خواب نہ دیکھنا کسی کے بس میں نہیں ۔۔۔ ہوتا تو سخت نصیحتوں والے اور کڑی سزاؤں کے ڈراؤوں سے لبریز خواب بھلا کون دیکھتا ،،؟؟ لیکن اس سے جڑا ایک مسئلہ تو یہ بھی ہے کہ اپنی مرضی کے خواب دیکھنا بھی تو کسی کے اختیار میں نہیں ۔۔۔ اگر یہ اختیار ہوتا تو ایسے زیادہ تر خوابوں میں تماشائے حسن کی بہتات بلکہ ارزانی ، اور کچھ بھی کرگزرنے کی چھوٹ، متاع حسن کی قدر و قیمت ختم نہ کر کے رکھ دیتی اور یہ لاچار میسنے نظرباز حضرات بھی ، دلوں پہ راج کرنے والیوں کا، بڑی سفاکی سے منہ چڑاتے نہ گزر جاتے ۔۔۔ اور اسی طرح دن میں بڑے بے ہمت سے نظر آنے والے پلپلے و مسکین سے ماتحت اپنی مرضی سے دیکھے جانے والے خواب میں اپنے چراندی و ناقدرے باس کی وافر ٹھکائی نہ کرڈالتے حتیٰ کہ بے نیاز و خشکہ سے نظر آنے والے ، شب میں آنکھ بند کرتے ہی فٹافٹ خشکی کو تری میں کیوں نہ ڈبو ڈالتے ۔۔ حسن والوں کے حسن کی توقیر سلامت رکھنے کے لیئے ، اسے خدا کی مشیت سمجھیئے کہ کوئی خواہ کتنا بڑا علامہ و فلاسفر ہو اپنی مرضی کے مطابق خواب نہیں دیکھ سکتا اور نہ ہی کسی ناپسندیدہ خواب سے بچ پاتا ہے- ہمارے اک دوست خواجہ صاحب خواب کی بابت یہ کہا کرتے ہیں کہ جھوٹے خواب بھی بڑی نعمت ہیں کیونکہ اگر خدانخواستہ کسی کو سچے خواب نظر آنا شروع ہوجائیں اور انکی سچائی ثابت ہونا بھی شروع ہوجائے تو ایسا فرد جلد ہی زندگی کا مزہ کھوبیٹھے گا بلکہ اسکی زندگی اجیرن ہوکے رہ جائے گی ،،، درحقیقت زندگی کی سب رعنائی بند مٹھی اور جھوٹے خواب ہی کی بدولت ہے اس لیئے برائی جھوٹے خواب دیکھنے میں نہیں ، صرف جھوٹے خواب دکھانے میں ہے
لیکن میں سوچتا ہوں کہ کتنا بد نصیب ہے وہ شخص کہ جسے خواب نہیں آتے ورنہ جسے کچھ نہ بھی آئے ِبل پسینہ اور خواب ضرور آتے ہیں ۔۔۔ پھر یہ واحد نظارہ ہے کہ جسکا ملاحظہ مفت ہے تاہم یہ ضروری نہیں کہ اسکے نتائج بھی اسی طرح کی کفایت پہ مبنی ہوں ۔۔۔ خوب میں دلکش ملبوسات دیکھ کے خواتین اپنے شوہروں کو اسکے نتائج سہنےاور اس ناکردہ جرم کی سزا بھگتنے پہ مجبور کرسکتی ہیں ۔۔۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کے خوابوں کی ذخیرہ اندوزی پہ بھی عبور رکھتے ہیں جیسے کہ ہمارے آغا جی ، ہمہ وقت ہی خوابناک ہوئے دکھتے ہیں اور اس غفلت کے لیئے بھی طبیعت بڑی حاضر رکھتے ہیں اوراس مد میں ہنرکا عالم یہ ہے کہ بھری محفل میں بیٹھے بیٹھے ہی اک ذرا دیر کو چپ ہوئے نہیں کہ یکایک آنکھیں موند لیتے ہیں اور پھر اک ہلکے سے خراٹے کے ساتھ بڑے فراٹے دار خواب کا آغاز ہوجاتا ہے جسے دیکھے بغیر وہ حواسوں میں نہیں لوٹتے ۔۔۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ غنودگی کے اس آدھ پون گھنٹے میں بھی وہ ایسا خواب ضرور دیکھ پاتے ہیں کہ اگر انہیں روکا نہ جائے تو اسکی سنانے کی طوالت بعضے وقت کئی گھنٹوں پہ محیط ہوسکتی ہے کیونکہ اس میں انکی تمام تمنائیں آرزوئیں ، ان سنی حکایات اور مسترد کردہ تجربات قطار لگائے داخل ہوئے چلے جاتے ہیں ،،، اور اس لیئے سنگی ساتھی حفظ ماتقدم کے طور پہ سننے کے شروع ہی میں خواب کو چکھنے کے بعد اکثر اسکے تلخیص و ترجمے پہ مصر ہوجاتے ہیں سوائے ان لذیز خوابوں کے ، کہ جنکے سننے کے بعد انہیں کئی روز تک ایسی ویسی فلمیں دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی
خواب کیا ہیں اور کیا نہیں ہیں یہ جاننے کے لیئے محض نفسیات ہی نہیں مذہبی و روحانی شعبے اور طبی شعبے کے علاوہ بھی نجانے کتنے دیگر شعبوں کے ماہرین کب سے سرگرم تحقیق ہیں ،، ہمارے آغا جی اچھے خوابوں کو فنون لطیفہ میں شمار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اچھا خواب دیکھ پانا بھی ہرکس و ناکس کے بس کی بات نہیں اور برے خواب بغیر کسی اضافی محنت کے بھی دیکھے جاسکتے ہیں بس پیدائشی سیاستدان ہونا ہی کافی ہے ۔۔۔ تاہم سائنسدانوں کو کسی طور قرار نہیں کہ یہ شعبہ بھی انکی گرفت سے باہر کیوں رہے اور وہ عرصہء دراز سے اس سوچ بچار میں غرق ہیں کہ آخر وہ کس طرح اور کیونکر خوابوں کی اصلی حیقت و ماہیت جان سکیں اور انکو بھی ناپ تول کے پیمانوں کا پابند کرسکیں اور اگر خدا نخواستہ کبھی ایسا ممکن ہوگیا توایک آغا ہی نہیں ہم میں سے کتنے ہی شرفاء محض قابل دست اندازیء پولیس تمنائیں رکھنے کے جرم میں دھر پکڑے جائینگے ،،، نفسیات کہ سائنس کا ہی حصہ ہے تو اس کے بل پہ البتہ اک ذرا سی بات سگمنڈ فرائیڈ نے یہ ضرور بتائی ہے کہ اکثر خواب لاشعور اور تحت الشعور کی کارستانیاں ہوتے ہیں اور ناآسودہ خواہشیں یا محرومیاں بالآخر خوابوں میں ڈھل جاتے ہیں - ہم نے آغا کو یہ بات بتائی اور ساتھ ہی یہ بھی گوش گزار کیا کہ سائینسی تجزیئے کی رو سے عام طور پہ جو بات ہم سوچتے سوچتے سو جاتے ہیں وہ کسی ڈھنگ سے ہمارے خواب میں بھی نمودار ہوجاتی ہے ،،، جس پہ یکلخت آغا کے چہرے پہ اک عجب لالی سی ہویدا ہوئی اور کان بھی کچھ سرخ سرخ سے دکھنے لگے اور ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہنے لگے کہ " باقی سائنسی تحقیق اپنی جگہ لیکن یہ والی بات کسی حد تک دل کو لگتی ہے۔۔"
لیکن خواب شاید ایک طرح کی نعمت ہی ہیں ۔۔۔ یہ ہماری وہ واحد میراث ہیں کہ جس پہ کبھی کوئی جھگڑا نہیں ہوتا اور یہ وہ ترکہ ہے جو کہ کوئی بکری بھی نہ پیچھے چھوڑسکنے والا بخوبی ورثاء کے لیئے چھوڑ سکتا ہے ، سچ تو یہ ہے کہ بحیثیت قوم ہماری پرورش میں گندم اور چاول کا جتنا دخل ہے شاید اتنا ہی خوابوں کا بھی ہے او اس معاملےمیں 70 برسوں میں ہماری قوم کو جو خاص مہارت حاصل ہوچکی ہے اسکی بناء پہ وہ اب جاگتی آنکھوں سے بھی سپنے دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اسکا ثبوت وہ الیکشن کے موقع پہ بالضرور دیتی ہے- تو گویا خواب کوئی معمولی چیز نہیں اور مصروفیات سے پر اور بھاگتی بھگاتی اس دوڑتی ہانپتی زندگی میں اک خواب ہی تو ہیں کہ راحتوں کا پیغام دیتے ہیں اور بہت سی ناکام حسرتوں کو روند ڈالنے میں بڑی مدد دیتے ہیں - شاید اسی لیئے اکثر انکے خیرمقدم کے لیئے اتنے بیتاب رہتے ہیں کہ بس تکیئے پہ سر رکھنے کی دیر ہوتی ہے کہ آنکھیں بند کرتے ہی ذرا کی ذرا میں منہ کھل جاتا ہے اور لگتا ہے کہ اس ہی کے رستے نیند کی دیوی خوابوں کا ایندھن ذہن کی بھٹی میں جھونکے جاتی ہے ۔۔۔
لیکن بعضے ہم سے بدنصیب بھی ہیں کہ اؤل تو خواب دیکھنے کے خواب دیکھتے دیکھتے نیند نہیں آتی کہ صبح کی چائے آجاتی ہے اور اگر جہاں کبھی آنکھ لگنےپہ بھولے بھٹکے کوئی پرمسرت خواب نظر آنا شروع ہوا بھی اور اسکے وفور سے سوتے ہی میں ہماری بانچھیں ذرا سی ِکھلیں تو جھٹ انکھیں کھل گئیں ۔۔۔ لگتا یوں ہے کہ آنکھوں کے آس پاس سے گزرتی رگوں کی ڈور ہماری بانچھوں سے بندھی ہے اور انکی خفیف سی جنبش سے ہمارے آنکھوں کی غلافی حرکت سے پیوستہ ہےاور ادھر ہم جہاں بے اختیارانہ و بیتابانہ تبسمائے اور ادھر جھٹ پلکوں کو مخبری ہوگئی ،،، بالائے ستم یہ ہے کہ اک ذرا دیر کو کبھی یہ 'نظام تبسم' غافل ہو بھی جائے تو متبادل کے طور پہ نظام ہضم اسکی جگہ سنبھال لیتا ہے اورعین اس وقت جب درون خواب کوئی کیف آگیں مرحلہ آن پہنچتا ہے وہ شرپسند یکایک ہڑبڑا کے جاگ اٹھتا ہے اورطلسماتی سے خواب کی ریشمی ڈوری بھی بڑی وحشت سےآناً فاناً کاٹ کے ہی دم لیتا ہے ،،، بلاشبہ نظام ہضم اور ازدواجی نظام پہ بھلا کس مہاشے کا اختیارہے کہ انکے سامنے شیر بھی چوہے سمان ہیں ۔۔ دونوں کو ٹالنا کسی مہان آتما کے بس میں بھی نہیں ۔۔۔ تاہم کچھ عجیب لوگ ایسے بھی ہیں کہ خدا ہی سے بالائے فطرت طبیعت لے کے پیدا ہوئے ہیں اور اپنی ساخت کے ڈھب میں بلا کا قبض وافر لیئے پھرتے ہیں تاہم یہ وہ صفت ہے کہ چھپائے نہ چھپے ،،، اور آغا کہتے ہیں کہ اکثر وہ نظریات جنہیں سن کے ، یا وہ ادب جس کو پڑھ کے حبس دم ہوجاتا ہے اسکے ذمہ دار یہی قبض مبرم کے حاملین ہیں اور باالیقین یہ سب مفسدات اسی انقباضی خصلت کے بل پہ انکے ذاتی منہ یا موئے قلم سے ہی برآمد ہوئے ہیں
مجھے اندازہ ہے کہ یوں خواب کے بکھر جانے کی بات کرنا شاید چند لوگوں کے نزدیک محض بات کا بتنگڑ ہو لیکن اس نوعیت کے شکست خواب کی کوفت کو معمولی نہ جانیئے اور اس درد کو ہر کوئی شاید اتنا نہ بھی محسوس کرسکے لیکن اسکی دلدوز تکیلف کا اندازہ بس وہی بدنصیب مناسب طور پہ کرسکتا ہے کہ جسکے نصیب میں یہ حوادث آئے دن رونما ہوتے ہوں اور اور وافر مقدارمیں لکھ دیئے گئے ہوں - اب آپ خود ہی بتائیئے کہ زندگی بھر جو سستی مارا چند لاکھ روپے بھی نہ جوڑ پائے اگر اسے خواب میں آن کے آن معمولی سے کاروبار پہ اربوں روپے کی رقم مل رہی ہو اور عین وصولی کے سمے اسکی بند آنکھوں کے پٹ یکایک کھل پڑیں یا جس کسی کا کسی حسینہء دلنواز کی قریبی سڑک سے بھی گزر ممکن نہ ہو تو وہ خرام ناز اگر اسکے خواب میں آکے خود ہی کمال ناز سے اسکا ہاتھ پکڑ کے پھولوں بھری مہکتی مسند تک لے چلے اور ایسے میں دفعتاً اس بدنصیب کا نظام ہضم کا نقارہ بج اٹھے اور اسے اٹھ کے برائے'حاجت روائی' سرپٹ دوڑنے پہ مجبور کردے تو اسے بعد میں کئی روزتک اس ٹوٹے خواب کی کرچیاں اپنے دماغ ہی میں نہیں معدے میں بھی گھسی کیوں نہ محسوس ہوں ،،،، اور ذرا خود ہی خدا لگتی کہیئے کہ اسکی ایسی بدنصیبی اپنی شدت کے اعتبار سے کیا کسی بھی بڑے ذاتی سانحے سے کسی طور کم ہے بھلا ۔۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں