کہتے ہیں سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں ۔۔۔ لیکن مشرف دور میں شیر شاہ کراچی کا ُپل افتتاح کے دوسرے روز ہی گر پڑنے کے بعد سے میرے ایک دوست آغا جی اس شعر میں پَل کو ُپل پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یوں یہ شعر حقیقت کے اور قریب تر ہوجاتا ہے ۔۔۔ بہرحال میرے ایک واقف ذہین بٹ نامی، اچھے بھلے تھے بلکہ بھلے چنگے تھے کہ ایک دن گھر سے کسی کو بتائے بغیر نکلے اور رات گئے مسلم لیگ ق کو پیارے ہوگئے ۔۔۔ ثابت ہوا کہ انسان کتنا ہی دانا کیوں نہ ہوجائے لیکن اپنی عقل پہ بھی کبھی بھی مکمل بھروسہ نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے ، صرف مالی حالات ہی نہیں دماغی حالات بھی ۔۔۔۔ ایک دن سر راہ یہ حضرت مل گئے تو میں نے ان سے کہا کہ بٹ صاحب آپکی مسلم لیگ ق میں یہ ق نامکمل سا معلوم ہوتا ہے ،، کہنے لگے "مگر کیوں اور کیسے ؟؟
۔۔۔ ہم نے عرض کی کہ " یہ اصل میں کوہ قاف ہونا چاہیئے کیوںکہ آپکے لیڈرزکے مزاج تو عام طور ایسی بلندیوں پہ ہی رہتے ہیں ۔۔۔ اورالیکشن کے علاوہ دنوں میں وہ جو غائب رہتے ہیں تو شاید وہیں جاکے لیٹےرہتے ہیں اور قیلولہ فرماتے ہیں " ،،،، تس پہ وہ چمک کے بولے "یہ 'ق ' قائداعظم کی نسبت سے ہے ،،،"
میں نے عرض کی "بطور حرف ق سے قائداعظم کی نسبت میں تو کوئی شک نہیں لیکن قائداعظم جیسے اصولی آدمی سے سے ق لیگ جیسی 'وصولی' جماعت کو بھلا کیا نسبت ہے۔۔۔؟؟" ۔۔
اس سوال کے جواب کو گول کرکے ذہین بٹ الٹا یہ دریافت کرنے پہ اتر آئے کہ " کیا آپ سمجھتے ہیں کہ "مسلم لیگ ن میں یہ نون کا حرف نواز شریف کی نسبت سے ہے ۔۔۔؟؟"
میں نےکہا " تو پھر اور کیا ،،،؟؟ "
فرمایا : نہیں اس سے مراد ہے نسلی یعنی مسلم لیگ نسلی "
میں نے کہا تو اسی طرح مسلم لیگ ق میں بھی ق کے لاحقے کی تشریح غلط کی جاتی ہے "۔۔۔ وضاحتاً مزید گوش گزار کیا کہ "پاکستانی مسلم لیگ کی حکومتی تاریخ اور عام آدمی کے حالات کو دیکھتے ہوئے تو ق کی بابت ذہن فوراً قلت اور قطار کی ہی طرف جاتا ہے یا پھرحالیہ ق لیگی لیڈران کی نسبت سے قورمے اور قیلولے کی طرف ۔۔۔۔ اور پھر یہ مسئلہ بھی تو ہے کہ اپنے قائداعظم محمدعلی جناح پہ تو سب ہی کا دعویٰ ہے خصوصآً ن لیگ والوں کا ۔۔۔"
میری وضاحت سن کے ایک دم چڑاؤنے ہوکے اور ہاتھ نچا کے یہ بولے کہ
" اب کسی شرپسند کے ذہن کے کسی اور طرف جانے سے ہمیں کیا لینا دینا " ،،،
پھر بہت ہی کاٹ دار طنزیہ سے سوکنی لہجے میں استفسار کیا " حضرت آپ ہی بتائیئے کہ ق نہیں تو اسکے علاوہ کیا لاحقہ ہونا چاہیئے تھا بھلا ،،،؟ "
میں نے ترنت جواب دیا کہ "مسلم لیگ چ کہلانا زیادہ قرین حقیقت ہوگا کیونکہ یہ مسلم لیگ درحقیقت چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہٰی کی ہے" تو ایکدم بھنا گئے اور کانوں کو ہاتھ لگانے لگے میں نے کہا کہ یہ کیا کررہے ہیں ،،، چلا کے بولے " مسلم لیگ چ کہنا تو بہت عجیب بات ہوگی "،،،
میں نے عرض کی " لیکن یہ ایسا غلط بھی تو نہیں ہوگا نا ۔۔
زچ ہو کے بولے " غلط کیوں نہیں ۔۔۔ بلکہ بہت ہی غلط ہوگا" ،،،
میں نے پوچھا مگر کیوں اور کیسے ۔۔؟
فرمانے لگے "اس لیئے کہ 'چ' لگانے سے ملک بھر میں کسی ایک کا ذہن بھی چوہدریوں کی طرف تو ہرگز ہرگز نہیں جائے گا "۔۔۔
میں نے پوچھا "کیا چور اور چوکیدار کی طرف ۔۔۔؟ "
اس تمام گفگو میں وہ پہلی بار مسکرائے ایک بار پھر کانوں کو ہاتھ لگایا اور کہنے لگے " یار اتنے بھولے بھی نہ بنیں ! " ۔۔۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں