیں ۔۔۔ لیکن چند جعلی افلاطون آخر ایسا کیوں سمجھتے ہیں کہ اس شہر کے رہنے والے تمام کے تمام اندھے ہیں اور ان تمام تیس برسوں میں آپس میں پوری طرح ملکر بلکہ مکمل متحد و یکجان رہ کر کام کرنے والی جرائم کی اس مافیا کو نہیں پہچانتے اور جسنے گزشتہ تیس برسوں میں کراچی میں وحشت و دہشت کی وہ وہ سنگدلانہ کارروائیاں کی ہیں کہ عالمی دہشتگردی کی کوئی بڑی سے بڑی مافیاء بھی یہ کام اتنے بڑے پیمانے پہ ہرگز نہیں کرسکتی تھی ۔۔۔ یاد رکھیئےکہ جوانی میں کیا جرم وہ چسکا ہوتا ہے کہ کسی طور چھڑائے نہیں چھوٹتا اور وہی مثل صادق آتی ہے کہ " چور چوری سے جائے ، ہیرا پھیری سے نہ جائے اس لیئے لازم ہے کہ ہر مجرم قانون کے کٹہرے میں لاکے کھڑا کیا جائے ۔۔۔۔ اور جہانتک بات ہے اسلحہ کی بہت بھاری مقدار میں برآمدگیوں کی تو صاف ظاہر ہے کہ اسلحہ شب برآت کے لیئے نہیں ریاست پاکستان سے جنگ کے لیئے تھا ۔۔۔۔ کیونکہ پاکستان میں جہاز بھلا کس جماعت کے پاس ہیں کہ انہیں مار گرانے کے لیئے متحدہ نے یوں اینٹی ایئر کرافٹ گنوں کا اہتمام کیا ۔۔۔۔ محض پتنگوں کے بوکاٹا کے لیئے تو یہ سب سینت سنبھال کے رکھا نہیں گیا تھا اور پھر یہ بھی تو دیکھیئے کہ کیا برآمد نہیں ہوا بدھ کے چھاپے میں ۔۔۔۔۔ 2 ہزار بندوقیں اور پستولیں درجنوں کلاشنکوف اور درجنوں اسٹین گن ، ماؤزرگنیں ، راکٹ لانچر ، ہینڈ گرینیڈ اور لاکھوں گولیاں ،،،-بیشک اتنی ساری بڑی مقدار میں یہ گولہ بارود نہ تو یہاں ایک دن میں اکٹھا ہوا ہوگا اور نہ ہی کسی دو چاربندوں نے اسکو یہاں‌ چھپانے کا اتنا بڑا اہتمام کیا ہوگا اور نہ ہی لندن سکریٹیریٹ والوں نے خود یہاں آکر یہ اسلحہ یہاں چھپایا گیا ہوگا ،بلکہ ان جرائم کے سرغنہ حضرات نے لندن بیٹھے بیٹھے یہاں‌ اپنے ان ہی لوگوں سے کام لیا ہوگا کہ جو چولا بدلنے اور انتظامیہ کو دھوکہ دینے میں مہارت تامہ رکھتے ہیں اور ایک اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ اس میں سے زیادہ تر اسلحہ نیٹو افواج کے اسلحے کے طور پہ پہچان لیا گیا ہے کہ جسکے کئی کنٹینر بندرگاہ ہی پہ خالی پڑے دکھتے ہیں اور جسکی نگراں وزارت یعنی پورٹ اینڈ شپنگ کو متحدہ نے خصوصی طور پہ گود لیئے رکھا
وزارت پورٹ اینڈ شپنگ نے اس اسلحے کی ترسیل کے لیئے جو گھناؤنا کردار ادا کیا وہ خود ایک باقاعدہ تحقیق کا موضوع ہے اور اسکی باضابطہ تفتیش کی جانی چاہیئے - یہ بھی معلوم کیا جانا چاہیئے کہ آخر یہی وزارت متحدہ کو اس قدر پسند کیوں آئی کہ اسنے ہر دور میں اسے حاصل کیئے رکھا اور آخر کیوں اسکی وزارت کا قرعہ صرف بابر غوری ہی کے نام کیوں نکلا اور کیونکر یہی بابر غوری جو کبھی جیکب لائنز کے 2 کمروں کے سرکاری مکان کے مکین تھے اور ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ کے بکنگ کلرک اور بعد ازاں مینیجر تھے ، دیکھتےہی دیکھتے آخر کس کیمیا گری سے ارب پتی بن گئے ۔۔۔ یہ پڑتال بھی ضرور کی جانی چاہیئے کہ مختلف وقفوں میں پی این ایس سی بلڈنگ کے اسی فلور پہ بار بار کیسے آگ لگنے اور ریکارڈ بھسم ہوجانے کے واقعات رونما ہوتے رہے کہ جس فلور پہ اس وزارت کے دفاتر تھے اور سارے گھپلوں کی کہانیاں خاک بناکے اڑادی جاتی رہیں ۔۔۔؟؟ یہ بات بھی کوئی نئی نہیں اور اخبار پڑھنے والے ہر فرد کے علم میں ہے کہ نیٹو کے اسلحہ بردار کنٹینرز کے چوری ہونے کی بات گزشتہ کئی برسوں میں متعدد مرتبہ ابھرتی رہی ہے لیکن دبائی اس لیئے جاتی رہی ہے کیونکہ ہر حکومت نے اسے اپنے سیاسی مفاد میں استعمال میں کیا ہے اور اسکے ذریعے متحدہ سے بنائے رکھنےمیں ہی عافیت جانی ہے اور یوں ہر دور میں اسکی کئی سیٹوں کی طاقت کو اپنی سیاسی قوت میں استحکام اور اپنے حریفوں سے سودے بازے کی صلاحیت میں اضافے کے لیئے استعمال کیا ہے
اب جبکہ عزیز آباد کے ایک مکان سے بھاری مقدار میں اسلحے کی برآمدگی ہوچکی ہے تو اک ذرا بے احتیاطی سے یا اسٹیبلشمنٹ کے کسی اندر سے ملے ہوئے آدمی کی چالبازیوں کے تحت یہ سفاک حقیقت بھی مضحکہ خیز اور ناقابل یقین کہانی میں بدلتے دیر نہیں لگے گی کیونکہ ایسا پہلے بھی متعدد بار ہوچکا ہے ،،،اسکی تازہ مثال گزشتہ برس 11 مارچ 2015 کو نائن زیرو پہ چھاپے سے ولی خان بابر کے سزا یافتہ قاتل فیصل موٹا اور درجنوں کے قتل میں ماخوذ عبید کے ٹو کی برآمدگی اور غیر ملکی اسلحہ کے پکڑے جانے کی ہے ،،، کہ اسکے بعد اس وقت کی متحدہ کو کالعدم کرنے کی واجب قانونی کارروائی کا آغاز کیئے جانے کے بجائے اسے اگلے ماہ 22 اپریل کو ہونے والے این اے 246 عزیزآباد کے ضمنی الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی گئی اور بلاشبہ یہ اجازت مملکت پاکستان کے مفاد سے سنگین ترین غداری کے مترادف تھی اور پھر حسب توقع متحدہ نے اس اجازت کو بھی اپنے حق میں یوں استعمال کیا کہ "دیکھا ہم سچے تھے اور یہ چھاپہ جعلی تھا ورنہ یہ ہمیں الیکشن لڑنے کیسے دیتے" اور یوں یہ پروپیگنڈہ اس قدر موثر ثابت ہوا کہ بہکائے گئے عوام نے بیلٹ بکس بھر ڈالے اور یوں اسٹیبلشمنٹ کے ان خاص بقراطوں اور امریکی ایجنٹوں کی یہ چال کامیاب رہی کے انہوں نے اپنے ملک ہی کی مسلح افواج کے ایک ذیلی ادارے کی ساکھ کو مشکوک بناکے رکھ دیا- لیکن مشتری ہوشیار باش ،،، ابکے لازم ہے اور احتیاط رہے کہ یہ غلطی اب ہر گز ہر گز نہیں دہرائی جانی چاہیئے اور کسی طور پہ بھی کسی گروہ کی سرپرستی کا تاثر ابھرنا نہیں چاہیئے ،،، کیونکہ ان سب کے منہ و جبڑوں پہ انسانی خون لگا ہوا ہے ، اور ان سب کو لوٹ کا مال بگوٹنے اور ڈکارنے کی عادت پڑی ہوئی ہے ،،، یہ بات یقینناً بہت اچھی ہے کہ آرمی چیف نے صاف طور پہ یہ کہ دیا ہے کہ ہم کسی گروپ کے سرہرست نہیں ہیں لیکن محض یہ کہ دینے سے مصطفیٰ کمال گروپ کا یہ تاثر یکایک ختم نہیں ہوسکتا کہ ' معافی کی اصلی چھتری انہی کے پاس ہےاور جو اسکےنیچے آجائے وہ معصوم قرار دلوادیا جائے گا" اور یہ بھی ہے کہ بدقسمتی سے کئی ایسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں کہ جن سے یہ تاثر اور پختہ ہوسکا ہے-
آخر میں یہی عرض ہے کہ اس بار گزشتہ غلطیوں سے اجتناب کرتے ہوئے کہ یہ تینوں گروہ اپنے کرتوتوں کے اعتبار سے بالکل ایک جیسے ہیں , یہ کامل یقین رکھ کے حکمت عملی ترتیب دی جانی چاہیئے کہ مجرموں کا یہ ٹولہ 30 برس سے زائد عرصے سے الطاف کی زیر قیادت ہونے والے ہر ہر جرم کا برابر سے شریک ہے اور یکساں طور پہ ذمہ دار ہے اور اب کسی بھی گروپ کے مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے میں دیر نہیں کی جانی چاہیئے اور بہر صورت تمام گروپوں کے رہنماؤں سمیت انکے اندر موجود مجرموں کے ساتھ بلکل یکساں سلوک کیا جانا چاہیئے ۔۔۔ وگرنہ ہوگا یہ کہ بلدیہ ٹاؤن جیسے سنگین واقعات آئندہ بھی ہوتے رہینگے اور یہ تین سو سوختہ لاشیں بلکہ اس سے قبل گرائی جانے والی ہزاروں لاشیں یو نہی انصاف کی منتظر رہیں گی اور مایوس عوام میں ان اقدامات کو بوگس جان کر ان کا مذاق آئندہ بھی اڑایا جاتا رہے گا اورشہری سندھ یونہی ان غنڈے بدمعاشوں کے ہاتھوں محصور رہے گا اور متحدہ اپنا منجن کامیابی سے یونہی بیچتی رہے گی-

میانداد نے کلہاڑی ہی پیر پہ نہیں ماری ، خود تلاش بھی کی ہے ۔۔ ؟؟

شاہد آفریدی نے جاوید میانداد کو قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کیا ہے اور یوں سمجھیئے کہ پرسکون ریٹائرڈ زندگی اور کمائی ہوئی عزت کو اینجوائے کرتے اس لیجنڈ کرکٹر کی اپنے ہی ہاتھوں کمبختی آگئی اور وہ جذبات کی رو میں بہ کے ایک ایسے تننازع میں الجھ بیٹھے کہ اگر تلافی کی فوری اور تیز تر کوششیں نہ کی گئیں اور نہایت احتیاط اور ہوشمندی سے کام نہ لیا گیا تو اس قضیئے کا انجام انکی بے عزتی و پسپائی پہ ہونا یقینی ہے ۔۔۔ واضح رہے کہ میں میانداد کا بہت قدردان رہا ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ ان جیسا زیرک اور کرکٹنگ سینس رکھنے والا کھلاڑی پاکستانی کرکٹ میں کوئی دوسرا نہیں آیا ،،، وہ ایک دو نہین متعدد بار مرد بحران ثابت ہوئے اور کئی مرتبہ اپنے بلے کی ہنرمندی سے انہوں نے نتائج پاکستان کے حق میں بدل ڈالے- میں ایک بار1987 میں ریڈیو پاکستان کے ایک گرینڈ کرکٹ کوئز مقابلے میں فاتح بنکے ان سے انعام بھی پا چکا ہوں کے جہاں وہ بطور مہمان خصوصی مدعو تھے ۔۔۔ لیکن کیا کیا جائے کہ مقطع میں آپڑی ہے سخن گسترانہ بات ۔۔۔ جہانتک افریدی کا معاملہ ہے میں نے دو برس قبل ہی 3 کالموں میں انہیں مشورہ دیدیا تھا کہ وہ اب ٹیم پہ مزید بوجھ نہ بنیں اورعزت و آبرو سے رخصتی کا فیصلہ کرلیں بصورت دیگر بہت برے دنوں کا سامنا کرنے کے لیئے تیار ہوجائیں ۔۔۔ کیونکہ وہ ایک طویل عرصے سے اس معمول کو اپنائے ہوئے تھے کہ اوسطاً 14 میچوں میں اپنی نہایت بری پرفارمنس کے بعد کسی ایک میچ میں کچھ اچھا کردکھاتے تھے اور ٹیم میں کئی میچز تک موجود رہنے کو یقینی بنالیتے تھے یوں اس ایک میچ کا بھگتان اس قوم کو اگلے متعدد میچوں تک بھگتنا پڑجاتا تھا ۔۔۔
کوئی بھی تجزیہ نگار اگر شاہد آفریدی کے کرکٹنگ کیریئر کا جائزہ لے تو وہ دانتوں میں اپنی انگلیاں داب لے گا کے اس قدر پست پرفارمنس کے بعد بھی یہ صاحب ٹیم میں شامل ہی کیسے رہ پائے ۔۔۔ اس سبب میں نے انہیں بروقت ریٹائرمنٹ کا مشورہ بھی دیا تھا لیکن میرے اس مشورے پہ تو انہوں نے کان کیا دھرنا تھا البتہ انکے چند جذباتی مداح مجھ سے ناراض ضرور ہوگئے اور بالائے ستم یہ ہوا کہ اس دوران آفریدی نے لال مسجد کے قاتل اور امریکہ کے ہاتھوں پاکستانی ناموس کی فروخت کے مجرم پرویز مشرف سےایک نہایت خوشامدانہ و نیاز مندانہ ملاقات کرڈالی اور یوں اپنی دانست میں اپنے ڈوبتے کیریئر کو 'عسکری حمایت' کی طاقت کا تڑکا لگانے کی بھی کوشش کی لیکن انکی اس ڈیڑھ ہوشیاری کا نتیجہ یہ نکلا کہ وطن عزیزکی تباہی کے اس سب سے بڑے ذمہ دار سے شدید نیازمندی دکھا کر وہ اپنے ایسے بہت سے حامیوں کی محبت کھو بیٹھے جو پرویز مشرف سے شدید نفرت کرتے ہیں اور وہ یہ سمجھنے پہ مجبور ہوگئے کہ لالہ ایک نہایت مفاد پرست شخص ہے جو اپنی غرض کی تکمیل کے لیئے کسی حد تک بھی گر سکتا ہے-
میانداد کیلئیے قدردانی رکھنے کے باوجود ایسا نہیں ہیں کہ وہ کسی بھی تنقید سے مبرا ہیں کیونکہ لوگوں کی یادداشت اتنی کمزور نہیں کہ وہ یہ بھول جائیں کے خود انہوں نے کرکٹ اس وقت ہی چھوڑی تھی کہ جب انکا بیڈ پیچ بہت ہی طویل ہوگیا تھا اور وہ بہت عرصے سے اسکور کرنے سے قاصر چلے آرہے تھے اور ایسے میں جیسے تیسے زبردستی کرکے انہوں نے 1996 والا ورلڈ کپ بھی کھیل لیا تھا کہ جس میں انکی کوئی جگہ نہ بنتی تھی ، اور مجھ جیسے انکے بہتیرے مداح یہ محسوس کرنے لگے تھے کہ اب انہیں عزت سے یہ میدان چھوڑ دینا چاہیئے ۔۔ میں یہ بی سمجھتا ہوں کہ آفریدی نے پیسے کی محبت کے حوالے سے جو کچھ انکے بارے میں کہا ہے وہ اگر مکمل صحیح نہیں تو مکمل غلط بھی نہیں ۔۔۔ میانداد ایک طویل عرصے تک پی سی بی کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پہ متمکن رہے ہیں اور ساڑھے سات لاکھ روپے کی خطیر تنخواہ سے انہوں نے اس منصب کو جوائن کیا تھا لیکن اس تمام عرصے میں انہوں نے قومی کرکٹ کی نشوونماء اور بہبود کے لیئے کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھائی اور کرکٹ کے قومی ٹیلنٹ کو تلاش کرنے اور آگے لانے میں بھی یکسر ناکام رہے ۔۔۔ اس دوران پی سی بی کے کتنے ہی سربراہ آئے اور ناکام گئے لیکن انکی سیٹ پکی رہی اور کوئی انکا احتساب نہ کرسکا اور اس عرصے میں پاکستانی کرکٹ زوال کی بدترین حالت کو جاپہنچی تھی یہاں یہ بھی واضح کردوں کہ موصوف نہایت عمدہ کھلاڑی ہونے کے باوجود پاکستانی کرکٹ کے ناکام ترین کپتانوں اور غیر موثر کوچز میں شمار کیئے گئے ہیں اور ان شعبوں میں انکی جادوگری ملک و قوم کے کبھی مطلق کام نہ آسکی-
میانداد وہ خوش نصیب کھلاڑی ہیں کہ جو قطعی طور پہ یہ گلہ نہیں کرسکتے کہ قوم نے انہیں انکی خدمات کا مناسب صلہ نہیں دیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ 18 اپریل 1986 کو آسٹریلشیا کپ کے فائنل میں بھارت کے خلاف لگائے گئے انکے چھکے سے انہیں قوم کی طرف سے جو ستائش ملی اور ان پہ جس قدر خطیر انعامات کی برسات کی گئی ، دنیا بھر میں اس وقت کرکٹ کی دنیا میں ایسی شاندار پزیرائی کا یہ واحد واقعہ تھا ۔۔۔ وہ اب پرسکون انداز میں اچھے بھلی ریٹائرڈ زندگی کو اینجوائے کرتے چلے آرہے تھے اور انہیں قطعیطور پہ کسی ایسے تنازعے کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہیئےتھا اور اس بار اگر وہ آفریدی کو اگر یہ کہ کر مشتعل نہ کرتے کہ " آفریدی پیسے کی وجہ سے فیئرویل میچ مانگ رہا ہے " تو جواباً آفریدی بھی ان پہ یہ وار نہ کرتا کہ " میانداد کے ساتھ ہمیشہ پیسوں کا مسئلہ رہا ہے اور اب بھی ہے" اور آفریدی تو پھر بھی یہاں تک آکے آکے نہ بڑھا مگر میانداد نے تو حد ہی کردی اور پاکستانی کرکٹ کے سب سے بڑے لیجینڈ ہونے کے باوجود آفریدی پہ میچ فکسنگ کا الزام لگاکے خود اپنے لیئے ہی بہت بڑا سا گڑھا کھود بیٹھے ،،،
میری دانست میں انہوں نے شاہد آفریدی پہ میچ فکسنگ کا سنگین الزام لگا کے بہت بڑی حماقت بلکہ سنگین غلطی کی ہے کیونکہ اس سے دو اہم سوالات نے جنم لے لیا ہے ۔۔ ایک تو یہ کہ ان میچوں کی فکسنگ کے ثبوت کہاں ہیں ،،؟؟ گویا انہیں اب لازمی اس الزام کے حق میں ثبوت فراہم کرنے پڑینگے اور وہ ایسے آسانی سے بچ نہیں سکیں گے تو دوسری طرف ان کو اس سوال کا جواب بھی دینا پڑے گا کہ اگر آفریدی کے میچ فکسنگ کی بابت انہیں علم تھا تو انہوں نے اسے کیوں چھپایا۔۔! اور وہ ابتک کیوں خاموش رہے۔۔؟؟ کیونکہ ملک و قوم کے مفاد کے برعکس ایسی پردہ پوشی کرنا تو خود اعانت جرم کے مترادف ہے ۔۔۔ مجھے اس بابت کوئی شبہ نہیں کہ انہیں میچ فکسنگ والے سوال کا جواب دینا تو یقینناً بہت مشکل ہوگا ہی لیکن اس مبینہ میچ فکسنگ کو چھپائے رکھنے سے متعلق دوسرے سوال کا جواب دینا تو ان کے لیئے قطعی ناممکن ہوگا اور یوں انہیں جلد ہی اندازہ ہوجائیگا کہ نہ صرف انہوں نے اپنے پیروں پہ خود ہی کلہاڑی مارلی ہے بلکہ اسکے لیئے کلہاڑی تلاش بھی خود ہی کی ہے 

کراچی والوں کے نصیب میں کیا یہی ہے۔۔۔ اگر چور نہیں تو گرہ کٹ ۔۔؟؟

خدا جانے کراچی والوں کی سزا کب ختم ہوگی ۔۔۔ پیشہ ور چور پیچھے ہٹے ہیں تو ماہر گرہ کٹ آن بیٹھے ہیں اور پس منظر میں لائن میں لگے چند مستند ٹھگ بھی موقع کی تلاش میں رال ٹپکاتے صاف نظر آرہے ہیں ۔۔۔ لیکن شہر والوں نے غلطی بھی تو اتنی ہی بڑی کی تھی نا ۔۔۔ وہ کتنے طویل عرصے تک رسول خدا کے اس فرمان کا کھلم کھلا اپنے عمل سے مذاق اڑاتے رہے کہ جس میں صاف صاف یہ کہا گیا ہے کہ " جس نے ایک انسان کا خون بہایا اس نے ساری انسانیت کا خون کیا " مگر پھر بھی یہاں کے شہریوں کی بھاری اکثریت یہ سب جاننے کے باوجود قاتلوں کے اس سفاک گروہ کے حق میں باقاعدگی سے ووٹ ڈالتی رہی اور بلند ایوانوں میں پہنچاتی رہی کہ جس کے ہاتھ سینکڑوں بلکہ ہزاروں انسانوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے اور یہ سب حقیقت ان سے مطلق چھپی ہوئی نہیں تھی ۔۔۔ میں بری طرح خوفزدہ ہوں یہ بات کہتے ہوئے کہ کہیں یہ شہر والوں کی سزا کا ابتدائی حصہ تو نہیں اور کہیں خدا نخواستہ خدائی اصول کے مطابق اس نافرمان شہر کو اصل سزا کسی بڑے زلزلے یا بڑی بربادی کی صورت تو نہیں ملنے والی کہ تاریخ میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ خدا کے رسولوں کے فرامین کا یوں کھلم کھلا مذاق اڑانے والوں کے جغرافیئے پلٹ دیئے گئے ہیں اور بستیاں تاراج کر دی گئی ہیں، اور انکے اجاڑ کھنڈرات آج بھی سطح ارض پہ یہاں وہاں نشان عبرت بنکر اس عظیم تباہی کی داستان سناتے نظر آتے ہیں
اور کیا ہے کوئی ایسا ، کہ جس میں اگر ایمان کی ادنیٰ سی رمق موجود ہے تو وہ اپنے اہلخانہ کے سروں پہ ہاتھ رکھ کر ببانگ دہل یہ کہ سکے کہ ایم کیو ایم پہ انسانی لہو بہانے کے الزامات یکسر جھوٹے ہیں یا یہ حدیث (معاذاللہ ) غلط ہے کہ جس میں ایک انسان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل ٹہرایا گیا ہے ۔۔۔ لیکن کوئی ایک بھی جی ہاں ایک بھی فرد ایسا نہیں کہ سکتا کیونکہ حقائق چمکتے سورج کی طرح سب پہ روشن ہیں ۔۔۔ تو پھر کوئی ذرا پوچھے تو سہی اس شہر کے تعلیمیافتہ و باشعور عوام سے ، کہ انہیں رسول خدا کے اس فرمان کو جھٹلانے کی ہمت کیسے ہوئی ،،،؟؟‌ گزشتہ 35 برس میں اس سے بڑا سچ کوئی نہیں کہ اس عرصے میں اس شہر میں انسانوں کو کتے بلی سے بھی زیادہ بری طرح اور بے تحاشا مارا گیا ۔۔۔ اورکیا صرف مخالفین میں سے ہی ،،،! نہیں بلکہ زیادہ تر اپنے ہی ہم زبان بلکہ اپنی ہی جماعت کے وہ لوگ کے جن سے ذرا بھی کسی حکم کی سرتابی ہوئی یا جو زرا بھی مقبول ہوتا دکھائی دیا ، یا جس سے کوئی اہم کام لے لیا گیا اس کا کام اتاردیا گیا ۔۔۔ صورتحال یہ تھی کہ الف کو ب سے مروایا گیا اور ب کو ج سے اڑادیا گیا اور ج کو موقع پاتے ہی کسی اور چ ح خ وغیرہ وغیرہ کے ذریعے بھون ڈالا گیا ۔۔۔ عظیم طارق شمعون ابرار اور عمران فاروق جیسے اپنے قدیمی ساتھیوں کو بھی از خود ہی خطرہ باور کرکے آن کی آن خاک و خون میں نہلادیا گیا حتی ٰ کے کراچی حیدرآباد اور میرپور خاص کے در و دیوار اس خونی نعرے سے رنگ دیئے گئے کہ ' جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے' اور پھر اسی نعرے کو متحرک خونی پالیسی میں ڈھال دیا گیا
اور یہ حقیقت بھی کسے معلوم نہیں کہ میدان سیاست میں آنے کے تھوڑے ہی عرصے میں متحدہ نے ہولناک خونریزی کے ذریعے کراچی و حیدرآباد میں میں ایک ایسا بد ترین غلامانہ میکنزم بنا لیا تھا کے جو روح فرسا دہشت اور انتہائی شدید خوف پہ قائم تھا کیونکہ اس گھناؤنے نظام میں قتل بھی نہایت وحشت و بربریت سے کیا جاتا تھا یعنی اس طرح سے کہ مقتول کی لاش کی بدترین اور کٹی پھٹی حالت سے دیکھنے والوں کی روح بھی کانپ اٹھے ۔۔۔ مقتول کے پورے جسم میں ڈرل سے کیئے گئے سوراخ ، جگہ جگہ کرنٹ کے جھٹکوں اور گرم لوہے سے داغنے کے نشانات اور بدترین تشدد کے بعد ہتھوڑے سے ہر ہر ہڈی کو چورا چورا کردینے کی علامتیں روزمرہ کی کارروائیاں تھیں اور اکثر مقتولین کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے بوری میں بند کرکے گندے نالوں میں پھینک دینا تو عام سی بات بن گئی تھی ۔۔۔۔ زیادہ تر یونٹ اور سیکٹر آفسوں میں ٹارچر سیل بنا دیئے گئے تھے کہ جہاں کی جانے والی خونی و ظالمانہ کارروائیؤں نے شہریوں کو نفسیاتی مریض بناکے رکھدیا تھا اور جہاں ہر شخص دوسرے سے ڈرتا تھا اور جیسے یہاں زندہ رہنے کی ضمانت اللہ کے بعد گویا ( نعوذ باللہ ) صرف ایک ہی شخص الطاف حسین کے پاس تھی کہ وہی ایک ہی شخص اس شہر کا مختار کل اور عقل کل بنا ہوا تھا تھا اور دوسرے صرف اسکی جوتیاں سر پہ رکھنے کو ہی سرفرازی کا سب سے بڑا اعزاز سمجھنے کے پابند تھے اور اس کے چیلوں کے آگے وہ جید اہل صحافت بھی کان لپیٹے دم ہلاتے دکھتے تھے کہ جو صدر اور وزیراعظم پہ بھی دہاڑنے و چنگھاڑنے میں ذرا دیر نہ لگاتے تھے اور خود یہ ارباب اقتدار بھی بارہا اسی گرو گھنٹال کی خوشنودی کے لیئے اسکی بارگاہ نائن زیرو پہ سجدہء تعظیمی بجا لاتے دیکھے جاتے تھے
دہشت کے اس مکروہ نظام کے قیام کے بعد وحشت کے لندنی دیوتا کے لیئے بہت آسان ہوگیا تھا کہ وہ اپنے گرگوں اور غلاموں کے ذریعے موقع بے موقع اہل شہر کو بے تحاشا لوٹے کھسوٹے اور محض چندہ فطرہ زکاۃ اور قربانی کی کھالوں ہی پہ باقاعدگی سے ہاتھ صاف نہ کرے بلکہ صنعتوں اور دکانوں سے ماہانہ بھتے بھی طلب کرائے اور وقتاً فوقتاً اغواء برائے تاوان سے بھی خطیر رقم بٹورتا رہے ور یہ سب شرمناک و غلیظ کام کرنے والے تمام کے تمام وہی لوگ تھے کہ جو 35 برس پرانے وقت سے ابھی 7 مہینے پہلے تک اسکی ہی جماعت یعنی ایم کیو ایم کا حصہ تھے اور باہم مل جل کے ڈیوٹی کے طور پہ یہ سب جرائم کرتے تھے لیکن اب وہی بدمعاش 3 ٹکڑوں میں تقسیم ہوکے ایکدوسرے گروپ کو ان جرائم کا ذمہ دار قرار دیئے چلے جارہے ہیں تاکہ الزامات کے اس بڑے گردوغبار سے ہر سمت مکمل کنفیوژن پھیل جائے اور بالآخر اس ہآؤ ہو کے شور میں نظام انصاف کو باؤلا بناکے سب کو چھوٹ مل جائے ۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس شہر کے باسی کیا اتنے ہی پاگل اور چغد ہوچکے ہیں کہ ان پرانے پاپیوں کو نہ پہچان سکیں اور یہ جو سرکاری چھتری میں کمالی لانڈری کے کمالات سے سب خونیوں کے جبڑوں اور مونچھوں پہ لگے خون کے داغ دھوئے جارہے ہیں اور بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کی 300 سوختہ لاشوں کے قاتلوں کو بھی آب مصفیٰ سے غسل دے کر پوتر کیا جارہا ہے اور جو فاروق ستار کے چھابے میں پناہ گزین قاتلوں لٹیروں اور بھتہ خوروں کی ٹولیاں گردن ڈالے نیک پروین بنی بیٹھیں ہیں تو کیا انکے سیاہ کارناموں سے اہل شہر واقف نہیں ۔۔۔ کیا ان سے کچھ بھی ڈھکا چھپا ہے ۔۔۔؟؟
یہ سب وہی لوگ ہی تو ہیں کے جن کے سامنے بھارت جا کے منہ بھر بھر کے ملک کو گالیاں دی گئیں، وہاں کرمنلز کی ٹریننگ کا انتظام کیا جاتا رہا اور را سے فنڈنگ لی جاتی رہی اور یہ آج کی سب 'نیک پروینیں' سب کی سب اس سیاہ کاری میں الطافی ٹولے کی پوری طرح مددگار اور ساتھی رہی ہیں -
یہاں میرا سوال ارباب اختیار سے یہ ہے کہ کیا تہذیب و تعلیم کے لیئے مشہور اس شہر کے نصیب میں لے دے کے اب یہی جانے مانے چائنا کٹنگ ایکسپرٹ بھتہ خور قاتل اور لٹیرے ہی رہ گئے ہیں ۔۔۔ کیا محمد علی جوہر حسرت موہانی بہادر یار جنگ اور لیاقت علی خان جیسے عظیم رہنماؤں کی تاریخ کے حامل اس اردو داں طبقے کو اب بھی نئی شرائط پہ کمانڈو، ٹوپی ، کنکٹا ، بچھو ، اور لنگڑا جیسے مہان پرشوں کے چنگل میں ہی دیدیا جائے گا اور کیا اس شہر کے اعلی تعلیمیافتہ و مہذب لوگوں میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں کہ اس شہر کی قیادت کے لیئے آگے بڑھ سکے یا اسے آگے آنے کا موقع دیا جاسکے ۔۔۔ یاد رکھیئے کہ جس طرح خون کو خون سے نہیں دھویا جاسکتا عین اسی طرح ایک قاتل کی جگہ دوسرے قاتل کو بٹھا کے معاملات کی بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی- اب وقت آگیا ہے کہ مہذب تعلیمیافتہ اور باشعور شہری خواب غفلت سے جاگیں اور اس شہر نا پرساں کے معاملات کی بہتری کے لیئے خود آگے آئیں اور اجتماعی دانش اور مشترکہ شعور کی قوت سے اپنے شہرکے برسوں سے گلتے سڑتے اس وحشتی و دہشتی کچرے کو تاریخ کے کوڑہ دان پہ پھینک دیں اور یہ عزم کریں کے ہمیں اس شہر کو اسکا پرانا پرامن و مہذب و تعلیمی تشخص واپس دلانا ہے ، ہر قیمت پہ اور ہر صورت میں ۔۔۔ بتائیئے کہ کون ہے جو میری اس صدا پہ لبیک کہنے کو اور چنگاریوں سے لبریز جھلستے کراچی کو بچانے کے لیئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے ۔۔۔۔ ؟؟؟ یا پھر پہلے کی طرح حالات کی تبدیلی کی صرف خالی خولی امیدیں لگانا اور سپنے دیکھنا ہی کافی ہے ،،،؟؟ کراچی والوں کے نصیب میں کیا یہی ہے۔۔۔ اگر چور نہیں تو گرہ کٹ ۔۔؟؟