پیر، 12 دسمبر، 2016

مسلم لیگ کی ف

چند روز پہلے مسلم لیگ کی املاء کے عنوان سے ایک ظریفانہ تحریر لکھی توایک صاحب کو اس پہ شدید اعتراض ہوا اور لتے لینے کے لیئے اتارو ہوکے تلاشتے ہوئے گھر آن پہنچے اور مجھ سے بولے کہ" آپنے مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کا تزکرہ تو خوب کردیا لیکن ایک اور مشہور مسلم لیگ کو چھوڑدیا "،،، ویسے ہم چونکہ چھوڑو بھی کمال کے ہیں چنانچہ ان سے کہا :چھوڑو بھی ۔۔۔ جانے بھی دو یارو "،،، لیکن موصوف نہ مانے ،،، پھر ہم نے ہی ان سے مرؤتاً پوچھا کہ " بھئی آپ کس مسلم لیگ کی بات کررہے ہیں ؟؟ ۔۔۔ کہیں اسکی تو نہیں کہ جسکے مخفف کی تشریح بعضے لوگ یوں کرتے ہیں 'اُچکّی پھّٹوُ مریل لیگ ' ۔۔۔۔ تو انہوں نے کہا کہ ، یہ بھی ایک طرح کی مسلم لیگ ہے لیکن یہ کبھی یاد ہی نہیں آتی کیونکہ خود اسکا بانی تک بھی اسکا نام نہیں لیتا 
میں نے لقمہ دیا ۔۔۔ بس سیٹی بلا کے کارکنوں کو بلالینا کافی سمجھتا ہے اور وہ بھی لپکے آجاتے ہیں سر ہلاتے ہوئے ،،، 
اس پہ انکے چہرے پہ باافراط یقینی نمودار ہوئی اور پوچھا کہ " یہ جوہلانے والا آئیٹم ہے اس سے آپکی مراد کیا واقعی سر ہی ہے ؟؟ "،،، 
میں نے کہا کہ "یہ سمجھنا آپکی نیت پہ چھوڑا "،،، 
کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولے یہ بات آپ مجھ پہ کیوں چھوڑ رہے ہیں ۔۔۔
میں بولا ۔۔" آخر چھوڑو جو ہوں ۔۔۔۔ !! " 
اطمینان کی ایک بڑی سی سانس لے کے جھٹکے سے خارج کی اور مری مری آواز میں کہنے لگے کہ"سر ہلانے کی آپشن ہی مناسب ہے ورنہ بڑے حرج کی بات ہے "
یہ جواب دے کرمیں احساس فتحمندی کے ساتھ جیسے ہی روانہ ہونے کے لیئے اٹھنے لگا تو ان صاحب نے دفعتاً مجھے روک لیا کیونکہ وہ بَھولے نہ تھے اس لیئے اپنے اصل مدعا کو بُھولے نہ تھے اور اسی لیئے میرا رستہ مسدود کرکے وضاحت پیش کی کہ " میری مراد مسلم لیگ ف سے ہے ۔۔"
" لیکن یہ تو جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمان کا مستقبل کا نام ہے ابھی سے کہاں ،،،" میں نے ٹالنے کی کوشش کی ۔۔۔ لیکن وہ بھی کہاں کے ایسے ٹلنے والے تھے بولے
" جگتیں نہ ماریئے صاف بتائیئے" ۔۔۔
میں نے بس اتنا کہنا کافی سمجھا ،،، 
" لیکن کسی مردے کو زندہ اور ناکارہ کو فنکشنل کیسے کہا جاسکتا ہے ۔۔؟؟" 
اس پہ فوراً چٹخنے لگے ،،، " یہ آپکا مسئلہ نہیں ایسے تو عوامی نیشنل پارٹی میں بھی نیشنل کہاں ہے صرف کے پی کے ہی ہے اور رہی تحریک انصاف تو اس نے جسٹس وجیہ جیسے دیانتدار جج صاحب کو نکال دینے کے بعد انصاف کو خود ہی طلاق دے ڈالی ہے اور اس تاثر کے سلسلے میں خاص طور فوزیہ قصوری کا ٹکٹ نہ ملنے کے بعد والا قول تو بڑا مستند سمجھا جاتا ہے کہ"تحریک انصاف میں ایک انصاف ہی تو ندارد ہے"۔۔۔
میں نے انکی تائید ہی میں عافیت جانی اور انہیں ٹھنڈا کرنے کو مزید مثالیں دینے کو ضرور جانا " آپکی بات کافی درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ پیپلز پارٹی میں بھی تو اب سب کچھ ہے بس پیپلز ہی نہیں ہے اور رہی پارٹی تو بلاول خود کہتا پھرتا ہے کہ " پارٹی تو ابھی شروع ہوئی ہے"۔۔۔ اور بلاول کی یہ بات سنتے ہی اعتزاز احسن بلک بلک کے رونے لگے تھے ،،، کسی نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ لگتا ہے کہ پھر سے امپورٹیڈ پیمپر باندھنے کی نوبت آن پہنچی ۔۔۔ " 
میری اس طولانی تائید کے بعد بھی انکو خاطر خواہ تسکین نہ ملی اور پھر مجھ پہ پڑگئے " جناب آپ مسلم لیگ فنکشنل کے ف کے بارے میں واضح رائے دیں" ،،،
میں نے جواباً عرض کی کہ " جناب ایسی خوابیدہ جماعت کے بارے میں رائے کیا دوں ،،، شاید اس میں ف سے مراد 'فصلی' ہو کیونکہ یہ مسلم لیگ ف تو سارا سال کنگری ہاؤس کے غالیچے وزیراعلیٰ ہاؤس کے بغیچے اور اسمبلیوں کے دریچے تک ہی حاضر دکھائی دیتی ہے بس الیکشن کی فصل کے موقع پہ ہی نیچے عوام میں اترتی ہے ،،، میں مزید وضاحت یوں کی کہ " ویسے اسکی ف کو فالتو کی نسبت سے بھی شمار کیا جاسکتا ہے۔۔ اور آپ یہ دیکھیئے کہ کس قدر عجب صوتی ہم آہنگی ہے کہ پٹھان لب و لہجے میں یہ لفظ 'فالتو' یکایک پالتو ہوجاتا ہے اور یوں لگتا ہے کہ جیسے لفظ تصویر بنارہے ہیں ۔۔۔ "
اس پہ وہ حضرت یکدم بہت شدید غصے میں آگئے اور بیٹھے سے اٹھ کھڑے ہوئے اور یکایک فنکشنل ہوکے پیر پٹختے ہوئے ف سے فٹا فٹ میرے گھر سے باہر چلے گئے ۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں