پیر، 12 دسمبر، 2016

رستے بند کیئے دیتے ہو دیوانوں کے۔۔۔۔ !!

آج صبح مجھے کسی مظلوم کی مدد کی خاطر جج کے سامنے حاضری کے لیئے سٹی کورٹ پہنچنا تھا لیکن شہر کے بیشتر ہی رستے چہلم کے جلوس کی وجہ سے بند تھے ،،، سبھی ادھر ادھر سے نکلنے کے چکر میں تھے اور ٹریفک کا بے ہنگم پن عروج پہ تھا ۔۔۔۔ جس طرف سے بھی نکلو آگے پہنچ کے کنٹینر رستہ مسدود کیئے ملتے تھے ۔۔۔ عجب افراتفری کا عالم تھا اور ایک نہایت پھنسی ہوئی جگہ پہ کچھ مشتعل سواروں کو تو چلا چلا کے یہ کہتا بھی پایا کہ " بہت چھوٹی سی اقلیت نے اتنی بڑی اکثریت کو یرغمال بنالیا ہے ، پھر تو سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی والے ٹھیک ہی کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔" اور میں یہ سن کے فی الوقع اور بھی زیادہ پریشان ہوگیا کہ مسائل میں الجھ کے لوگوں کی عقل اچانک کیسے ساتھ چھوڑ دیا کرتی ہے کیونکہ ایسے جنونی گروہوں بشمول سپاہ محمد وغیرہ نے ہی تو ہمارے معاشرے کی روادار شکل کو بری طرح سے مسخ کیا ہے ۔۔۔ میں بھی رستے کی تلاش میں موٹر سائیکل پہ بیتابانہ ادھر ادھر چکر لگا رہا تھا کہ ایک رانگ سائیڈ سے اندھا دھند آتے رکشے کی لپیٹ میں آگیا جسنے مجھے ٹکر مار کے دور پھینکا اور بھاگ نکلا ،،، شکرہے کہ کمر اور ٹانگوں پہ چوٹ لگنے پہ بات ٹل گئی بس کپڑوں اور موبائل کی ایسی تیسی ہوگئی تاہم مزید شکر اس بات کا کہ میں جیسے تیسے کورٹ پہنچنے کے قابل ہوہی گیا ۔۔۔
اب جبکہ چڑھی سانسوں اور دکھتی ٹانگوں کے ساتھ اوندھا سیدھا گھر واپس لوٹا ہوں تو بہت دلگرفتہ ہوں اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں فرقوں اور مسالک کے دوستوں سے یہ دست بستہ گزارش کرنے بیٹھ گیا ہوں کہ خدارا کسی بھی نوعیت کے جلوس کی وجہ سے شہر کو یوں بند کرڈالنے کے سلسلے کو اب ترک کردیں اور ان کے لیئے شہر کے مضافات میں کسی لمبی سی سڑک کو مخصوص کرلیں کیونکہ ایک تو اب یہ شہر پہلے سے کہیں زیادہ گنجان ہوچکا ہے اور اسکی سڑکوں کی گنجائش کم سے کم تر ہوتی جارہی ہے دوسرے یہ کہ آپس میں مذہبی مسلکی و سیاسی و سماجی برداشت اور رواداری کا بے پناہ فقدان ہوتا جارہا ہے مزید یہ کہ چونکہ کاروبار زندگی میں الجھے عوام بھی اہم سڑکوں اور مرکزی علاقوں کی بندش سے بہت تنگ اور بیزار ہوچلے ہیں چنانچہ ایسی صورتحال میں ایک عجب طرح کا چڑاؤنا پن شہریوں کے اعصاب پہ اثر انداز ہوتا معلوم ہو رہا ہے کہ جو انہیں کبھی بھی کسی بھی خوفناک اور ہمہ گیر ردعمل پہ اکسانے کا باعث ہوسکتا ہے اور یہ بات تو قطعی بلا تذبذب کہی جاسکتی ہے کہ ایسی ابتر صورتحال میں منفی سوچ رکھنے والے انتہا پسندوں کو خود بخود نئے دوست میسر آتے جارہے ہیں جو کہ اس شہر اور ملک کے لیئے نہایت خطرناک شگون ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں