پیر، 12 دسمبر، 2016

دل پٹھان ہوتا جا رہا ہے

نہانے کو جی نہیں کرتا
دل پٹھان ہوتا جا رہا ہے
جوتیاں گِھسیں کوئے یار میں
بہت نقصآن ہوتا جارہا ہے
الطاف صرف بکواس کرتا ہے
منہ کا جریان ہوتا جارہا ہے
پھر شادی کرے گا بڑھاپےمیں
اک یار عمران ہوتا جارہا ہے
گندم نہیں ، ہے فکر بال اگانےکی
وہ گنجا میاں برادران ہوتا جارہا ہے
کہا بیٹے کو بھیجو برائے جہاد
مولوی بولا توشیطان ہوتا جارہا ہے
سرفراز کی ہے گڈی چڑھی ہوئی
آفریدی حیران ہوتا جارہا ہے
عارف یہ کیسی نظم ہے بھلا
ہر اک شاعر پریشان ہوتا جارہا ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں