جمعرات، 13 جولائی، 2017

- مبارک ہو ،،، سینما کو واپس اسلامی مرکز ثقافت بنادیا جائےگا شاباش جماعت اسلامی ،،، شرم آنی چاہیئے اور مذہبی جماعتوں کو

حق کے لیئے اگر ڈٹ کے لڑا جائے تو رب العزت ساتھ کیوں نہ دے گا،،، بالآخر آج اسکی یہ نصرت مل کے رہی اور کئی برس سے جاری ایک گناہ عظیم کی بندش کا قانونی فیصلہ ہو ہی گیا اور فیڈرل بی ایریا نزد عائشہ منزل پہ واقع بلدیہ کراچی کے المرکز اسلامی کو واپس اصل حیثیت میں بحال کرنے کا حکم نامہ سپریم کورٹ نے جاری کرہی دیا جو کے ایم سی پہ مسلط چند الطافی بلدیاتی خنزیروں کی حرمزدگی کے نتیجے میں سینما گھر میں تبدیل کردیا گیا تھا ،،، یہ مرکز اسلامی ثقافت دراصل اس وقت کے مئیر عبدالستار افغانی کے حسن تخیل کا نتیجہ تھا کہ جنہوں نے انتہائی دیانتداری اور بلند احساس ذمہ داری کے ساتھ اس شہر کی بہبود و ترقی کے لیئے کبھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا- لیکن انکے بعد جب پھر تعصبات کا ناگ بیدار کرکے۔ برطانوی گود میں پڑے اینڈتے الطاف حسین کے چیلوں نے بلدیہ پہ قبضہ جمایا تو انکی ہوسناک نظریں اس خوبصورت و کشادہ عمارت پہ گڑگئیں اور جلد ہی انہوں‌نے کمینگی اور اسلام دشمنی کی انتہا کرتے ہوئے اس عظیم و خوبصورت اسلامی مرکز ثقافت کو سینما گھرمیں تبدیل کرنے کی ناپاک جسارت کرڈآلی اور اسکے صدر دروازے پہ لکھا ہوا کلمہ طیبہ بھی مٹا ڈالا یوں اسلامی تعلیمات و ثقافت کو فروغ دینے کیلیئے قائم یہ عمارت کنجر خانہ بناکے ٹھیکیدار کے حوالے کرکے مال بٹورنے کا ایک بڑا موقع بنا ڈآلی گئی- یہ وہ ناپاک حرکت تھی کہ جسکا کسی اسلامی ملک میں تصور بھی نیں کیا جاسکتا تھا لیکن وہ کلمے کے نام پہ بنے اس ملک میں ہی کرڈآلا گیا اور کسی مذہبی ملک میں کسی تنظیم کے کارندے یہ ناپاک حرکت کرتے تو وہ گلی کوچوں میں عوام کے ہاتھوں کتوں کی طرح ماردیئے جاتے لیکن یہاں شہر والوں نے تو کچھ بھی نہ کیا ،،،
اس ظلم عظیم کے معاملے کو لیکر کچھ لوگوں نے شہری عدالت سے رجوع کیا تھا لیکن پھر عمارت میں سینما چلانے والے منحوس و اسلام دشمن ٹھیکیدارنے ایم کیوایم کی شہ پر سندھ ہائیکورٹ کے ذریعے اس پہ حکم امتناعی حاصل کر لیا تھا اور اب کافی عرصے سے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت تھا سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمان کی جانب سے دی گئی درخواست کے نتیجے میں اج سندھ ہائیورٹ کے اس حکم امتناعی کو ختم کردیا ہے کہ جسکے ذریعے یہ کاروبارِ گناہ بڑے دھڑلے سے چل رہا تھا ،،، گو کہ کئی معاملات میں ، میں جماعت اسلامی پہ تنقید بھی کرتا رہتا ہوں لیکن مجھے یہ کہتے ہوئے کوئی باک نہیں کہ اس معاملے میں ڈٹ کے کھڑے رہنے پہ جماعت اسلامی بھرپور خراج تحسین کی مستحق ہے ،،، اور حافظ نعیم الرحمان اور ڈاکٹر فیاض عالم کو خاص طور پہ مبارکباد کیونکہ ایک نے عدالت کا رخ‌ کیا اور دوسرے نے میڈیا اور سوشل میڈیا کے مورچہ پہ گھن گھرج مچادی ،،، اس ضمن میں ٍڈاکٹر فیاض عالم نے اصرار کرکے مجھ سے بھی سوشل میڈیا پہ ایک مضمون لکھوایا تھا اور مجھے بھی اس نیکی میں شریک کیا تھا
یہاں آخر میں میرا ایک سوال جماعت کے علاوہ دیگر تمام مذہبی جماعتوں سے یہ ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کی مرکزی شاہرہ پہ واقع ایک اسلامی مرکز کو جب کھلم کھلا سینما گھر بنادیا تو یہ سب جماعتیں‌ آخر کہاں مر گئی تھیں ، یہ جمیعت اہلحدیث والے اور یہ جمیعت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان کہاں جاچھپے تھے اور یہ حنیف طیب ، مفتی منیب، عبدالحق قادری انس نورانی کوکب اوکاڑوی اور ثروت قادری کو سکتہ یوں پڑگیا تھا اور یہ فیضان مدینہ والے بپا الیاس قادری کے قلب میں کوئی سوزش کیوں نہ ہوسکی - اور جہانتک ہماری سیاسی جماعتوں کا احوال ہے تو کیا عرض کیا جائے کہ یہ بات تو انکے نزدیک مسئلہ ہی کوئی نہیں ۔۔۔ کیونکہ اس سے انہیں کیا لینا دینا ، وہ تو ہر وقت ہی روشن خیال اور لبرل نظر آنے کی کوئی بھی قیمت ادا کرنے کو تیار رہتے ہیں ،،اور پھر یہ تو جیسے حافظ نعیم الرحمٰن اور ڈاکٹر فیاض عالم کا کوئی بہت پرائیویٹ سا مسئلہ ہے ،،،
ہیں جی ۔۔۔ کیا سمجھے جی ،،،!!

قارئین ذرا دعا کیجیئے گا

لگتا ہے کہ میرے کل کے مزاحیہ مضمون ' ڈاکٹروں سے ملاقات' کو ڈاکٹروں نے بہت ہی سیریس لے لیا ہے ،،،، کیونکہ شاید انکی 'دعاؤں' سے، ابھی دوسرے نمبر کے بیٹے سرمد کو ایک نجی ہسپتال میں داخل کراکے لوٹا ہوں جو کہ ناظم آباد چورنگی پہ واقع ہے یعنی گھر سے محض 2 کلو میٹر ہی کی دوری پہ ہے اور کسی حد تک سفید پوشی کا بھرم رکھ لیتا ہے ۔۔۔ ادھر کل شام ہی سے میرے سینے کا انفیکشن بھی 'جے آئی ٹی' کے قابل ہوگیا ہوں‌ اور ساتھ ہی کھانسنے میں بھی اب ایسا رواں ہوا ہوں کہ ہر سر اور ہرتال پہ یہ مشقِ 'دُکھن' جاری رکھے ہوئے ہوں‌ ۔۔۔۔۔ اور اب تو میرے سامنے سے میری بیگم بھی اپنی کھانسی قابو پاکے گزرتی ہیں کہ کہیں تازہ شہ نہ پالوں - اس تازہ معاملے کی تفصیل یہ ہے کہ کل رات ان مذکورہ صاحبزادے کو پیٹ اور آنتوں میں نہایت شدید تکلیف ہوئی تھی اور چونکہ نیند کی گولی کھائے ہوئے ہونے کے باعث اک ذرا دیر کو میری آنکھ لگ گئی تھی چنانچہ میرے 2 بیٹے اور انکے دوست اسے ایمرجینسی میں عباسی شہید ہسپتال لے کے بھاگے تھے ۔۔۔ وہاں آجکل بھائی لوگوں کی 'خصوصی توجہ ، اور وہاں کے عملے کو فراہم کردہ طویل عرصے کی خصوصی تربیت کے باعث دیگر سرکاری ہسپتالوں کی طرح اب سوائے خدا کے آسرے کے ، کچھ بھی دستیاب نہیں شاید ایسا 'فروغ تقویٰ' کے لیئے کیا گیا ہو، تاکہ اس طرح مریض کے وابستگان کو بیچارگی کے عالم میں خدا سے زیادہ سے زیادہ لو لگانے کا بھرپور موقع مل سکے - البتہ عباسی ہسپتال کے لان کی اجڑی گھاس پہ بیٹھ کر نت نئے معاشقوں کی سہولت ہمہ وقت دستیاب ہے لہٰذا کچھ انجیکشن اور ڈرپ لگوا کے واپس لے آئے اور کل ہی دوبارہ رات گئے پھر وہیں لے کے بھاگنا پڑا اور آخرشب واپس لائے
میں ماضی کے دریچوں میں جھانکتے ہوئے یہ سوچ رہا تھا کہ کیا وہی ہسپتال ہے کہ شروع میں جب بنا تھا تو ہر سہولت میسر تھی اور عالم یہ تھا کہ بیمار تو بیمار اسکا کوئی بڑھے ہوئے پیٹ کا تیماردار بھی آجائے تو بغیر کہے سنے اسکے الٹرا ساؤنڈ کے لیئے طبی عملہ بہت بیقرار سا پھرتا تھا لیکن اب تو یہ حال ہے کہ شاید روئی ہی واحد مفت دستیاب نشان کرم ہے ۔۔۔ لیکن وہ بھی یوں چھپ چھپا کے استعمال کی جاتی ہے کہ جیسے بارودی مواد یا منشیات کی ذیل میں شمار ہوتی ہو ،،، بہرحال جب آج شام کئی لوگوں کے ساتھ سرمد کو جب لے کے ہسپتال پہنچا تو اوپی ڈے میں چیک اپ کرانے اور فائل بنوانے کے کی دوڑ بھاگ کے دوران میری اپنی طبیعت اتنی بگڑ گئی کہ پھر وہیں ایک الگ ایک بینچ پہ لیٹے لیٹے ہی تمام امور بذریعہ نپٹاتا رہا اور بچوں کو دوڑاتا رہا،،، ااس کے بعد جب سرمد کا ہسپتال میں داخلہ ہوگیا تو میرے بیٹوں نے مجھے زبردستی گھر بھیج دیا کیونکہ میری حالت بالکل ویسی ہورہی تھی کہ جیسے سرکار کی جانب سے تقریر کرنے پہ پابندی کے قبض کے بعد آجکل الطاف حسین کی ہے ۔۔۔۔ اب میں پون گھنٹہ آرام کرنے کے بعد یہ پوسٹ لکھ پا رہا ہوں - میرا یہ دوسرا بیٹا جس کا پورا نام سید سرمد جاہ عارف ہے ، بہت نڈر اور اپنے نام میں لفظ جاہ کی نسبت سے بہت 'چُوزی' ہے اور حالات کیسے بھی ہوں ہمیشہ بڑے کلے ٹھلے سے رہنا پسند کرتا ہے،البتہ مزاج کا ذرا ٹیڑھا ہے ( حآلانکہ پبلک ڈیلنگ اور مارکٰیٹنگ کے عمل میں نہایت 'آرٹی کرافٹی' ہے ) اور گھر میں اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے بہت ہی کم بات کرتا ہے ،،، (حالانکہ یہ سہولت ابتک ٹیکس ایبل نہیں ہوئی) -
قارئین سے التماس کہ مجھے اپنئے اس 'اکھرے پتر' سرمد کے لیئے دو طرح کی دعائیں مطلوب ہیں ۔۔۔
1- خدا کرے وہ جلد از جلد مکمل صحتیاب ہوجائے کیونکہ اسکی آنتوں میں شدید درد اٹھنے اور ہسپتال جانے کا مرحلہ ہر چند مہینے بعد آجاتا ہے لیکن اس بار فرق یہ ہے ک اسے بہت بخار بھی ہے اور جوڑوں میں شدید درد بھی ہے اور مزید یہ کہ رہ رہ کے زبردست الٹیاں آرہی ہیں
2- وہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ اپنے رویئے کو بہتر کرے --- آمین ثمہ آمین

ڈاکٹر سے ملاقات

گزشتہ ہفتے میں لگ بھگ دس بارہ برس کے بعد بیمار ہوا ہوں ۔۔۔ کچھ نزلے کا وفور ہے جو ابھی تک کسی پہ گرا نہیں ہے اور کسی حد تک پیٹ کی گڑ بڑ کا بھی معاملہ ہے گویا 'ہرطرف' سے مسلسل مصروف ہوں کبھی کبھی اخلاقاً... اٹھتے ٹھسکے کو نہایت محتاط انداز میں کھانسی میں بدل کے ماحول کو کافی ترس انگیز بنادیتا ہوں محتاط اس لیئے کہ یہ رسک ضرور رہتا ہے کہ اسہال کے جھٹکے سے کہیں بیٹھے بٹھائے ایک شعر پوری غزل نہ بن جائے ۔۔۔۔ میں دوڈھائی دن اہلخانہ کو ٹالتا رہا کہ بقول بیگم اس شعبے میں میرا مقابل نہیں دور تک بلکہ بڑی دور تک ،،، لیکن پھر بھی بڑا بیٹا سواری پہ کھینچ اور لاد کےایک کلینیک یوں لے گیا جیسے منڈی سے قربانی کی بچھیا ،،، ڈاکٹر صاحب پرانے واقف ہیں کیونکہ برسوں پہلے بچوں کو وہیں لے جاتا رہا ہوں ،،، لیکن اب چونکہ وہ بڑے ہوگئے ہیں چنانچہ اب حسب دلخواہ ڈاکٹر کو کئی کئی دنوں تک فیض پہنچاتے ہیں - میں اس لیئے بھی چلا گیا کیونکہ خدا نخواستہ کہیں ہم جیسے کچھ لوگ ڈاکٹروں سے ایسا گریز کرکے انجیئروں کی طرح انکے مستقبل کو بھی مخدوش کرنے کا سبب نہ بن جائیں اور انکے بھی رشتے نہ آنے پہ ہم انکی دلآزاری کا باعث نہ بن جائیں
کلینک پہنچے تو دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب اس دوران بہت دیندار ہوگئے ہیں لیکن پھر بھی اپنی ِفیس سے وہ یہ رازہرگز کھلنے نہیں دیتے تاہم اس تقدسی تعارف کے لیئے انہوں نے بہت بڑی براق سرسیدی داڑھی رکھ لی ہے --- سر کو البتہ کلر لگاتے ہیں یوں سارے امکان جمالیات کو تہس نہس ہونے سے بچاتے ہیں - مجھے دیکھا تو بانچھیں کھل گئیں ،،، آخاہ اتنے برس کہاں رہے بھائی ؟؟ ،،، میں نے کہا تاکہ آپکو داڑھی رکھنے کا موقع مل سکے ورنہ شاید ہم جیسی صحبت والوں کا اثر یہ نیک کام نہ ہونے دیتا ،، کہنے لگے آپکے بچے بھی نہیں آتے ،،، میں کہا کہ بڑے ہوگئے ہیں سمجھدار ہوگئے ہیں اس پہ انکو فوراً ہی بلی کی طرح کی منی سی چھینک آگئی لیکن وہ کافی دیر اپنی ناک بھنبھوڑتے رہے ، میں نے البتہ چیک اپ کے دوران انکی ریش دراز پہ نظر جماکے یہ وضاحت ضرور چاہی کہ " آج کل بھی آپ صرف نسخے ہی لکھتے ہیں یا تعویز بھی ،،،، اس پہ انہوں نے ہڑبڑا کر گھڑی دیکھنا اور اسے کان کے قریب لا لاکے جھٹکے دینے شروع کردیئے
ذرا ہی دیرمیں انکے طبی سوال جواب کا سیشن شروع ہوگیا ۔۔۔ مجھ سے پوچھا "کیا ہوتا ہے " میں نے عرض کی دونوں طرف سے کچھ کچھ ہوتا ہے بلکہ کبھی کبھی تو مسلسل ہوتا ہی رہتا ہے ،،، اور اس وقت یوں چکر آرہے جیسے میں کسی کے چکر میں ہوں یا جے آئی ٹی کے سامنے بیٹھا ہوں ،،، گلا ملکی معیشت کی مانند بیٹھا ہوا ہے۔۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ میں گفتار کا غازی ہوں‌ ایسے میں گلے کا سخت دکھنا کسی المیئے سے کم نہیں ۔۔۔ لگتا ہے کہ میرے مبینہ مزاح گو گلے کو دبانے کے لیئے حریفوں کا داؤ نہ چلا تو انکی بددعا چل گئی ،،،
پھر ڈاکٹر صاحب نے دریافت کیا کہ : کیا بخار بھی ہوتا ہے ،، منہ لٹکا کے عرض کیا کہ ،، بس یہی تو گلہ ہے کہ ہمارا بخار کبھی اس اونچے درجے میں نہیں پہنچا کہ سینا تان کے بتا سکیں یا بہت سرسامی کیفیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جی بھر کے اول فول بکنے کی رعایت مل سکے اور پرانی بھڑاسیں ہی نکال پائیں ،،، اس ایک سو ایک بخار کو آج کل بھلا پوچھتا کون ہے ،،،، پھر رہتا بھی وقفوں میں ہے ،،،
وقفوں میں ۔۔۔؟ ڈآکٹر صآحب چونکے اور دو دفہ بڑبڑائے وقفہ ،، یعنی کہ وقفہ
جی جی کیا اس میں بھی وقفہ ضروری ہے ۔۔۔ معاً خدشہ ہوا کہ کہیں بات سبزستارہ کی گولیوں تک تو نہیں پہنچنے والی ۔۔۔ وضاحت کی کہ وقفے کی دواؤں کا وقت کبھی کا گزر گیا اور عاجزی سے التماس کیا کہ بس باری کے بخار کی دوا ہی دیدیں کافی ہے ،،، یہ سنتے ہی ڈاکٹر صآحب نے دفعتا" اپنی سیٹ چھوڑدی ،،، مجھے لگا کسی کھٹمل کی کارستانی ہے اور انکا کوئی نازک مقام سخت خطرے میں ہے ،،، کہنے لگے آئیئے آپ ادھر میری کرسی پہ بیٹھ جائیئے اور جب خود ہی خود دوا لکھنی ہے تو تجویز کرلیجیئے سامنے لگے پوسٹروں میں سے جو بھی دوا اپنے لیئے مناسب سمجھیں ،،، بس نیچے والا پوسٹر رہنے دیں وہ 'ایام' کی خرابی سے متعلق ہے ،،، میرا منہ ہمیشہ سے بہت زیادہ نہیں کھلتا لیکن اس بارمنہ کھول کے ہنسنے لگا اور اس وقت میرا منہ خودبخود اتنا زیادہ کھلا کہ اصلی بتیسی بھی اتنی باہر آگئی کہ مصنوعی معلوم ہونے لگی
جب وہ پھر سے اپنی کرسی پہ بیٹھ گئے تو انہیں میں نے انہیں مزید یہ بتانا ضروری سمجھا کہ دراصل مجھے پرسوں ڈریم ورلڈ کی جمالیاتی فضا میں بھی سوئمنگ پول میں نہانے یعنی پانی میں چھبڑ چھبڑ کرنے کا قطعی موقع نہ ملا اورعید ملن کے نام پہ محض ادبی سی و نیم بزرگانہ سی محفل منعقد ہوئی تو میں بس شدید جھلاہٹ میں انتقاماً بہت زیادہ کھا گیا ،،، ویسے بھی اگر کہیں متعدد ڈشیں سامنے ہوں تو میرے اندر کا منصف جاگ اٹھتا ہے اور سب سے انصاف کرنے کو میں اپنے اوپر لازم کرلیتا ہوں ،،، پھر بیگم سا جید محتسب بھی دور دور تک موجود نہ ہو تو پھر اندھا کیا چاہے دو آنکھیں‌ ،،، کہنے لگے یہ غلظ محاورا بول دیا آپنے۔۔! ،،، میں نے پوچھا صحیح کیا ہے ،،؟ فرمایا : دے مار ساڑھے چار ۔۔۔
چیک اپ تمام ہوا تو صورتحال بہت مایوس کن نکلی ۔۔۔ ساری ضرر رسانی صرف اسہال اور چیسٹ انفیکشن کے سر منڈھ دی گئی ،،، لگتا تھا کہ خود ڈاکٹر صاحب کو بھی اس کھودا پہاڑ نکلا چوہا جیسی صورتحال پہ بالکل مزا نہیں آیا کیونکہ اب تو بات محض دو چار دن کی دوا تک ہی محدود رہ جانی تھی ،،جبکہ انہیں باتوں باتوں میں پتا چل گیا تھا کہ ابھی دو روز پہلے ہی ہمیں تنخواہ ملی ہے ،، پھر بھی اپنی اور انکی ڈھارس بندھانے کے لیئے ہم نے ذرا لہرا کے کہا کہ " بھئی ہم اس قلیل تشخیص کی تاب بھلا کیسے لاسکیں گے اوراحباب اور گھر والی کو کیا منہ دکھائینگے ،،،؟؟
ڈاکٹر صاحب پہلی بار متبسم ہوئے اور کھلھلا کے بولے " بھائی بس یہی منہ دکھائیں آخر آپکے ممکنہ پسماندگان اور احباب نے پچپن چھپن برس تو آپکو اسی منہ کے ساتھ بھگت ہی لیا ہے نا ۔۔۔

سندھ سیکریٹریٹ ۔۔۔ شہر میں شہروالے اجنبی

جن لوگوں کو تعصب ، نفرت اور نسل پرستی کو اپنی بھیانک ترین شکل میں دیکھنا ہو تو وہ کبھی ذرا کراچی کے قلب یعنی برنس روڈ پہ واقع سندھ کی صوبائی حکومت کے دفتری کمپلیکس یعنی سندھ سیکریٹرییٹ کا چکر لگالیں اور اپنی آنکھوں سے خود ملاحظہ کرلیں کہ یہاں اردو بولنے والے اور سرائیکی ، پشتون اور پنجابیوں کا تناسب کس قدر افسوسناک ہے جوکہ درحقیقت آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے ،،، شہر کی اکثریتی آبادی کے بیچوں بیچ بنے اس سیکریٹریٹ میں آپ یہاں سے وہاں گھوم جائیئے اگر یہ احساس نہ ہوکہ آپ کسی اجنبی علاقے میں موجود ہیں تو آپکی جوتی میرا سر ،،، اسے دیکھ کے ایم کیوایم کی بےحمیتی اور بے حسی کی جو بھرپور تصویر آنکھوں میں ابھرتی ہے اسکے بعد الطافی چیلوں کی 35 سالہ 'حق پرستی' کی اصلیت کو سمجھنے کے لیئے کسی اور دلیل کی ضرورت ہی نہیں رہتی ،،، درحقیقت ایم کیوایم کے رہنما اس تمام طویل عرصے میں ( جن میں اسکے سب گروپ شامل ہیں کیونکہ انہوں نے 35 میں سے 33 برس ساتھ گزارے ہیں ) اپنے ذاتی مفادات کیلیئے اپنے ووٹروں کے معاشی مفادات کو قربان کرکے اپنی ذاتی تجوریاں بھرتے رہے اور لالو کھیت گوالیمار اور نیوکراچی کے کوارٹر چھوڑ کے ڈیفنس کلفٹن اور گلشن اقبال شفٹ ہوتے رہے -بابر غوری سارا شہر لوٹ کے کھاگیا اور آج فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال گروپ بھی یہ دہائیاں دیتے سنائی دیتے ہیں ، لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ جب بابر غوری کی یہ شرمناک لوٹ مار جاری تھی تب آپ کہاں تھے اور کیوں چپ تھے ،صاف ظاہر ہے کہ وہ ان جرائم میں برابر کے حصے دار تھے ،، لوٹ کھسوٹ کی نوبت تو یہ آئی کہ دو پٹی کی چپل پہننے سے زیادہ حیثیت نہ رکھنے والے کارکنان بھی اب کروڑ پتی بلڈر بنے گھومتے ہیں
لیکن جہانتک مسئلہ ہے اس شہر میں روزگار کے بحران کا تو ضرورت اس امر کی ہے کہ اب سندھ کا شہری طبقہ ،متحد ہوجائے اور نہ صرف اس کوٹہ سٹم کو اٹھا کے نیٹی جیٹی میں پھینک دے بلکہ اسکے نفاز سے ابتک شہری سندھ کی ملازمتوں میں جو جو زیادتیاں اس کے ساتھ روا رکھی گئی ہیں ان سب کا پورا پورا ازالہ کیا جائے ،،، فوج کوبھی اچھی طرح سمجھ لینا چاہیئے کہ اب دوسراگڑھا کھود کے پہلے والے گڑھےکی مٹی کو اس میں سمونے کی پالیسی مکمل ناکام ہوچکی ، سیاسی روبوٹوں سے وقتی طور پہ تعمیل ارشاد کراکے اصل مسائل کو ٹالا تو جاسکتا ہے لیکن ختم ہرگزنہیں کیا جاسکتا اور یہ مسائل دراصل کیا ہیں انکو برسر زمین حقائق کی روشنی میں دیکھنے اور دکھانے کی ضرورت ہے- میں پہلے بھی کہتا رہا ہوں اور اب پھر عرض کرتا ہوں کہ اچھی طرح سے سن لیجیئے ،،، کراچی کا اصل مسئلہ روزگار کا ہے اور ملک کے اس سب سے بڑے تعلیمی تناسب والے شہر میں روزگار نہ دیئے جانے کے باعث جرائم کی فصل کاشت بیروزگاری کی زمین میں بھرپور طور پہ لہلہا رہی ہے ،،، افسوس اور شرم کی بات یہ ہے کہ یہاں سے ووٹ لینے کی متمنی بزدل اور مکار سیاسی جماعتوں کی ہمت ہی نہیں کہ وہ اہل شہر کے پیٹ پہ پڑنے والی طویل مدتی لات کے خلاف بات کرسکیں کیونکہ وہ اندرون سندھ کو ناراض کرنے کا ارادہ نہیں رکھتیں اور کراچی و شہری سندھ والوں کو بیوقوف بنانے کے لیئے لوڈ شیڈنگ اور پانی کو مسئلہ نمبر ایک بتاکے اصل حقیقت سے توجہ ہٹانے کی کوششیں کررہی ہیں
لیکن سچ تو یہ ہے کہ ان سیاسی جماعتوں کی یہ مکاری اور حقائق کو بدل کے دکھانے کی عیاریاں اس معاملے کو اور گھمبیر تر کرتی جارہی ہیں کیونکہ یہاں ہر گھر میں کئی کئی تعلیمیافتہ نوجوان ڈگریاں لیئے بیروزگار بیٹھے ہوئے ہیں کہ جن پہ سرکاری ملازمتوں کے دروازے عملا" بند ہیں اور متعصب صوبائی بیوروکریسی شہری کوٹے پہ بھی 'مخصوص' لوگوں کو ہی ملازمتیں دیئے چلی جارہی ہے ،،،اس میں کیا شک ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف فوج اگر آپریشن 'ردالفساد ' کررہی ہے تو44 برس سے سندھ کی متعصب اشرافیہ شہری طبقے کیلیئے آپریشن ' رد الروزگار' جاری رکھے ہوئے ہے،،، یہ صورتحال اب مزید جاری نہیں رہنی چاہیئے ورنہ غصے اور احتجاج کا ایسا لاوا پھوٹ بہے گا کہ اپنی زد میں آنے والی ہر شے کو بہا کر لے جائے گا،،، میں سندھ کی متعصب حکومت اور بیوروکریسی کو یہ باور کرادینا چاہتا ہوں کہ اب بھی وقت ہے کہ آنکھیں کھول لیں ،،، اگر ہوش کے ناخن نہ لیئے گئے تو بہت کچھ بگڑجائےگا اور گھناؤنی نسل پرستی کے اطوار اب بھی نہ بدلے تو پھربلاشبہ سندھ کا جغرافیہ ہی بدل جائےگا -
میں یہاں پاک فوج سے ملتمس ہوں کہ اس ضمن میں‌ وہ اصلاح احوال کے لیئے اپنا مطلوبہ بھرپور کردار ادا کرے اوراب وہ اس سے زیادہ دیر پہلو تہی نہ کرے کیونکہ اس شہر میں حقیقی امن کے قیام کے لیئےاسے اس پڑھے لکھے شہر والوں کے بھوک سے جلتے پیٹوں کو روزگار دلواکے ٹھنڈا کرنا ہوگا تبھی وہ دہشتگردوں کی بات پہ کان نہیں دھریں گے ،،، اسکے لیئے فوج کو دیر نہیں کرنی چاہیئے اور آگے بڑھ کے حقائق کو خود سمجھنا ہوگا اور 44 برس کا تفصیلی حساب کتاب کرواکے ہر زیادتی کا ازالہ کروانا ہوگا ورنہ بہت دیر ہوجائےگی اور وہ ہو رہے گا کہ جس کا تصور بھی لرزا دینے کے لیئے کافی ہے
arifm30@gmail.coM

آخر عمران خان جیو و جنگ کوعدالت میں کیوں نہیں لے جاتے،،،؟؟

ملک کا سب سے بڑا میڈیا ھاؤس جنگ اور جیو گروپ ایک بار پھر عمران خان کے سنگین الزامات کی زد میں ہے اور یہ الزامات سچے ہیں یا جھوٹے ، انکے لیئے حسب سابق گزشتہ دو بائیکاٹوں کی مانند اس بار بھی کوئی ثبوت اور شہادت دینے کی زحمت ہی نہیں کی گئی ہے جبکہ پہلے کی طرح اب بھی یہ گروپ ان سے نہ‌ صرف انکے الزامات کا ثبوت طلب کررہا ہے بلکہ وہ خود یا انکے نمائندے کو آمنے سامنے بیٹھ کر مباحثہ و مناظرہ کرنے کی کھلی دعوت بھی دے رہا ہے،حتیٰ کہ انہیں ان بنیادوں‌ پہ کئی باراسی سپریم کورٹ میں کیس کرنے کا کا کھلا چیلنج بھی دے چکا ہے کہ جس پہ وہ آجکل متعدد بار مکمل اعتماد کا بار بار اظہار کرتے سنے جاتے ہیں ، لیکن خانصاحب پہلے بھی میڈیا کے میدان میں نہ خود اترے تھے اور نہ ہی اپنے کسی دوسری یا تیسری سطح کے نمائندے کو میدان میں اتارسکے تھے اورنہ ہی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا اور یوں جس سے بلاشبہ اس میڈیا ھاؤس کوسب کے سامنے دوٹوک زبردست اخلاقی فتح نصیب ہوئی تھی- جہاں تک انکے ان خیالات کا تعلق ہے کہ یہ ادارہ انکے خلاف ہے اور نون لیگ کا ہمنوا ہے تو وہ یہ روشن حقیقت کیوں بھول جاتے ہیں کہ پاناما لیکس کے معملات کو طشت از بام کرنے کا کام اسی گروپ کے ایک صحافی احمد نورانی نے کیا تھا کہ جس سے انہیں نون لیگ کے خلاف ہرسطح پہ زبردست مہم چلانے کا ہتھیار ہاتھ آگیا اور انکے فوت ہوتی سیاسی مردے میں نئی جان پڑگئی ۔۔۔ ورنہ طویل ناکام دھرنوں اور لانگ مارچ کے بعد تو انکی سیاست کی نیا راول ڈیم میں ڈوب چلی تھی اور کنٹینر سے اترنے کے بعد انہیں نشریاتی ادارں نے بھی نظروں سے اتار دیا تھا اور سنجیدہ لینا بالکل ہی ترک کردیا تھا
لیکن خانصاحب بیچارے کریں بھی تو کیا کریں ، وہ کانوں کے بھی کچے ہیں اور جسمانی کیمسٹری بھی بڑی منفرد قسم کی پائی ہے کیونکہ عجیب بات یہ ہے کہ انکے کوئی اور غدود کام کریں نہ کریں انکی عجیب و غریب ناراضگی کے 'شرمندگی پروف غدود' ہمہ وقت سرگرم رہتے ہیں اور اسی سبب انہیں بھڑکانے والے بھی روٹی روزی سے لگے رہتے ہیں کیونکہ ان بیچاروں کے پاس اور ایسا کوئی ٹیلنٹ ہے بھی نہیں کہ جسکے بل پہ وہ بنی گالر کے لنگر کا حصہ رہ سکیں ،،، اور پھر بلآخر ان لنگریوں کی اکساہٹ میں آجانے کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ بڑے بڑے الزامی پہاڑوں کو کھودنے کے بعد انہیں ہربار اسٹینڈرڈ سائز سے بھی چھوٹا سا مریل اور مرا ہوا چوہا ہی ہاتھ لگتا ہے ۔۔۔ ایک بڑے بلکہ بہت بڑے میڈیا ھاؤس سے بار بار اور بے ثبوت لڑبیٹھنے کی ایک وجہ یہ بھی کہہے وہ چھوٹے موٹے اہداف پہ یقین ہی نہیں رکھتے ،،، تاہم دھول میں کافی لٹھ چلانے اور سانسیں پھلا چکنے کے بعد اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہونے کے بعد انہیں ہیں اس بے فیض بائیکاٹ سے ہونے والے نقدا نقد خسارے کابھرپور اندازہ ہونے لگتا ہے اور پھر وہ چپکے سے کسی بھی وقت خودبخود اپنے اس بائیکاٹ کا ہی بائیکاٹ کرڈالتے ہیں اور پھر جب اس بائیکاٹ کا کوئی بڑا اثر پڑتا نہیں محسوس کرتے تو ادنیٰ سی خفت ظاہر کیئے وہ پھر ایک دن چپکے سے بغیر معافی مانگے اس گروپ کی اسکرین پہ یکایک جلوہ گربھی ہوجاتے ہیں یہ بالکل اسی طرح کی بات ہے کہ جیسے انہوں نے عوم سے حکومت کو ٹیکسوں اور بجلی و یدیگر یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگیوں کے بائیاٹ کی اپیل کی تھی لیکن عوام تو کیا خود انکے دائیں بائیں جکھڑے شاہ کن انکی اس طرح کی عجیب و غریب کہ مکرنیوں اور قلابازیوں سے انہیں تو کوئی فرق نہ بھی پڑے لیکن انکے مداحوں میں سے اکثر کو اپنی بغلیں جھانکنے کے سوا اور کوئی راہ نہیں سوجھتی کیونکہ گزشتہ چند روز پہلے تک تو وہ سوشل میڈیا پہ اپنے چیئرمین کی شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کرتے ہوئے اسی مغضوب چینل کے خوب بخیئے ادھیڑنے کی مہم میں جتے رہے ہوتے ہیں اور پھر انہیں یکایک اس طرح کے یو ٹرن پہ انہیں بھی ریورس گیئر لگاکے اس فیصلے کے لیئے بھی چیئرمین کی بے پایاں بصیرت کی تعریفوں کےلیئےتحقیق کرنے اور بڑی مشقت سے داد کے ڈونگرے برسانے کا اضافی کام نکل آتا ہے
ان دنوں خان صاحب حسب عادت ایک بار پھرپرانے بلکہ نہایت باسی و بوسیدہ سے الزامات کی زنبیل اٹھائے کھڑے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلے کی مانند اس بار بھی اس بارے میں انکی زنبیل ٹھوس حقائق اور مستند ثبوتوں سے یکسر خالی ہے،، لیکن اسکی پرواہ نہ انہیں پہلے کبھی رہی ہے اور نہ ہی اب ہے کیونکہ وہ تو صرف بے تکان الزام لگانے پہ یقین رکھتے ہیں ۔۔۔ لیکن اگر جواباً دوسرا فریق عدالت پہنچ جائے اور انکے خلاف ازالہء حیثیت عرفی کا مقدمہ ٹھونک دے تو پہلے تو وہ اسکی سماعتوں‌ ہی کو تاخیر کا شکار کرنے ور لمبا لٹکانے کی حکمت عملی اپناتے ہیں لیکن پھر اپنے بیان پہ ادنیٰ سی ندامت کا اظہار کیئے بغیر وہ اسے 'سیاسی' نوعیت کا بیان قرر دے کر جان چھڑانے لگتے ہیں جیسا کہ سابق چیف جسٹس کی جانب سے کیئے گئے کئی ارب روپے زرتلافی کے مقدمے میں انہوں نے کیا اور اسی سے ملتا جلتا طرز عمل نجم سیٹھی کے خلاف مشہور زمانہ 35 پنکچر لگانے کی سازش کرنے کے انکے بیان پہ اختیار کیا گیا اور ضمیر کی ادنیٰ سی چبھن کے بغیر انہوں نے یو ٹرن لے کر اسے بھی سیاسی بیان کا نام دیدیا یعنی وہ باالفاظ دیگر یہ اقرار کرتے ہیں کہ وہ سیاست میں جھوٹ اور فریب کو نہ صرف روا رکھتے ہیں بلکہ اسے ایک حکمت عملی کے طور پہ بار بار برتنے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کرتے-
انکا یہ افسوسناک یک رخا الزامی طرز عمل بلکل صآف پکڑائی دے رہا ہے کہ شعوری یا لاشعوری طور پہ وہ اندر سے الطاف حسین کےزبردست معتقد ہیں اور انہی کی طرح کے مافیائی ہتھکنڈوں پہ یقین رکھتے ہیں اور جس طرح الزامات کے ثبوت دینا اور دلیل سے بات کرنا یا دلیل کا سامنا کرنا الطاف حسین کے بس کی بات نہیں عین اسی طرح کی ذہنیت عمران خان کی بھی ہے - لیکن وہ بھول رہے ہیں کہ اب عوام کا سیاسی شعور بہت بیدار ہے اور وہ بڑی حیرت سے یہ سب منظر دیکھ رہے ہیں کہ ایک فریق انہیں برسرعام چیلنج دے رہا ہے کہ یا تو وہ اپنے الزامات کو لیکر اس گروپ کے خلاف عدالت سے رجوع کریں یا پھر مباحثے و مناظرے کے لیئے تیار ہوجائیں ،، لاریب ، یہ صورتحال اس گروپ کو لڑے بغیر ہی فاتح بنا رہی ہے اور اس پہ خان کی پراسرار خاموشی اور لیت لعل کو عوام اگر عمران خان کی دروغ گوئی فریب کاری اور شرمناک پسپائی سے تعبیر نہ کریں تو اور کیا کریں ۔۔۔؟؟؟

فرد مرجاتا ہے مگر کردار زندہ رہتا ہے

میاں نواز شریف صاحب ،،،
ویسے توعدلیہ کی چٹان سے ٹکرا کر آپکی کشتیء اقتدار کا مستول بھی ڈھ گیا ہے ، تختے بھی ٹو ٹ چلے ہیں‌اور چپو بھی شکستہ ہوکے ناکارہ ہوگئے ہیں لیکن آپ اگر چاہیں تو اب بھی یہ نیا کنارے لگ سکتی ہے اور آپکی خود کھوئی ہوئی عزت کسی نہ کسی حد تک بحال ہوسکتی ہے اور آپ تاریخ میں کچھ نہ کچھ عزت پاسکتے ہیں اور وہ اس طرح کہ اپنا ڈوبتا اقتدار بچانے کے لیئے مزید ہاتھ پاؤں مارنے اور چالاکیاں کرنے کے بجائے دوچار روز ہی میں جلدی جلدی یہ چند اہم نیک کام کریں اوراقتدار چھوڑدیں
اور وہ یہ کہ
فوری طور پہ اپنی اور اولادوں‌کی آف شور کمپنیاں بند کرنے اور انکا سرمایا پاکستان میں منتقل کرنے کا بھی اعلان کریں اور جس جس پیسے کو ثابت نہ کرسکیں اس سے بھی دستبرداری اختیار کرنے کا اعلان کردیں اور اگر آپ کی اولاد اس فیصلے کو ماننے سے انکار کردے تو ملک و قوم کی خاطر اس سے علیحدگی اختیار کرنے کا بھی برملا اعلان کردیں
دوسرا اہم کام یہ کریں‌ کہ قوم سے کیئے ہوئے اپنے وعدے کے مطابق زرداری کا پیٹ پھاڑ کے اس میں بھری لوٹ مار کی دولت قومی خزانے میں جمع کرانےکا ہنگامی انتظام کریں ، اور اس کاذب نے اور اسکی شریک جرم بیگم بینظیر نے قومی اسمبلی میں آن دی فلور جو یہ اعلان کیا تھا کہ ہمارا سرے محل سے کوئی تعلق نہیں لیکن پھر بعد میں اقتدار ملتے ہی سرے محل کو برطانیہ سے علی الاعلان اپنی جائیداد کے طور پہ قبضے میں لے کے فروخت کرکے رقم اپنے اکاؤنٹ میں ڈال لی تھی تو اس بنیاد پہ اسکی اور اسکے ساتھ منسلک بالغ اہل خانہ کی نااہلی کا ریفرنس فوری طور پہ اسپیکر کے ذریعے الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کو ارسال کردیں
تیسرا اہم کام یہ کریں کہ اعلان کردیں کہ اب ملک کی سیاست صرف ملک میں رہ کر ہی کی جاسکے گی اور کسی ایسی جماعت کو ملک میں کسی بھی نام سے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ جو ایسے کسی شخص یا اشخاص کو اپنا قائد مانتی ہو کہ جو حکومت کے نکالے بغیر اپنی مرضٰ سے جلا وطن ہوکے ملک سے باہر براجمان ہو
چوتھا کام یہ کریں کہ سخت ترین احتسابی ایکٹ بناکے سپریم کورٹ کے توسط سے ایک عملدرآمد کمیشن بنانے کا اہتمام کردیں ،،
پانچواں کام یہ کریں‌ کہ مولانا فضل الرحمان سے گزشتہ دو عشروں سے جاری کشمیر کمیٹی کی سربراہی کے نتائج کا مواخذہ کرنے کیلیئے بھی کمیشن بنادیں اور اسکی رپورٹ آنے پہ قوم خود ہی ان سے نپٹ لے گی
چھٹا کام یہ کریں کہ قوم کی بیٹیوں عافیہ صدیقی اور ٹیریان نیازی کو انکا اعتبار اور وقار لوٹاکے وطن میں لائیں ،،،
یاد رکھیں میاں صآحب جتنی بھی چالاکیاں کرلیں آگے تو جانا میانی صاحب ہی ہے اور یہ بھی نہ بھولیں کہ آپ خواہ جتنے بھی مکر کرلیں لیکن 'خیرالماکرین' کے آگے کوئی مکر اور کوئی فریب نہیں چل سکے گا۔۔ یہ کام سننے میں بڑے ضرور لگ رہے ہیں لیکن محض صبح سے شام تک چند فائلوں‌ پہ نوٹ لکھوانے اور دستخط کرنے کی مار ہیں ،،، ورنہ یہ منظر نامہ بھی دور نہیں کہ قوم کے ہاتھوں میں جوتے اور پتھر ہونگے اور جاتی امراء کی سامنے والی سڑک پہ ایک بڑا تماشا لگا ہوگا ،،، کیا خیال ہے دوستو ،،،

عوام نے الطاف کی الیکشن بائیکاٹ کی اپیل کا ہی بائیکاٹ کرڈالا ،،،؟؟

ایک اخباری اطلاع کے مطابق 25 برس سے لندن میں بیٹھے قوم کا غم اور مفت کے شیرمال کھاتے گرو گھنٹال الطاف حسین اس امر پہ بہت خوش ہیں کہ پی ایس 114 میں فاروق ستار کا امیدوار کامیاب نہیں ہوسکا ہے جبکہ درحقیقت انکی یہ خوشی خود ہی کو بیوقوف بنانے سے زیادہ کچھ نہیں اور خود ہی کو بیوقوف بنانے کاعمل تو سراسر بیوقوفی کا بھی آخری درجہ ہے ،،، ۔۔۔ کون نہیں جانتا کہ اس حلقے میں‌ تو اپنے دور عروج میں بھی ایک بار کے علاوہ متحدہ ہمیشہ دوسرے نمبر پہ ہی آتی رہی ہے تو اب اس دور زوال میں وہ بھلا کیا خاک اونچا تیر مارلیتی ،،، اور متحدہ کو اپنے پر بہار دور میں ملی اس ایک بار کی کامیابی کی بھی اک عجب داستان ہے کہ جب یہاں سے رؤف صدیقی معمولی فرق سے کامیاب ہوئے تھے کیونکہ یہ جیت بھی صرف اس وقت ہی ممکن ہوسکی تھی کہ جب اپنی تنظیمی دہشت اور اثرورسوخ سے فائدہ اٹھاکے متحدہ نے اس حلقے کی 'من پسند' حد بندی کرادی تھی اور جسے بعد میں شدید عوامی احجتجاج پہ واپس لینا پڑا تھا ،،، ممکن ہے کہ الطاف حسین کا یہ تازہ اظہار مسرت اپنی اس خفت و شرمندگی چھپانے کے لیئے ہو کہ 25 برس سے لندن بیٹھے ڈوریاں ہلاکے کراچی میں سب کنٹرول میں رکھنے کے عادی الطاف حسین کی سیاسی حیثیت کو بلاشبہ پہلی بار نہایت سخت اور بہت بڑا دھچکا لگا ہے کیونکہ اس نو جولائی کو منعقدہ ضمنی الیکشن میں اس حلقے کے عوام نے انکی ایک التجاء نہیں سنی اور انکی جانب سے بھکاریوں کے سے انداز میں اس الیکشن کے بائیکاٹ کی گڑا گڑا کے کی جانے والی کئی کئی اپیلوں کے باوجود فاروق ستار والی متحدہ کے امیدوار کامران ٹیسوری کو 18 ہزار سے زائد ووٹ پڑ گئے اور وہ دوسرے نمبر پہ رہے
فاروق ستار کے امیدوار کی دوسرے نمبر کی پوزیشن حاصل کرلینا یقینناً اس لیئے بھی غیرمعمولی بات ہے کہ اسکے مقابل وہ حکومتی امیدوار تھا یعنی سینیٹر سعید غنی ، کہ جس کا تعلق پی پی پی کی خلاف روایت اسی حلقے سے ہی ہے اور اس علاقے میں بلوچوں‌ اور سندھیوں کے گوٹھوں‌ کی بڑی آبادیوں کے باعث پی پی پی کا قدیمی مضبوط ووٹ بینک ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور یہی نہیں بلکہ یہاں سابق ایم پی اے اور اس حلقے کے دیرینہ سیاسی ہیوی ویٹ عرفان اللہ مرؤت کا حمایت کردہ نون لیگی امیدواراکبر گجر بھی خم ٹھونکے میدان میں‌ کھڑا تھا اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء نجیب ہارون بھی مقابلے کی دوڑ میں شامل تھے اور اور تو اور اس بار تو جماعت اسلامی نے بھی کے الیکٹرک کے خلاف اپنی حالیہ مہم کے بل پہ عومی پزیرائی کے نجانے کتنے خوش آئند سپنے دیکھ لیئے ہوئے تھے اس لیئے اگر یہ کہا جائے کہ پی ایس 114 کے ضمنی انتخابات کے نتائج کچھ اعتبار سے غیرمعمولی اثرات کے حامل ثابت ہوئے ہیں تو ہرگزبیجا نہ ہوگا ،،، اگرچہ تازہ صورتحال کے مطابق ایم کیوایم پاکستان نے اس نتیجے کو بوگس قرار دے کر الیکشن کمیشن سے ووٹوں‌کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کردیا ہے لیکن یہ یقینناً ان معروف سیاسی حربوں میں‌ سے ایک ہے کہ جو اکثر سیاسی جماعتیں خود کو خبروں میں‌ان رکھنے اور اپنے کارکنوں کی ڈھارس بندھائے رکھنے کی ضمن میں مجرب باور کرتی ہیں ،، ویسے بھی اس علاقے میں اردو بولنے والی آبادی اکثریت میں نہیں ہے اور ایم کیوایم کی حرکتوں سے بیزاری کے اظہار کے طور پہ دیگر لسانی اکائیاں یہاں‌ بسنے والے قدیمی بلوچوں اور ہزارہ وال کے ساتھ کھڑی ہوجاتی ہیں
اس سےچند ہی روز قبل دو الگ الگ سمتوں سے اندرونی بغاوت کا سامنا کرتے الطاف حسین نے اردو اسپیکنگ طبقے کو بھڑکانے کے لیئے ایک شدید اشتعال انگیز و نہایت جذباتی ویڈیو بیان بھی جاری کیا تھا کہ جس میں فاروق ستار کو غدار قرار دیتے ہوئے ان کو نہایت غلیظ گالیوں سے نوازا تھا اور پی ایس پی بنالینے والے سابق میئر مصطفیٰ کمال پہ کیئے گئے اپنے احسانات گنواتے ہوئے انہیں احسان فراموش ٹہرایا تھا اور کافی کچھ خوش بیانی کی گئی تھی- یہاں یہ واضح رہے کہ ابتداء میں فاروق ستار اور انکے ساتھیوں نے الطاف حسین سے مکمل بغاوت نہیں کی تھی بلکہ بڑی تباہی سے بچنے کے لیئے مصالحت کی راہ اپنائی تھی اور الطاف حسین کی تقریر سے لاتعلقی کا اظہار کرنے کے باوجود انکی شان میں کسی بھی 'گستاخی' سے یکسر اجتناب کیا تھا اور یوں الطاف حسین کے حامیوں کو اپنی مٹھی سے پھسلنے سے روکنے میں بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل کی تھی کیونکہ وہ اسے ایم کیوایم کی طاقت کی اصل بنیاد اور اساس باور کرتے تھے ،،، لیکن جلد ہی الطاف حسین نے اسے اپنی جڑیں کاٹنے کی سازش باور کرتے ہوئے اپنے ہمنوا لوگوں کو ان سے فاصلے پہ رہنے کا ہدایت نامہ جاری کردیا تھا اور اس دوران سامنے آتی معروضی صورتحال کی روشنی میں فاروق ستار کو بھی اندازہ ہوچلا تھا کہ اب انہیں لندن سے مزید کوئی قوت میسر نہیں آسکتی بلکہ انہں الٹا انکا بوجھ بھی ڈھونا پڑے گا لہٰذا وہ سمجھ گئے تھے کہ انہیں اب جو بھی کرنا ہے خود اپنے ہی بل پہ کرنا ہے اور اس ہی عرصے میں چونکہ کام کرنے کی 'آزادی' بھی خاطر خواہ طور پہ انکے منہ بھی لگ گئی تھی چنانچہ اب وہ اس سے دستبردار ہونے اور اپنی مسلسل بے عزتی کراتے پرانے روبوٹ بننے کو بھی تیار نہ تھے لہٰذا انہوں نے اپنی راہ کو بتدریج ارباب لندن کے سائے سے عملاً دور کرنا شروع کردیا تھا اور اب عملی صورتحال یہ ہے کہ یہ اجتنابی رویہ بڑھتے بڑھتے رہنماؤں کی سطح پہ تو مکمل دوری کی حد تک جاپہنچا ہے تاہم کارکنوں‌ میں سے بعضوں کے دل اب بھی الطاف حسین کے ساتھ ہی ہیں کیونکہ فاروق ستار دلوں کو لبھانے والے انداز خطابت میں الطاف حسین کے پاسنگ بھی نہیں
یہاں ایک تازہ معاملے کا ذکر بھی کیا جانا ضروری ہے اور و یہ کہ کراچی میں اپنی گرفت دوبارہ حاصل کرنے اور 2018 کے الیکشن میں اسکے ثمرات سمیٹنے کے لیئے اب الطاف حسین نے بالآخر ایک نئی حکمت ترتیب دے ہی لی ہے جس کے تحت شہری سندھ کے سیاسی میدان میں موجود اپنے حامیوں‌ کو 'وفا پرست' کے سائبان تلے متحرک ہوجانے کا ڈول ڈآل دیا گیا ہے اور اپنے 30 برس سے چلتے آرہے مشہور و معروف ٹائیٹل 'حق پرست' کو بھی اب اس زعم میں ترک کردیا گیا ہے کہ وہ اب کھل کھلا کے یہاں صاحبان اختیار کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ وہ اب بھی اس پوزیشن میں ہیں کہ جہاں کھڑے ہوجائیں لائن وہیں سے شروع ہوتی ہے ۔۔۔ لیکن یہ انکی نری خام خیالی ہے کیونکہ گزشتہ 30 برسوں میں پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہ چکا ہے اور انکے خوش فہمیوں پہ مبنی اندازے مسلسل غلط ثابت ہوتے چلے آرہے ہیں خاص طور پہ گزشتہ برس لگایا گیا انکا یہ اندازہ کے انکی گزشتہ برس 22 اگست کی اشتعال انگیز و باغیانہ تقریر اسٹیبلشمنٹ کو خوفزدہ کرکے اسے ان سے 'نئی ڈیل' کرنے پہ مجبور کردے گی ،،، لیکن ہوا اسکے قطعی برعکس اور جو رہا سہا بھرم انکے پاس پلے تھا وہ بھی جاتا رہا اور یوں عرصے سے انکی احمقانہ و متلون مزاج پالیسیوں سے نالاں انکے تنظیمی ارکان کو بھی موقع ہاتھ آگیا کہ کہ اب وہ اس نادر موقع سے فائدہ اٹھالیں اور زندہ رہتے ہوئے بھی ان سے دوری اختیار کرسکیں اور اسی سبب انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو الطاف سے دوری کا گرین سگنل دینے میں مزید دیر نہیں لگائی ،،،
ایک برسرزمین حقیقت یہ ہے کہ اس وقت متحدہ کا پارلیمانی و بلدیاتی ڈھانچہ فاروق ستار کے گروپ کے پاس ہے جبکہ انتظامی ڈھانچہ اور نچلی سطح پہ موجود کارکنان کا نیٹ ورک پی ایس پی کے ہاتھوں میں جاچکا ہے
فاروق ستار فطری طور پہ ایک ڈھیلے اور دبو سے آدمی ہیں اور ان پہ انکے ساتھی بالعموم غالب دکھائی دیتے ہیں اور اپنے پرانے شکنجے کو کسنے کے لیئے الطاف حسین کافی عرصے کی بےعملی کے بعد اب کافی سرگرم ہوگئے ہیں لیکن بظاہر فوری طور پہ انکی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ اب بھی الطاف حسین کا پوری طرح انحصار ندیم نصرت پہ ہے کہ جنہوں نے منہ دیکھئے کی حد تک ان کا اندھا اعتماد اس خوبی سے حاصل کرلیا ہے کہ بظاہر لندن رابطہ کمیٹی کے باقی ارکان عملاً بیٹھے بٹھائے فارغ کرڈالے ہیں اور اب محمد انور ، مصطفیٰ عزیزآبادی وغیرہ محض جھلکیاں و بازگشت بنتے جارہے ہیں اور جس طرح ماضی میں ایک وقت ٹیلی فون آپریٹر کے عہدے سے ترقی کرکے مصطفیٰ کمال منظر نامے پہ چھاگئے تھے اب لگتا ہے تاریخ خود کو دہرانے جارہی ہے کیونکہ الطاف حسین کے دوسرے ٹیلیفون آپریٹر یعنی ندیم نصرت بھی اس وقت انکے معتمد خاص بن چکے ہیں اور کوئی دن دور نہیں کہ ابکے لندن سیکریٹریٹ میں ندیم نصرت کے اس راج پاٹ کے خلاف وہاں اندر سے ایک بڑی بغاوت جنم لے لے ،،، ویسے بھی اب ندیم نصرت پی ایس 114 میں بائیکاٹ کی اپیل کا غلط مطالبہ کرانے اور الطاف حسین کو بری طرح ناکام کرانے کے بعد الطاف کے حامی کارکنان کے شدید غم وغصے کا ہفدف بنتے جارہے ہیں اور تاریخی طور پہ بات بھی ثابت ہے کہ الطاف حسین اپنا معتمد خاص بن جانے والےفرد کوکام نکلتے ہی ٹھکانے لگانے کے لیئے خود بھی سرگرم ہوجاتے ہیں اور انکے اشارے پہ کارکنان کے ہاتھوں اس مقرب خاص کی خاطرخوہ عزت افزائی کا بخوبی انتظام کردیا جاتا ہے لہٰذا پورا امکان ہے کہ الطاف حسین کراچی میں اپنی گرفت مضبوط کرسکے تو پھر اگلے مرحلے میں ندیم نصرت کے بوجھ سے بھی چھٹکارا پانے کی تیاری بھی شروع کردیں گے اور کیا عجب کہ ہم عمران فاروق کے بعد ایک اور نئے شہید انقلاب پہ انکا بلبلاتا سیاپا جلد یا بدیر دیکھ پائیں ،،،

پیر، 12 دسمبر، 2016

وقت آگیا ہے کہ 'اب یا کبھی نہیں'

خوش فہمیوں کی کاغذی کشتیاں اب بھی وہی ہیں عارف
کس منہ سے یہ ناخدا منزل و ساحل کی بات کرتے ہیں
کراچی کے حالات بتدریج اسی نشیب اور اسی نہج کی طرف جا رہے ہیں کہ جنکی جانب میں عرصے سے کھل کر بتاتا چلا آرہا ہوں ، حتیٰ کے میرے اپنے حلقے کے کئی دوستوں اور لکھاریوں نے میری باتوں کا متعدد بار مذاق اڑایا اور کہا کہ تم خوہ مخواہ جھنجھلا رہے ہو اور ایسی کوئی بات نہیں دور تک بلکہ بڑی دور تک ۔۔۔ کیونکہ متحدہ تو عرصے سے قومی دھارے میں سرگرم ہے اور پارلیمنٹ و وزارتیں سب سے مستفید ہوتی چلی آرہی ہے لیکن میرے اپنے جو 'عوامی ذرائع' ہیں انہیں آپ نجم سیٹھی چڑیا کی طرح کی کوئی چڑیا سمجھ لیں تو ان سے جو اندر کی خبریں ملتی رہی ہیں وہ صاف یہ بتاتی رہی ہیں کہ متحدہ کا مرکزی دھارے میں آنا محض ڈرامہ تھا اور ہے اور وہ صرف خاموشی سے بتدریج طاقت پکڑے جانا مہم کا حصہ تھا کہ جسکے تحت اس نے اپنے چی؛وں ار جنونیوں کو کراچی کے اہم محکموں میں 'نازک' جگہوں پہ لابٹھانا تھا تاکہ وقت پڑنے پہ اس شہر کے سارے انتظامی و اعصابی نظام کو مفلوج کرکے رکھدے اور پھر جو ہدف پانا چاہے وہ پالے لیکن ہماری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں مجود یقینناً کوئی غدار اب بھی اپنے پتے بڑی مہارت سے کھیل رہا ہے وہ الطافی جو بظاہر بری طرح سے پسپا ہو گئے تھے اب پھر اپنے پنجوں سے ناخن نکالتے دکھائی دے رہے ہیں
کل رات میرے علاقے پاپوش ناظم آباد میں چاندنی چوک پر الطافی لفنگوں نے جلوس نکالا جو کہ ہر چند زیادہ بڑا نہ تھا لیکن اسی انداز اور لب و لہجہ میں بات کی جارہی تھی کہ جو ہم محب وطن لوگوں کیلیئے حدرجہ افسوسناک ہے ۔۔۔ مجھے نہیں معلوم کہ باقی سارے پاکستان کو کیا بتایا جا رہا ہے لیکن ہماری اسٹیبلشمنٹ میں موجود کسی غدار نے پھر وہی کھیل کھیلا ہے کہ جو مشرقی پاکستان میں کھیلا گیا تھا ۔۔۔ اور جان بوجھ کر چوہوں کو شیر بنایا جارہا ہے ۔۔۔ فاروق ستار کا ڈرامہ اسکی ایک بدترین مثال ہے ۔۔۔ الطاف حسین نے 22 اگست کی خرافات کی معافی مانگنے کے بعد 24 اگست کو امریکہ میں اپنے کارکنوں سے جو خطاب کیا ہے وہ 22 اگست والے خطاب سے بھی زیادہ باغیانہ اور گھناؤنا ہے اور خدا کی قسم اگر عارف مصطفیٰ کے پاس ایسا کوئی اختیار ہوتا تو وہ الطاف کے سارے ارکان اسمبلی کو لے کے مزار قائد پہ جاتا اور وہاں انہیں الطاف سے صرف لا تعلقی نہیں بلکہ اس پہ مکمل لعنت بھیجنے کا اعلان کرنے کا مطالبہ کرتا اور اسکی تحریر لکھواتا وہاں مزار قائد پہ فاتحہ پڑھواتا اور ان سے پکستانی پرچم کو سلامی دلوا کر انہیں کلیجے سے لگا لیتا ۔۔۔ ورنہ انکے انکار کی صورت میں انہیں سیدھا مزار قائد کے پاس نمائش چوک پہ لے جاکر برسرعام پھانسی پہ لٹکا دیتا اور متحدہ پہ مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیتا ۔۔۔
میں لکھ لکھ کر تھک چکا ہوں اور میرے لگے بندھے قارئین بھی ہلکان ہوچلے ہیں ،،، بلکہ اب تو شاید بہت ہی کم لوگ میری ان فضولیات کو پڑھنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں ،،، میں نے شدید دہشت اور وحشت کے زمانے میں بھی اس مقتل میں بیٹھ کر ان فرعونوں و جلادوں کا اصل چہرہ لوگوں کو دکھایا ہے بلکہ درحقیقت مجھ اکیلے نے اس موضوع پہ سارے پاکستان کے صحافیوں سے بھی زیادہ لکھا ہے اور اسکی قیمت بھی چکائی ہے ۔۔۔ کوئی مجھے بتائے کہ یہ پاگل صحافی اور کیا کرے ،،، اب اسکے سوا کیا چارہ کار رہ گیا ہے کہ یا تو میں یہ سب کچھ لکھنا بند کردوں اور بےغیرتی اور خاموشی کے سمندر میں ڈوب جاؤں یا پھر طاقت و اختیار کے ایوانوں کو آگ لگاکر خود کو بھی نذر آتش کرلوں ۔۔۔ آپ ہی بتایئے کہ کیا کیا جائے

یہ اپنے یوسفی صاحب

( اپنی یہ تحریر 4 ستمبر کو میں نے آرٹس کونسل کراچی میں بزم ظرافت کی طرف سے منعقدہ یوسفی صاحب کی 95 ویں سالگرہ کے موقع پہ پڑھی تھی )
صآحبو ۔۔۔ کسی دانشور نے کہا تھا کہ ہر اچھی چیز ہر ایک کے لیئے نہیں ہوتی ، یوسفی صاحب کی تحریریں بھی ہرکسی کے لیئے نہیں ہیں لیکن پھر بھی دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ یوسفی صاحب کسی محفل میں اپنا کوئی مضمون جب بھی پڑھیں ہال میں سبھی لوگ مسکرا رہے ہوتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی بھی لوگ ایک دوسرے پہ کچھ نہ کچھ بھروسہ کرتے ہیں حالانکہ کچھ لوگ اگر چاہیں تو اپنی یہ مسکراہٹ ملتوی کرکے بعد میں اسکے معنی پوچھ کے باضابطہ طور پہ بھی ہنس سکتے ہیں لیکن آن دی اسپاٹ بدذوق سمجھے جانے کا خطرہ مول لینے کی ہمت بھلا کس میں ہے ۔۔ ۔۔۔ یوسفی تابڑ توڑ مزاح پہ یقین نہیں رکھتے اک عجب سی دھیرج اور باوقار دلکی چال انکی تحریروں کا خاصا ہے ۔۔۔ کسی حد تک ہومیوپیتھکانہ مزاج پایا ہے لیکن تاثیر کے اعتبار سے وہ ایلو پیتھک ، مگر نتائج کے لحاظ سے جراحت کے ہم پلہ ہے
یوسفی کے مزاح کا بس ایک ہی جھنجھٹ ہے اور وہ یہ انہیں سمجھے بغیر ہنسا نہیں جاسکتا جبکہ اکثر مزاح نگاروں کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر انکے لکھے کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو پھربالکل بھی ہنسا نہیں جاسکتا ۔۔۔ کئی مزاح نگار فی زمانہ ایسے ہیں کہ پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ یہ تحریر نہ لکھتے محض کولہے ہی مٹکا لیتے اور اسکی تصویر لگا دیتے توکسی نہ کسی حد تک ضرور ہنسا جاسکتا تھا ۔۔۔ لیکن ویسے یوسفی کے مزاح میں خرابی یہ ہے کہ خرابی کوئی نہیں، قاری خواہ کتنا ہی گھنا کیوں نہ ہو اگر سمجھدار ہے تو اس سےمسکراہٹ اس طرح برآمد کرواتے ہیں جیسے پولیس والے چور سے مال مسروقہ لیکن پولیس والوں کے طریقے فرق بس اتنا ہی ہے کہ صرف اس ہی لفظ اور جملے سے مسکراہٹ برآمد کرواتے ہیں کہ جہاں یہ متاع خاص چھپاکر رکھی گئی ہوتی ہے اب یہ چور کی مجبوری ، کمزوری یا گیگلے پن پہ منحصر ہے کہ اصل سے زیادہ مال برآمد کروادے ،،، لیکن کسی طور یہ فضول خرچی انکا تقاضہ ہرگز نہیں کیونکہ وہ تو چاروں کھونٹ بینکار ہیں اور جہاں محض مسکان سے کام چل سکتا ہے وہاں قہقہہ بچا لینے کی کفایت کو ضروری گردانتے ہیں تاہم قاری کی اپنی اپنی ظریفانہ پیاس کی شدت مختلف بھی ہوسکتی ہے اور اسکے نتائج مختلف بھی ۔۔۔ ۔۔۔ انکی خوبی یہ ہے کہ کسی جملے میں انکے کسی ایک لفظ کو بھی ذرا ادھر ادھر کردیں تو سارا پیرگراف ہی لاوارث ہوکر عجب سی یتیمی کا شکار ہوجاتا ہے اور یوسفی کی دہلیز سے باہر کو جا بیٹھتا ہے تاہم کسی اور کا پھر بھی نہیں معلوم ہوتا مغل بچہ خواہ کوئی ایک آدھ صفت کھو بھی بیٹھے تب بھی نر بچہ ہی دکھتا ہے -
جس طرح حضرت جوش کے معاملے میں الفاظ الماری میں ٹنگے کپڑوں کی طرح خود کو برائے ملاحظہ و انتخاب پیش کیے دیتے ہیں - یوسفی صاحب کے یہاں بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ صرف مناسب نہیں بلکہ عین مناسب ترین الفاظ خود کو انکی تحریر کے لیئے چنے جانے کے لیئے بیقرار ہوکے ان سے درخواست گزار ہوئے ہیں - انکے ہاں آورد بھی آمد کی سی شان لیئے ہے اور بلا کی سادگی میں بھی غضب کی پرکاری ہے - ویسی معصومیت انکا شیوہ ہے جو صرف چشم حیرت میں بسیرا کرتی ہے اور یہی حیرت انکی نظر کو نئے رخ بھی دکھا دیتی ہے اور انکے توسط سے دوسروں کو دکھا بھی پاتی ہے
لیکن عظیم تر مزاح نگار ہونے کے باوجود انکے لبوں سے ہمہ وقت ظرافت کے زمزمے ابلتے نہیں دیکھے گئے ،،، ایک صاحب یوسفی صاحب سے ملاقات کے بڑے شائق تھے ملاقات ہوئی تو بعد میں انکے تاثر کا خلاصہ یوں تھا کہ "اس سے تو پہلے ہی بہت بہتر تھا " کیونکہ قوی گمان ہے کہ یوسفی صاحب کو کسی حکیم نے بچھے جانے والے انکسار اور ہر وقت کی فقرہ سازی سے پرہیز کسی نسخے میں لکھ کے دیا ہے
یوسفی کا مزاح بھی اک مستند و مشہور برانڈ سا بن گیا ہے لیکن اسے رولیکس کی گھڑی ، بالی کے جوتے اور رولس رائس کار جیسے برانڈز کے ذمرے میں پھر بھی نہیں رکھا جانا چاہیئے کہ ان سب چیزوں کی عمدگی بھی کبھی نہ کبھی کمپرومائز ہو ہی جاتی ہے

اردو ادب کے بےحد ذہین اور صاحب مطالعہ شاعر سلیم احمد مرحوم کی شاہکار نظم ' مشرق ہار گیا' ملاحظہ کیجیئے

مشرق ہار گیا
؂؂؂؂؂؂؂
کپلنگ نے کہا تھا
"مشرق مشرق ہے
اور مغرب مغرب ہے
اور دونوں کا ملنا نا ممکن ہے"
لیکن مغرب ، مشرق کے گھر آنگن میں آ پہونچا ہے
میرے بچوں کے کپڑے لندن سے آتے ہیں
میرا نوکر بی بی سی سے خبریں سنتا ہے
میں بیدل اور حافظ کی بجائے
شیکسپیئر اور رلکے کی باتیں کرتا ہوں
اخباروں میں
مغرب کے چکلوں کی خبریں اور تصویریں چھَپتی ہیں
مجھ کو چگی ڈاڑھی والے اکبرَ کی کھسیانی ہنسی پر
۔ ۔ ۔ ۔ رحم آتا ہے
(اقبال کی باتیں (گستاخی ہوتی ہیں
۔ ۔ ۔ ۔ مجذوب کی بڑ ہیں
وارث شاہ اور بُلھےَ شاہ اور بابا فرید ؟
چلئے جانے دیجیئے ان باتوں میں کیا رکھا ہے!
مشرق ہار گیا ہے
یہ بکسر اور پلاسی کی ہار نہیں ہے
ٹیپو اور جھانسی کی رانی کی ہار نہیں ہے
سن ستاون کی جنگِ آزادی کی ہار نہیں ہے
ایسی ہار تو جیتی بھی جا سکتی ہے (شاید ہم نے جیت بھی لی ہے)
لیکن مشرق اپنی روح کے اندر ہار گیا ہے!
قبلا خان تم ہار گئے ہو
اور تمہارے ٹکڑوں پر پلنے والا لالچی مارکوپولو
۔ ۔ ۔ ۔ جیت گیا ہے
اکبرِ اعظم ! تم کو مغرب کی جس عیارہ نے تحفے بھیجے تھے
اور بڑا بھائی لکھا تھا
اس کے کتے بھی ان لوگوں سے افضل ہیں
جو تمہیں مہابلی اور ظل اللہ کہا کرتے تھے
مشرق کیا تھا؟
جسم سے اوپر اٹھنے کی اک خواہش تھی
شہوت اور جبلت کی تاریکی میں
اک دیا جلانے کی کوشش تھی
میں سوچ رہا ہوں ، سورج مشرق سے نکلا تھا
(مشرق سے جانے کتنے سورج نکلے تھے)
لیکن مغرب ہر سورج کو نگل گیا ہے
" میں ہار گیا ہوں "
۔ ۔ ۔ ۔ میں نے اپنے گھر کی دیواروں پر لکھا ہے
" میں ہار گیا ہوں "
میں نے اپنے آئینے پر کالک مَل دی ہے
اور تصویروں پر تھوکا ہے
ہارنے والے چہرے ایسے ہوتے ہیں
میری روح کے اندر اک ایسا گہرا زخم لگا ہے
جس کے بھرنے کےلیے صدیاں بھی ناکافی ہیں
میں اپنے بچے اور کتے دونوں کو ٹیپو کہتا ہوں
مجھ سے میرا سب کچھ لے لو
اور مجھے اک نفرت دے دو
مجھ سے میرا سب کچھ لے لو
اور مجھے اک غصہ دے دو
ایسی نفرت ، ایسا غصہ
جس کی آگ میں سب جل جائیں!
۔ ۔ ۔ ۔ میں بھی

خوشیوں کو ترستی قوم کو یوں نہ چڑائیں ۔۔۔۔

( اگر آپ میرے اس مضمون سے متفق ہیں تو اسے آگے شیئر کریں اور اپنی رائے سے آگاہ کریں )
مہذب ملکوں کی حکومتیں اپنے عوام کو خوشیاں دینے کے مواقع ڈھونڈھتی ہیں اور ہماری شاہانہ مزاج حکومت اپنی رعایا کو چڑانے اور ذلیل کرنے کے بہانے تلاش کرتی ہے ۔۔۔ عید کے تیسرے دن کام پہ بلانے کا گھناؤنا عمل بھی انہی میں سے ایک ہے ۔۔۔ خوشیوں کو ترستے عوام کو خود حکومت تو اپنی کارکردگی سے کوئی حقیقی خوشی فراہم کر نہیں سکتی لیکن یہ احساس دلانا ضروریاد رکھتی ہے کہ عید کی خوشیاں بھی اب اسکے اشارہء ابرو کی محتاج ہیں کیونکہ یہ گویا ایک طرح سے حکم حاکم ہے کہ اب قوم حضرت ابراہیم کی سنت نہیں معاذاللہ حضرت نواز شریف کے حکم کو ترجیح دے اور اب تیسرے دن کی قربانی کو تو بھول ہی جائے ۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ میری اس تحریر پہ کیا ردعمل ہوگا ۔۔۔ کیونکہ سرکاری خوشامدیوں کے منہ میں ایسے جوابات ہمیشہ ہی بھرے رہتے ہیں کہ جن میں نری لفاظی کے سوا کچھ نہیں ہوتا لیکن اسکے باوجود جینیوئن سوالات ختم کبھی نہیں ہوتے ۔۔۔ میں بخوبی اندازہ کرسکتا ہوں کہ راگ درباری الاپنے والوں کی طرف سے یہ کہا جائیگا کہ " قوموں کی ترقی کی راہ میں یہ چھٹیاں حائل ہو جاتی ہیں اور یہ کہ ایک دن کام نہ ہونے سے قومی خزانوں کو اتنے ارب روپوں کا نقصان ہوجاتا ہے" جبکہ میرا تو یہ خیال ہے کہ جس طرح پی آئی اے، اسٹیل مل اور ریلوے بدترین خسارے سے دوچار ہیں اور ہر ماہ اس نقصان میں اربوں روپے کا اضافہ ہوتا رہتا ہے ، کسی ایک دن چھٹی کرنے سے شاید اس خسارے کے تاوان میں بھی کچھ کمی تو آہی جاتی ہوگی کیونکہ منافع یا آمدنی تو درکنار ہرماہ حکومتی خزانے سےان اداروں کو کئی ارب روپے انکے بنیادی اخراجات کو پورا کرنے کے لیئے سبسڈی فراہم کی جاتی ہے-
اس بات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس طرح کے سارے حکومتی اقدامات کا سارا اثر مختلف صنعتوں و ملازمتوں سے جڑے تنخواہ دار طبقے پہ ہی پڑتا ہے اور یہ طبقہ ہی وہ ہے کہ جسکی آمدنی پہ لگنے والے ٹیکسوں پہ سارا ملک اور سکے سب ادارے پلتے ہیں جبکہ سرکاری ملازموں کی تو بارہ مہینے ہی عید رہتی ہے ،،، ادھر زمیندار طبقہ تو کھاٹ پہ لیٹے لیٹے کمانے کا عادی ہے ۔۔۔ جبکہ اسکے ہاریوں کے لیئے کسی دن بھی چھٹی نہیں ہوتی ۔۔۔اگر فصل کی اگائی یا کٹائی کے دن ہوں تو کیا جمعہ اور کیا اتوار اور کیسی عید اور کہاں کی شب برات ۔۔۔۔ لے دے کے شہری صنعتی کارکنان ہی وہ گدھی ہیں کہ جن پہ حکومتی کمہاروں کا خوب بس چلتا ہے اوروہ بہانے بہانے سے جی بھر کے انکے کان مروڑے ہی چلے جاتے ہیں ۔۔۔ یہ لوگ ہی وہ طبقہ ہیں کہ جان توڑ محنت کرتے ہیں اور اپنے پیاروں کی زندگیوں راحت لانے کے لیئے اکثر دور دراز کے علاقوں میں ملازمتیں کرتے ہیں اور انکی خوشیوں کی معراج بس یہی عید بقرعید کے تہوار ہوا کرتے ہیں کہ جب ذرا سکون سے یہ اپنےپیاروں کے درمیان چند روز بیٹھ پاتے ہیں اور اپنے سنگی ساتھیوں کے ساتھ کچھ موج میلہ بھی کرپاتے ہیں لیکن ان حکومتی بزرچمہروں کو اس دودھ دینے والی گائے کی یہ مٹھی بھر خوشیاں بھی گوارا نہیں ہوتیں اور اپنا سارا حکومتی اختیار بجائے امن و امان قائم کرنے اور عدل و انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ، یہ لوگ خوشیاں چھیننے اور انکا ،منہ چڑانے میں ہی صرف کرتے دکھائی دیتے ہیں

جہانتک بات ہے اس طرح کی چھٹیوں اور معاصر دنیا کی تو دور کیوں جائیں اپنے پڑوسی ملک بھارت ہی کو دیکھ لیں کہ جہاں بہانے بہانے سے قومی تعطیلت کی بھرمار لگی رہتی ہے اور سیکولر ملک کہلانے کے سب وہاں ہندومت ہی نہیں اسلام ، عیسائیت ، سکھ ازم ، جین ازم اور پارسی مذہب تک کی خاص مذہبی چھٹیوں کو قومی تعطیلات کے طور پہ منایا جاتا ہے جبکہ دیگر قومی نوعیت کے دنوں کی چھٹیاں الگ ہیں لیکن گزشتہ کئی برس سے انکی اقتصادی نمو کی رفتار نہایت تیز یعنی 9 سے دس فیصد سالانہ کے لگ بھگ چلی آرہی ہے- اسی طرح اہل مغرب اپنی قومی یادگاری تعطیلات کے علاوہ ہفتہ بھر کرسمس کی چھٹیاں کرتے ہیں اور گڈ فرائی ڈے اور ایسٹر پہ بھی کئی چھٹیاں مناتے ہیں ۔۔۔لیکن ان سب چھٹیوں کی کسر وہ زیادہ اور بہتر کام کرکے نکال لیتے ہیں ۔۔۔ ہم بھی ایسا کرسکتے ہیں اور اگر کوئی چھٹی اضافی دینی بھی پڑجائے تو اسے دے ڈالیں اور بھلے اسکی کسر اگلے ایک ہفتے کے دفتری اوقات میں ایک گھنٹہ روز بڑھاکے پوری کرلیں لیکن اس مسرتوں سے محروم اور آسائشوں نہیں بنیادی ضروریات تک کے لیئے بلکتی اس قوم کو یوں مزید لاچار نہ کریں اور جو ایک آدھ زیادہ چھٹی وہ دور دراز سے آکے اپنے پیاروں کے ساتھ منا سکتے ہیں انہیں اس سے محروم نہ کریں 

اَجرامِ فلکی کی بابت اِسلامی تعلیمات

اِس کائناتِ ہست و بود میں اللہ ربّ العزت کی تخلیق کے مظاہر ناقابلِ شمار ہیں۔ اَجرامِ سماوِی اور ان مجموعہ ہائے نجوم کی ریل پیل کائنات کے حسن کو دوبالا کرتے ہوئے اُسے ایک خاص انداز میں متوازن رکھے ہوئے ہے۔ یہی توازن اِس کائنات کا حقیقی حسن ہے، جس کے باعث مادّہ (matter) اور ضدِمادّہ (antimatter) پر مشتمل کروڑوں اربوں کہکشاؤں کے مجموعے (clusters) بغیر کسی حادثہ کے کائنات کے مرکز کے گرد محوِ گردش ہیں۔ ان کلسٹرز میں کہکشاؤں کا ایک عظیم سلسلہ اور ہر کہکشاں میں اربوں ستارے اپنے اپنے نظام پر مشتمل سیاروں کا ایک گروہ لئے کُنْ فَیَکُوْن کی تفسیر کے طور پر خالقِ کائنات کے اوّلیں حکم کی تعمیل میں محوِ سفر ہیں۔
حرکت اِس کائنات کا سب سے پہلا اُصول ہے۔ حرکت میں برکت ہے اور برکت صرف حرکت میں ہے۔ حرکت کو ہی اِس کائنات میں حقیقی دوام اور ثبات حاصل ہے۔ حرکت زندگی ہے اور سکون موت ہے۔ کائنات کو اِس موجودہ حالت میں آئے 15 ارب سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ آج سے 15 ارب سال پہلے دراصل بگ بینگ (Big Bang) رُونما ہوا تھا جس سے کائنات کا اِبتدائی مادّہ ہر سُو بکھرا اور اُس کے نتیجے میں یہ سلسلۂ اَفلاک و اَجرام سماوِی وُجود میں آیا۔ تخلیقِ کائنات کا وہ عظیم لمحہ جب سے وقت کی دَوڑ شروع ہوئی نہایت عظیم لمحہ تھا۔ کُنْ فَیَکُوْن کا راز تخلیقِ کائنات کے سائنسی راز کے کھلنے پر ہی مُنکشف ہو سکتا ہے۔ مخلوق پر غور و فکر خالق تک رسائی کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے۔ اللہ ربّ العزت نے تبھی تو اپنے نیکوکاروں کے اَوصاف کے بیان میں فرمایا کہ میرے محبوب بندے وہ ہیں جو کھڑے اور بیٹھے ہر حالت میں مجھے یاد کرتے ہیںاور اُس کے ساتھ ساتھ کائناتِ ارض و سماء کی تخلیق میں بھی غوروفکر کرتے رہتے ہیں۔ کائنات کی تخلیق میں غور و فکر کرنے سے لامحالہ اُنہیں خالقِ کائنات کی عظمت کا اِدراک ہوتا ہے اور بات اِیمان بالغیب سے آگے بڑھ کر اِیقان تک جا پہنچتی ہے۔ اللہ ربّ العزت نے اپنے محبوب بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا :
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُوْلِي الْأَلْبَابِOالَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِO
(آل عمران، 3 : 190، 191)
بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور شب و روز کی گردِش میں عقلِ سلیم والوں کے لئے (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیںo یہ وہ لوگ ہیں جو (سراپا نیاز بن کر) کھڑے اور (سراپا اَدب بن کر) بیٹھے اور (ہجر میں تڑپتے ہوئے) اپنی کروٹوں پر (بھی) اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق (میں کارفرما اُس کی عظمت اور حسن کے جلوؤں) میں فکر کرتے رہتے ہیں، (پھر اُس کی معرفت سے لذّت آشنا ہو کر پکار اُٹھتے ہیں :) ’’اے ہمارے ربّ! تو نے یہ (سب کچھ) بے حکمت اور بے تدبیر نہیں بنایا، تو (سب کوتاہیوں اور مجبوریوں سے) پاک ہے، ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے‘‘o
پہلی آیتِ کریمہ میں حاملینِ عقل و شعور کے لئے تخلیقِ ارض و سماوات اور اِختلافِ لیل و نہار میں بھی اللہ ربّ العزت کی بے شمار نشانیوں کا ذِکر کرنے کے بعد دُوسری آیتِ کریمہ میں اللہ ربّ العزت نے اپنے محبوب بندوں کے اپنے حضور میں روز و شب کی طاعت گزاری اور تقویٰ کا ذِکر کیا اور اُس کے معاً بعد اُن کی دُوسری خوبی یہ بیان کی کہ وہ کائنات کی تخلیق و تشکیل میں غور و فکر کرتے ہیں اور اللہ کی تخلیق کے رازوں پر سے پردہ اُٹھتے ہی اُس کی بارگاہ میں سجدۂ شکر بجا لانے کو پکار اُٹھتے ہیں کہ ’’اے ہمارے ربّ! تو نے یہ (سب کچھ) بے حکمت اور بے تدبیر نہیں بنایا‘‘۔
ایک طرف قرآنِ مجید میں تخلیقِ ارض و سماوات کے رازہائے سربستہ سے پردہ اُٹھانے کا اِس قدر واضح حکم اللہ ربّ العزت کے محبوب و مکرم بندوں کے لئے موجود ہے اور دُوسری طرف دورِ حاضر کی جملہ کائناتی تحقیقات کے علمبردار بالعموم مغربی ممالک کے غیرمسلم سائنسدان ہیں۔ رہی بات مسلمانوں کی تو اُن کی علمی پسماندگی اِس نوبت کو جا پہنچی ہے کہ وہ اِس علم سے متعلقہ کوئی خبر بھی سن لیں تو اِس قرآنی علم کو غیروں کا علم قرار دے کر استغفرُاﷲ / نعوذُباللہ پڑھتے ہوئے کانوں میں اُنگلیاں ٹھونس لیتے ہیں۔ اللہ ربّ العزت کے محبوب بندوں کی صف میں شامل ہونے کے لئے اپنے ہی اَسلاف کا پروان چڑھایا ہوا علم اَغیار سے سیکھنا اور اُسے دوبارہ سے حرزِ جاں بنانا خالقِ کائنات کی حقیقی معرفت کے حصول کے لئے ایک لابدّی امر ہے۔
سرِدست اِس باب میں ہم چند اہم اَجرامِ سماوِی کا مختصر طور پر سائنسی اور قرآنی حوالوں سے تذکرہ کریں گے تاکہ قارئین پر یہ واضح ہو سکے کہ قرآنِ مجید علمِ فلکیات (astronomy) کے کتنے اہم راز ہمارے سامنے بے نقاب کرتا ہے اور ہم سے علمِ فلکیات کے سلسلے میں کیا توقعات رکھتا ہے۔
ستارے (Stars)
بھڑکتی ہوئی ہائیڈروجن (Hydrogen) اور ہیلئم (Helium) کے گولے جو ایک دُوسرے کے مابین لاکھوں کلومیٹر کا فاصلہ چھوڑے پوری کائنات میں ہر سُو بکھرے ہوئے ہیں۔ اُن کے اندر ہونے والی خودکار ایٹمی تابکاری ہر طرف نور بکھیرتی نظر آتی ہے۔ ستارے اپنے اندر جلنے والی گیسوں ہی کی بدولت اِس قدر روشن نظر آتے ہیں۔ جب کائنات کی اوّلین تخلیق عمل میں آئی تو بِگ بینگ کے نتیجے کے طور پر ہر سُو بکھرنے والے مواد سے گیسی مرغولوں نے جنم لیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی کثافت بڑھتی چلی گئی اور وہ نسبتاً کثیف اَجسام کی شکل اِختیار کرتے چلے گئے۔ گیس اور گَرد و غبار کے عظیم بادل کششِ ثقل سے اندرونی سمت سُکڑنا شروع ہو گئے جس سے ستاروں کو وُجود ملا۔ گیسی مرغولوں کے سُکڑنے کے اِس عمل میں ستاروں کے ایٹم باہم ٹکراتے اور رگڑ کھاتے رہے جس سے حرارت اور توانائی کا اِخراج شروع ہو گیا۔ جوں جوں کوئی ستارہ سُکڑتا چلا گیا توانائی کے اِخراج کا عمل اِسی قدر تیز ہوتا چلا گیا۔ مرکزی ایٹم شدید دباؤ کے تحت ایک دُوسرے کے قریب ہونے سے حرارت میں مزید اِضافہ ہوتا چلا گیا، یوں روشن و منوّر ستارے وُجود میں آ گئے۔
قرآنِ مجید میں ستاروں کے لئے ’’النُّجُوْم‘‘ اور ’’المَصَابِیْح‘‘ کا لفظ اِستعمال ہوا ہے۔ فرمایا :
وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ.
(الاعراف، 7 : 54)
اور سورج اور چاند اور ستارے (سب) اُسی کے حکم (سے ایک نظام) کے پابند بنا دیئے گئے ہیں۔
سورج، چاند اور ستارے سب اللہ ربّ العزت کے تخلیق کردہ نظامِ فطرت کے یکساں پابند ہیں اور اَحکامِ خداوندی سے سرِمُو سرتابی کی جرات نہیں کرتے۔ نظامِ فطرت ہی کی پابندی سے کائنات میں حسن ہے اور اگر یہ نظم نہ رہے تو کائنات درہم برہم ہو جائے اور قیامت چھا جائے۔ قیامت کا وُقوع بھی فی الحقیقت ایک ایسے ہی اَمر کا متقاضی ہے، جب ستارے باہمی فاصلہ برقرار رکھنے سے مُنحرف ہو جائیں گے اور اپنے مابین طے شدہ فاصلوں کو برقرار رکھنے کی بجائے منہدم ہوکر ایک دُوسرے سے جا ٹکرائیں گے۔ کششِ ثقل کا یہ توازُن جو آج جمیع کائنات کے حسن و نظم کو تھامے ہوئے ہے، بگڑے گا تو سب نیست و نابود (annihilate) ہو جائے گا۔
قرآنِ مجید بھی وُقوعِ قیامت کے ضمن میں ستاروں کی کششِ ثقل کا توازُن بگڑنے اور باہمی تصادُم پیش آنے کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :
وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْO
(التکوير، 81 : 2)
اور جب ستارے (اپنی کہکشاؤں سے) گِر پڑیں گےo
ستاروں میں موجود اِیندھن کے جل جل کر ختم ہو جانے پر اُن سے توانائی اور حرارت کا اِخراج ختم ہو جائے گا اور وہ بُجھ کر بے نور ہو جائیں گے۔
اِرشادِ ربانی ہے :
فَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَتْO
(المرسلت، 77 : 8)
اور جب ستارے بے نور کر دیئے جائیں گےo
ستاروں کا بے نور ہونا دراصل اُن کی زِندگی کا آخری مرحلہ ہے۔ یہاں ہمیں ایک ستارے کی شروع سے لے کر آخر تک مکمل زِندگی کا سمجھنا ضروری ہے۔ ستارے گیسوں سے مرکب ایسے گولے ہیں جو نیوکلیئر فیوژن سے پیدا شدہ توانائی کا اخراج کرتے ہیں۔ اُن کی پیدائش گرد اور گیس کے اُن بادلوں میں ہوتی ہے جنہیں نیبیولا (nebula) کہا جاتا ہے۔ نیبیولا یعنی سحابیہ دراصل کسی ستارے کی وہ اِبتدائی دُخانی حالت (gaseous stage) ہوتی ہے جس سے وہ تشکیل پاتا ہے۔ سحابیئے میں موجود گیس اور گرد و غبار کششِ باہمی کی وجہ سے آپس میں ٹکرا کر سکڑتے ہوئے پروٹوسٹار کو جنم دیتے ہیں۔ پروٹوسٹار کو ہم نیم ستارہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہی پروٹوسٹار اندرونی دباؤ کے تحت کثیف اور شدید گرم ہوتے چلے جاتے ہیں، بالآخر وہ اِتنے شدید گرم ہو جاتے ہیں کہ اُن کے اندر خودکار ایٹمی دھماکوں کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اَب ہم اُنہیں مکمل ستارہ کہہ سکتے ہیں۔
درمیانے درجے کے ایک ستارے کی زِندگی چند ارب سال کے قریب ہوتی ہے۔ یہ عام طور پر ہائیڈروجن سے بنے ہوتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہائیڈروجن جل جل کر ہیلئم میں تبدیل ہوتی چلی جاتی ہے۔ ہائیڈروجن سے ہیلئم میں تبدیلی کے عمل کے ساتھ ساتھ ہیلئم بھی شدید درجۂ حرارت کی بناء پر جلنے لگتی ہے اور ہائیڈروجن اور ہیلئم کے جلنے کا یہ دُہرا عمل ستارے کو اور بھی زیادہ گرم کر دیتا ہے۔ ہیلئم کی راکھ (یعنی کاربن) ستارے کے مرکز میں جمع ہوتی چلی جاتی ہے۔ جب ہیلئم بڑی مِقدار میں کاربن میں تبدیل ہو جاتی ہے تو ستارہ اچانک ایک دھماکے کے ساتھ پھول جاتا ہے، وہ اپنی اصل جسامت سے کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور اُس کا رنگ بھی سرخ ہو جاتا ہے۔ اِس حالت میں اُسے ’’سرخ ضخام‘‘ (red giant) کہتے ہیں۔ اُس کے بعد ستارہ ٹھنڈا ہونے اور سکڑنے لگتا ہے۔ اگر وہ ستارہ ہمارے سورج سے دس گنا بڑھ ہو تو وہ مرنے سے قبل ایک بار پھر سپرنووا کے دھماکے کے ساتھ پھٹتا ہے مگر یہ مرحلہ کچھ زیادہ دیر باقی نہیں رہتا اور مرتے ہوئے ستارے کی آخری ہچکی ثابت ہوتا ہے۔ اَب وہ ستارہ جلد ہی سیاہ شگاف (black hole) میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ( منقول )

ایدھی گئے تو کیا ٹرسٹ بھی گیا ۔۔۔؟؟؟

کتنے زود فراموش ہیں ہم لوگ ۔۔۔ ابھی جیسے کل ہی کی تو بات ہے کہ ہم نے 8 جولائی کو ایدھی کے انتقال پہ آنسؤوں کے دریا ہی بہا ڈالے تھے ۔۔۔ اور اس خادم انسانیت کے قائم کردہ ادارے کو ایدھی ٹرسٹ کو پورے وطن کا سائبان قرار دے رہے تھے اور یہ عہد کرتے سنے جارہے تھے کہ ہم اس عظیم ادارے کی پشت پہ کھڑے رہینگے اس کا ہاتھ تھامے رکھیں گے لیکن محض دو ہی ماہ میں ہم نے جیسے ان کی ساری خدمات کو بھلا دیا اور اب عالم یہ ہے کہ آج یہ خبر ملی ہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے نئے سربراہ فیصل ایدھی نے پریس کو بتایا ہے کہ اس برس ایدھی ٹرسٹ کو پچھلے برس کی نسبت قربانی کی کھالیں آدھی ملی ہیں ۔۔۔ یہ کوئی سنی سنائی ٹئپ کی خبر ہوتی تو میں کبھی یقین نہ کرتا ۔۔۔ کیونکہ اس سال تو عوام سے گن پوائنٹ پہ کھال چھیننے والے متحدہ کے شیر اب اپنی ذاتی کھال بچاتے پھر رہے ہیں ، لیکن یہ تو خود فیصل ایدھی کی جانب سے دیا گیا ایک باضابطہ بیان ہے ۔۔۔ یعنی یوں محسوس ہورہا ہے کہ عبدالستار ایدھی کیا گئے ان کے ادارے پہ سے ٹرسٹ بھی ختم ہوا ۔۔۔
اہل شہر کی زود فراموشی کے علاوہ اس کمی کی دوسری بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ متحدہ کا وحشیانہ خوف ختم ہونے کے بعد مختلف مدرسوں و فلاحی اداروں کی ٹیموں نے گھر گھر جاکر رابطے کیئے اور کھالیں جمع کرلیں جبکہ ایدھی ٹرسٹ نے ایسی گھر گھر رابطہ کاری کا کام نہ ہی پہلے کبھی کیا تھا اورنہ ہی اب کیا ہے ۔۔۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایدگی ٹرسٹ اس صورتحال کا تدارک کرے اور اور اہل شہر بھی اپنے فرائض سے پہلو تہی نہ کریں اواز خود اس ادارے کی مدد کریں ،،، جب اسکی کارکردگی پہ اعتماد ہے تو پھر یہ غرور کیسا کہ وہ مدد لینے گھر آئیں تبھی دینگے ،،، اسکے بجائے ہونا تو یہ چاہیئے کہ اگر ہر شہری ہر ماہ اپنی آمدنی میں سے ایک دو فیصد رقم بھی پابندی سے رقم ایدھی ٹرسٹ کو دینے کو اپنامعمول بنا لے تو یہ ادرہ اپنے فلاحی کام پوری آسانی سے کرسکے گا بلکہ انکا دائرہ اور بڑھ جائے گا اور رب کریم بھی یقینناً انکی آمدنیوں میں بہت اضافہ بھی فرمائے گا اور دیگر اجر بھی عطا کرے گا-
کوئی یہ بھی تو سوچے کہ اس طرح ایدھی فاؤنڈیشن کو بے یارو مددگار چھوڑدینے سے ان ہزاروں سسکتے افراد کا کیا ہوگا کہ جو اس ادارے کی خدمات سے مستفید ہو رہے ہیں اور جنکی غذا ہی نہیں دوا دارو تک کے اخراجات یہ عظیم فلاحی ادارہ برداشت کر رہا ہے ۔۔۔۔ آج ایدھی صاحب زندہ ہوتے تو اہل شہر سے پوچھتے کہ تم لوگ پہلے تو متحدہ کے خوف سے کھالیں دینے سے رکے رہتے تھے لیکن کیا اب خدا کا خوف بھی نہیں کہ انکے ادارے کی دستگیری پہ انحصار کرنے والے مجبور بلکتے محروم لوگوں کی ان سنی فریادوں پہ کان دھرا جائے

دل پٹھان ہوتا جا رہا ہے

نہانے کو جی نہیں کرتا
دل پٹھان ہوتا جا رہا ہے
جوتیاں گِھسیں کوئے یار میں
بہت نقصآن ہوتا جارہا ہے
الطاف صرف بکواس کرتا ہے
منہ کا جریان ہوتا جارہا ہے
پھر شادی کرے گا بڑھاپےمیں
اک یار عمران ہوتا جارہا ہے
گندم نہیں ، ہے فکر بال اگانےکی
وہ گنجا میاں برادران ہوتا جارہا ہے
کہا بیٹے کو بھیجو برائے جہاد
مولوی بولا توشیطان ہوتا جارہا ہے
سرفراز کی ہے گڈی چڑھی ہوئی
آفریدی حیران ہوتا جارہا ہے
عارف یہ کیسی نظم ہے بھلا
ہر اک شاعر پریشان ہوتا جارہا ہے

لاہور اور ڈیرہ غازی خان میں بھی بزم ظرافت قائم ہوگئی

الحمد للہ کراچی کے بعد چکوال اور اب لاہور اور ڈیرہ غازی خان میں بھی بزم ظرافت کی شاخیں قائم ہوگئی ہیں لاہور میں پروفیسر سلیم ہاشمی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ جو کسی تعارف کے محتاج نہیں کیونکہ وہ ملک میں اردو زبان کے نفاذ کے لیئے کی جانے والی جدوجہد کے مجاہد اعظم ہیں اور ساتھ ہی ساتھ نہایت بذلہ سنج علمی شخصیت ہیں دوسری طرف ڈیرہ غازیخان ڈویژن میں یہ ذمہ داری جناب یاسر شیخ کو دی گئی ہے کہ جو وہاں کے ایک نہایت متحرک سماجی شخصیت اور بہت معروف صحافی رہنماء ہیں اور اے آر وائی چینل سے منسلک ہیں ۔۔۔ ان دونوں حضرات سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہاں کے احباب کے تعاون سے مل جل کر اپنے علاقے کے اہل فکر و نظر، سماجی و علمی شخصیات ، اہل صحافت اور انتظامی افسران اور ذہین طلباء کو وقتاً فوقتاً کھانے کی نشست پہ مدعو کریں اور ہلکی پھلکی گپ شپ کے ساتھ قومی موضوعات پہ تبادلہء خیال کا اہتمام کریں اوریوں یہ حضرات باہم ملک و قوم کو درپیش مسائل کا حل کھوجنے کی کاوشیں کریںگے اور ہماری بزم کے یہ ڈویژنل صدور وہاں پیش کیئے جانے والے خیالات کا خلاصہ اور اہم وڈیو بائٹس سوشل میڈیا پہ پیش کریں گے اور یوں قوم کی ذہنی تربیت کا خاص اہتمام کرینگے- ضروری نہیں ہر بار کسی بڑی نشست کا انتظام کیا جائے لیکن ہر تین چار نشستوں میں سے ایک کو نسبتاً ذرا بہتر پیمانے پہ منعقد کرلیا جائے تو یہ اچھا رہے گا- دوسرے شہروں میں بھی بزم ظرافت کے قیام کے لیئے بھی درد مند اہل ذوق رابطہ کریں لیکن یہ واضح رہے کہ کسی حرام مال کی بل پہ نمایاں ہونے والے یا کسی دو نمبر بندے کی ہمیں مطلق کوئی ضرورت نہیں ہے
اللہ کریم ان مخلص حضرات قومی تعمیر و تربیت کے اس درد مندانہ عمل میں کامیاب کرے-
دوسری بات یہ کہ یہاں کراچی میں ہمارا دوسرا پروگرام سٹار مارکیٹنگ اور مین ہل ایڈورٹائزنگ کے چیئرمین واثق نعیم صاحب کی جانب سے اس پتے پہ جمعہ 30 ستمبر کی شب 8 بجے ہوگا اور جو ہم سے رابطہ کرے گا ان میں سے انتخاب کرکے ہی لوگوں کو مدعو کیا جائے گا- جیسا کہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں اور پھر دہرائے دیتے ہیں کہ ہماری بزم میں کسی فرقہ پرست اور انتہا پسند یا تعصبی کی کوئی گنجائش نہیں - ہر ماہ اس میں ہرشعبہء زندگی سے لوگ مدعو کیئے جاتے ہیں اور غیر رسمی ماحول میں گپ شپ بھی ہوتی ہے تھوڑی سی شاعری بھی سنی جاتی ہے لطائف بھی پیش کیئے جاتے ہیں اور ایک افسانہ یا مزاحیہ مضمون بھی سنایا جاتا ہے اور آخر میں ہلکے پھلکے انداز میں کسی قومی مسئلے یا سماجی موضوع پہ اظہار خیال بھی کیا جاتا ہے ۔۔۔ اور اس ہی کارروائی کے دوران ہی لذیذ کھانا بھی کھالیا جاتا ہے -یوں سمجھ لیجیئے کہ مصروفیت کے اس دور میں آپکواس بہانے زندہ دلی کی ایک مسکراتی شام میں نئےدوستوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے اس دوسری نشست میں طارق ٹونکی کی خطاطی کے شہکار نمونوں کی نمائش کے علاوہ ، ساحر لدھیانوی کی شاعری کے منتخب حصے ( امتیاز ملک) ، امین بھایانی کا افسانہ ( م ص ایمن) ، سلیم فاروقی کی 4 مختصر صدلفظی کہانیاں اور ایک مزاحیہ مضمون پیش کیا جائے گا اسکے علاوہ ایک اہم موضوع " انتہا پسندی کا خاتمہ کیسے ہو اس پہ جناب سلیم مغل اور عقل عباس جعفری کو مختصر اظہار خیال کی دعوت دی جائے گی 

آج کیا پکائیں ۔۔۔ ( طنز و مزاح )

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ کائنات کا سب سے اہم سوال کیا ہے تو نہ تو میں‌ آسمان و زمین کے وجود کی بابت پوچھے جانے والے کسی سوال کی جانب اشارہ کروں گا اور نہ ہی انسانی فطرت کے اسرار کے بارے میں کسی سوال کا حوالہ دوں گا ،،، گو یہ سوال بھی خاصے اہم ہیں لیکن اتنے اہم پھر بھی نہیں نہیں جتنا کہ یہ سوال کہ 
" بتائیں آج کیا پکائیں" 
اور یہ سوال میرے گھر میں کہ جسے میں اپنی کائنات کہتا ہوں تقریباً روز ہی اٹھتا ہے اور بلا ناغہ و باقاعدگی سے صبح ابھی جبکہ ناشتہ جاری ہی ہوتا ہے، بیگم اس سوال کا ہتھوڑا لیئے میرے سر پہ آموجود ہوتی ہیں‌ اکثر تو میں چپ چاپ نکل بھگتا ہوں لیکن کبھی کبھی نکل بھاگنے کے سبھی رستے مسدود ہوتے ہیں کیونکہ محض ڈیڑھ فٹ کے فاصلے پہ وہ ہتھوڑا بدست موجود ہوتی ہیں اور وہ یہ ہتھوڑا اس وقت تک برساتی رہتی ہیں کہ جب تک انکی سانس پھول نہیں جاتی یا وہ یہ سوال ہی بھول نہیں جاتیں ۔۔۔ لیکن بعد میں یاد آتے ہی پھر اسی سوال کا ہتھوڑا لیئے آدھمکتی ہیں اور مجھے درست طور پہ یوں لگنے لگتا ہے کہ مسئلہ کھانا پکانے سے زیادہ مجھے پکانے کا ہے کیونکہ انکے چلے جانے کے بعد میرے دل حزیں‌ سے اور منہ سے ویسی ہی مسرت انگیز سیٹی نکلتی ہے کہ جیسے خوب پکائی کے بعد پریشر ککر میں سے بجتی سنائی دیتی ہے - 
پھر میں یہ سوچنے لگتا ہوں کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ کچھ تکلیف دہ باتیں روز یا اکثر ہی کیوں ہوتی ہیں ، اور خوشگوار باتوں کو بار بار ہونے سے کیا موت پڑتی ہے ،،؟؟ پھر خود کو اس ڈھنگ سے سمجھاتا ہوں کہ " صاحب بس یوں سمجھیئے کہ کچھ نہ کچھ چیزیں اکثر گھروں میں روز ہوتی ہیں جیسے ملنسار لوگوں کے گھروں میں روز کوئی نہ کوئی کوئی مہمان آکے پڑ جاتا ہے ، یا جیسے کچھ سلگتے بلکتے لوگوں کے بدن میں روز ہی صبح سے کوئی نہ کوئی درد جنم لے لیتا ہے اور وہ یہاں وہاں جسم کے کسی کسی نہ کسی حصے پہ ہاتھ رکھے ہمیشہ درد سے کراہتے سنے جاتے ہیں تو عین اس طرح یہ سوال اٹھنا آپکے اپنے گھر کی چھوٹی سی دنیا کا مقسوم ہے اور اس پہ صبر کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں " لیکن کبھی کبھی خود کو سمجھانے کی یہ کوشش بے سود بھی رہتی ہے ۔۔۔ کیونکہ یہ وہ دائمی بلکہ قائمی مسئلہ ہے کہ جو روز ہی چڑاؤنا کیئے دیتا ہے اور مجھے بے طرح ڈستا ہے اور بیگم بھی تازہ دم ہوکے ہر صبح میرے عین سامنے اپنے اس سوالی مورچے پہ آکے ڈٹ جاتی ہیں اور بلا ناغہ گفتگو کی پٹاری کھول کے اس سوال کا ناگ برآمد کرتی ہیں اور پھریہ بین تادیر بجتی رہتی ہے کہ "بتائیے آج کیا پکائیں" ۔۔۔۔
ویسے یہ مسئلہ اک میرے گھر سے ہی مخصوص نہیں کیونکہ پیٹ تو سب کے جسمانی سامان کا لازمی حصہ ہے اور اسی لیئے اس سوال کا ہتھوڑا بھی روز ہی ہر ایسے شریف صاحب خانہ کے سر پہ جم کے برستا ہے کہ جو گھر میں ناشتے کی فاش غلطی کرتا ہے لیکن جو لوگ اس سوال سے بچنےکے لیئے ناشتے سے قبل ہی دفتر کے نام پہ کبھی نکل بھاگتے ہیں تو انکی زندگی ہر رات کے کھانے کے وقت ہی حرام کردی جاتی ہے اور وہ اس سوال سے بچ پھر بھی نہیں سکتے ۔۔۔ اس سوال سے ناوقف لوگ جو کہ محض کنوارے ہی ہوسکتے ہیں یا پھر ایک ماہ کے بعد ہی طلاق یا رنڈاپے کی نوبت تک پہنچ جانے والے ( کیونکہ عموماً پہلے ماہ کسی بھی طرح کی دلہن سے کام کرانے کا رسک نہیں لیا جاتا کہ اپنا دل اور کھانا دونوں جلائے گی ) - اس سوال والے معاملے میں عجب ستم یہ ہے کہ بظاہر تو یہسوال کوئی ایسا خاص گھمبیر معلوم بھی نہیں ہوتا بلکہ اس طرح کے سوال میں تو مخاطب کی عزت افزائی کا پہلو چھپا معلوم ہوتا ہے ۔۔ لیکن اس استفسار کی چبھن ، اس کی حدت اور شدت کا احوال وہی لوگ جانتے ہیں کہ جو ایک عدد بیوی کے حامل ہیں اور روز ہی اس سوال کی سولی چڑھائے جاتے ہیں - کوئی مرد اس سوال کا صحیح جواب دے پائے یہ کچھ یقینی بھی نہیں خواہ وہ آخری درجے کا ایک صلح جو اور مسکین سا شوہر ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس مسئلے میں صرف جواب دینا ہی ضروری نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس جواب کو بیگم کی طرف سے شافی و کافی باور کرلینے کی سند مل جانا بھی لازمی ہے اور یوں بیگم کا درجہء اطمینان تک پہنچ جانا ہی گلو خلاصی کی واحد شرط ہے -
میں دنیا بھر کی بات نہیں کرتا ، لیکن مجھے اپنی کائنات کے سب سے بڑے مسئلے کو پوری دلجمعی و مکمل تندہی سے حل کرنا ہوتا ہے اور وہ بھی ایسے عالم میں کہ بیگم اسکے حل ہونے تک سرپہ موجود رہتی ہیں اور اس سچائی سے تو ہر وہ شخص واقف ہے کہ جو کبھی نہ کبھی خود طالبعلم رہ چکا ہو کہ کوئی ذہین سے ذہین طالبعلم بھی امتحان میں پرچہ کا وہ سوال ڈھنگ سے حل نہیں کرسکتا کہ جو اگر اس دوران کوئی خشمگیں صورت لیئے کوئی ممتحن اسکے سر پہ ہی کھڑا رہے ۔۔۔ - اور پھر یہ سوال بھی تو وہ ہے کہ جس کے جواب میں نقل کی سہولت بھی موجود نہیں ۔۔۔ اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ بیگمات کے اس روزمرہ کے سوال کہ " آج کیا پکائیں" کے نتیجے میں انکی پکائی کا عمل کچن سے زیادہ کچن کے باہر سرانجام پاتا ہے اور کھانا پکنے سے بہت پہلے ہی ہم جیسے شوہر حضرات ضرور پک جاتے ہیں ۔۔۔ لیکن اور بیگمات کی طرح چونکہ میری بیگم کے لیئے بھی یہ مسئلہ کسی عالمی مسئلے سے بھی زیادہ اہمیت لیئے ہوتا ہے چنانچہ وہ مجھے اس میں کھینچ لینا عین ضروری بلکہ لازمی سمجھتی ہیں ، میں اپنی سی کوشش ضرور کرتا ہوں کہ انکے اس 'معمولی' سے سوال کا کوئی جواب ایک آدھ گھنٹے ہی میں دے سکوں لیکن میرا صبر اور میری بصیرت روز ہی اس آزمائش کا شکار رہتی ہیں - ائیے آج آپکو بھی اسکی اک جھلک دکھاتا ہوں
یہ دیکھیئے یہ میرے گھر کا کسی ایک دن کا صبح کا روٹین منظر نامہ ہے اور حسب معمول میری بیگم نے اس وقت مجھے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے اور یہی سوال کسی پتھر کی طرح مجھے کھینچ مارا ہے اور میں بدحواسی میں ادھر ادھر دیکھ رہا ہوں لیکن بدحواسی کو چھپانے اور پراعتماد نظر آنے کیلیئے میں بیٹھے بیٹھے ٹانگ ہلانا شروع کردیتا ہوں جس سے میرا پیر سامنے رکھی تپائی پہ لگ جاتا ہے اور اس پہ رکھی چائے کی پیالی فرش پہ گر پڑتی ہے اور پھر یہ منظر نامہ میری بےکلی کی صفات کو بیان کرنے سے عاجزالفاظ کے تابڑ توڑ استعمال اور شور سے جیسے یکایک بھر سا جاتا ہے ۔۔۔ صاف صفائی ہوجانے اور میری ہجو میں کئی بیانات دے چکنے اور میرے ارد گرد سے، ٹھیس لگنے کے امکان سے گر پڑنے والا سب سامان دور کردیئے جانے کے بعد یہ منظر نامہ وہیں سے جڑجاتا ہے کہ جہاں سے ٹوٹا تھا ،،،۔ 
" ارے اتنی دیر کیوں لگا رہے ہو سیدھی طرح کیوں نہیں بتادیتے کہ آج کیا پکے گا۔۔۔؟؟ بیگم نے غرانا شروع کردیا تھا ۔۔۔۔
کسی بڑے جھگڑے سے بچنے کے لیئے میں حسب عادت پہلے تو یہ کہ کر جان چھڑانے کی فوری تدبیر کا سہارا لیتا ہوں کہ بڑی فیاضی سے کہ اٹھتا ہوں " جو جی چاہے پکالو " لیکن اکثر یہ چال کامیاب نہیں ہوتی کیونکہ ادھر سے جواب میں یہ ارشاد ہوتا ہے کہ "چلو آج کھانے کو رہنے ہی دیتے ہیں" ۔۔۔۔ جس پہ میرے ہاتھ پیر پھول جاتے ہیں کیونکہ میں بھوک کا بہت کچا ہوں اور یہ "رہنے دیں" والے الفاظ گویا صور اسرافیل معلوم ہوتے ہیں تب میں بتیسی نکال کے کہتا ہوں کہ " آج آلو گوشت پکالو" ۔۔۔۔!
" لیکن وہ تو گزشتہ ہفتےہی پکایا تھا" ،،،، 
میں ایسے موقع پہ اپنے جبڑے بھینچ لیا کرتا ہوں تاکہ شروع ہی میں کوئی لفظ ایسا نہ نکل جائے جو میری ناگوری بالکل واضح کردے ۔۔۔ باوقار نظر آنے کی کوشش کرتے ہوئے کمرے میں ادھر سے ادھر نظر گھماتا ہوں پھر چھت کی طرف دیکھتا ہوں اور پھر بے بس نظر کھڑکی کی طرف جاتی ہے پھر کہیں سے کوئی اشارہ یا مدد نہ ملنے پہ بے بس ہوکے کندھے اچکا کے کہتا ہوں " بھئی کچھ بھی پکا لو "
۔۔۔۔' کچھ بھی ۔۔۔! یہ کونسی ڈش ہے بھلا کچھ بھی ؟ " بیگم نے گویا میری نقل اتاری
۔۔۔ "اچھا چلو دھوئیں والی مرغی بنالو "،،، میں نے دانت نکالے ۔۔۔ جس چیز کے دام گرے ہوں اسے پکوانے میں ہمیشہ بڑی مسرت پاتا ہوں ۔۔۔
"وہ تو گزشتہ ہفتےدس بارہ دن پہلے ہی پکی تھی " ۔۔۔ بیگم نے یاد دلایا 
" تو چلو اروی گوشت بنالو " ۔۔۔ میں نے ایک اور تجویز پیش کی 
" اسے تو گھر کے صرف آدھے ہی لوگ کھاتے ہیں ۔۔۔! " بیگم نے تاویل پیش کی 
نہاری بنا لو ۔۔۔ میں نے چمک کے کہا ۔۔۔
" وہ ابھی 4 دن پہلے ہی بنی تھی ۔۔۔ " بیگم نے وضاحت کی 
" اخاہ ۔۔۔ پائے بہت لذیذ بناتی ہو ،،، آج ہوجائیں پائے " ۔۔۔ میں نے تعریف کے رستے جان چھڑانے کی کوشش کی ۔۔۔
" خدا کا خوف کریں اتنا کولیسٹرول ہوتا ہے اس میں ،،، اور آپکا تو بلڈ پیشر بھی ہائی رہتا ہے،،، بیگم نے جیسے میڈیکل کی کتاب ہی کھول لی ۔۔۔
" اچھا مچھلی لے آؤں " ۔۔۔ میں نے گویا حد ہی کردی ۔۔۔
" اتنی گرمی میں ؟ ۔۔۔ اور پھر آپکو مچھلی کی پہچان بھی کہاں ہے !!‌ ،،، مچھلی کے نام پہ جو شے آپ لاتے ہیں وہ ہوتی تو مچھلی کی شباہت والی ہی ہے لیکن پہچانی بڑی مشکل سے جاتی ہے پھر چھانٹ کر پوری کوشش کرکے ایسی افلاطون مچھلی لاتے ہیں کہ کثرت فکر سے گوشت مکمل ناپید ہوگیا ہو بس کانٹوں کا انبار ہی رہ گیا ہو جیسے ۔۔۔ 
،،،آپکی لائی مچھلی اتنی باسی ہوتی ہے کہ پکتے ہوئے باس گلی کے آخر تک جاتی ہے ۔۔۔ میں اسے جیسے ہی کڑھائی میں ڈالتی ہوں دائیں بائیں کے گھروں سے نجانے کتنے لوگ کھانسنے اور بڑبڑانے لگتے ہیں ۔۔۔ 
شرمندگی کا یہ طولانی بیان بہت دیر جاری رہ سکتا تھا اگرمیں موضوع فوراً ہی نہ بدل دیتا ،،، 
" کیوں بیگم ۔۔۔ چکن کڑھائی اچھی رہے گی نا ،،، ؟ 
"‌پچھلی بار بنائی تھی تو زیادہ مزا نہیں آیا تھا آپکو ،،، ایک بار بھیئ تعریف نہیں کی تھی آپنے جبکہ ہمیشہ بہت تعریف کرتے تھے ۔۔۔ ! " 
تو اس سے کیا ہوا ۔۔۔۔؟ 
" میں نے تو بڑی شرمندگی محسوس کی تھی اور قسم کھالی تھی کہ اب ایک برس سے پہلے نہ بناؤں گی چکن کڑھائی ۔۔۔" 
" آخر ایک برس ہی کیوں ۔۔۔؟ " 
تاکہ اس کا کھویا ذائقہ بحال ہوجائے اور پرانے والے کی یاد بھول جائے 
" اچھا بریانی بنالو۔۔۔ یا پھر ۔۔۔۔ قورمہ بھی ہوسکتا ہے ،،،" مین منمنایا
" آخر کیوں یہ بار باربریانی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں آپ ؟؟ جب دیکھو بریانی ۔۔! ابھی اس مہینے ہی 4 شادی ولیموں میں یہی بریانی اور قورموں پہ توبڑھ چڑھ کے ہاتھ صاف کیا ہے آپنے " ۔۔۔ بیگم نے ہاتھ نچائے
"اچھا تو کوئی سبزی ہی بنالو ۔۔۔۔"
" مثلاً ۔۔۔! " 
" یہ کہ بھنڈی ایکدم ٹھیک رہے گی "۔۔۔ مجھے جیسے راہ سوجھ گئی تھی 
" لیکن آپکے دو بچے تو اسکی طرف آنکھ اٹھا کے بھی نہیں دیکھتے ،،،کیا انہیں بھوکا ماردوں ؟؟‌ بیگم غضبناک لہجے میں بولیں 
میں نے فوری اپنے ناخن تدبیر سے یہ گرہ کھولی " اچھا یوں کرو کہ آپ بھنڈی کو گوشت میں ڈالدو توسب بچے کھالیں گے "
" نہیں پھر تو بالکل نہیں کھائینگے ، گوشت بھی خوامخواہ ضائع ہوگا-"
میں تنگ آچکا تھا ،،، بیزاری سے کہا " تو کوئی اور سبزی پکالو۔۔۔‌" 
" مثلاً ۔۔۔! بیگم بھی تنگ آئی لگ رہی تھیں لیکن پھر بھی لہجہ مستحکم تھا ۔۔ 
"میرا خیال ہے لوکی مناسب ہے "،،، میں نے صلح جویانہ انداز میں مشورہ دیا ۔۔۔ 
" کیوں کیا چند دن پہلے جو لوکی پکائی تھی اسکا حشر یاد نہیں ؟؟ ،،، 4 دن تک ساری آپنے ہی کھائی تھی ،،، " بیگم نے یاد دلایا تو یکایک جھرجھری سی آگئی اور دفعتاً میرے رونگٹے یکدم کھڑے ہوگئے
" ،،، نہیں ،،، نہیں بھئی لوکی کو رہنے دو ،،، " 
بیگم نے لقمہ دیا ،،،" کدو اور ٹینڈے کو تو خود آپ بھی مارا باندھے ہی کھاتے ہیں ،،، پھر بچوں کے صبر کا امتحان کیوں لوں ؟؟ "
" میرا خیال ہے ابھی کوئی دال چاول ہی پکالیں تو بہتر رہے گا " ۔۔۔۔ میری آواز جیسے کنوئیں سے آئی ،،، 
" بچوں کو تو ایک ملکہ مسور کی کالی دال کے سوا اور کوئی دال نہیں بھاتی ، الٹ پلٹ کے وہی بار بار پکتی ہے ،،، اسے بھی کہاں تک پکاؤں "۔۔۔ بیگم ترنت بولیں 
" اچھا یوں کرو کے خشکہ ہی بنالو ،،،تمہارے خاص رائتے کے ساتھ کیا مزا دیتا ہے " میں نے مسکہ لگا کے معاملے کو نپٹانے کی کوشش کی
" اپنے کئی بچوں کو نزلہ زکام نے جکڑا ہوا ہے اور آپ کو چاول کی سوجھ رہی ہے وہ بھی دہی کے رائیتے کے ساتھ ۔۔۔ " بیگم نے جلے کٹے انداز میں وضاحت کی
" اوہو ،،، میں تو بھول ہی گیا تھا ۔" ۔۔ خوشدلی سے اپنی کوتاہی کا فوری اعتراف اکثر اچھے نتائج کا موجب بنتا ہے ۔۔۔ بیگم بھی ذرا دیر کو خاموش ہوئیں اور پھر ہاتھ نچاکے گویا ہوئیں،،، "اتنی دیر لگادی اور ابھی تک ایک ذرا سی بات نہیں بتاسکے آہ کہ آج کیا پکائیں "،،،
" چلو یوں کرو کے بچوں کو ہوٹل سے نہاری منگاکے کھلادو " ،،،، میں نے ایک آسان حل یہ سوچ کے پیش کیا کہ اس سے بیگم کو ابھی پکانے کے کام سے چھوٹ مل جائے گی تو دل کا نرم پڑنا یقینی ہے
"وہ جو منجھلے کا پیٹ چل پڑا تھا کیا بھول گئے آپ ۔۔۔ اس پہلے جو نہاری لائے تھے کتنی بھاری پڑی تھی سے ،،،بلکہ ھر ہم سب کو ،،،کتنے پریشان ہوئے تھے اسکے دستوں کی وجہ سے ،،، حیرت ہے آپکو یاد ہی نہیں جبکہ خود آپ کتنے دن ڈاکٹروں‌کے پاس لیئے لیےلئے پھرے تھے ! " بیگم کے لیئے میری یہ پکی پکائی رعایت رائیگاں ہی رہی 
" ارے بس ٹھیک ہے پھر ۔۔۔ ہوٹل نہیں مگر تم گھر ہی میں بنالو نہاری۔۔۔ " میں اوازار ہو چلا تھا 
" آپ خود ہی تو کہتے پھرتے ہیں ہر جگہ کہ نہاری تو بس ببن کے ہوٹل ہی کی مزاہ دیتی ہے ۔۔! " بیگم نے وار کیا 
میں زچ ہوکے بولا " بھئی کڑھی پکانے میں تو کوئی حرج نہیں ؟ "
" ابھی ڈیڑھ ماہ میں دوسری بار 2 ہفتہ پہلے ہی بنائی تھی تو بچے بسور رہے تھے کہ کیا ابا کی جیب کٹ گئی ہے ۔۔۔۔!! " بیگم کھوکھیائیں 
" ہائیں ،،، کیا تم نے بچوں کو ایسا بے لگام کردیا ہے بیگم !! ۔۔۔۔ ایسی زبان درازی ؟؟ توبہ توبہ ۔۔۔ باپ رے ۔۔۔میرا تو دل جل کے کباب ہوگیا ہے ۔۔۔ " میں نے ترش اور اونچے لہجے میں جھلا کے کہا
" ارے تو یوں گول گول کیوں گھماتے ہیں ،،، صاف کیوں نہیں کہتے کہ کباب بناؤ ،،، چلو ٹھیک ہے کباب بناتی ہوں ۔۔۔ بہت دن بھی ہوگئے ہیں ۔۔۔! "