پیر، 12 دسمبر، 2016

یہ اپنے یوسفی صاحب

( اپنی یہ تحریر 4 ستمبر کو میں نے آرٹس کونسل کراچی میں بزم ظرافت کی طرف سے منعقدہ یوسفی صاحب کی 95 ویں سالگرہ کے موقع پہ پڑھی تھی )
صآحبو ۔۔۔ کسی دانشور نے کہا تھا کہ ہر اچھی چیز ہر ایک کے لیئے نہیں ہوتی ، یوسفی صاحب کی تحریریں بھی ہرکسی کے لیئے نہیں ہیں لیکن پھر بھی دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ یوسفی صاحب کسی محفل میں اپنا کوئی مضمون جب بھی پڑھیں ہال میں سبھی لوگ مسکرا رہے ہوتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی بھی لوگ ایک دوسرے پہ کچھ نہ کچھ بھروسہ کرتے ہیں حالانکہ کچھ لوگ اگر چاہیں تو اپنی یہ مسکراہٹ ملتوی کرکے بعد میں اسکے معنی پوچھ کے باضابطہ طور پہ بھی ہنس سکتے ہیں لیکن آن دی اسپاٹ بدذوق سمجھے جانے کا خطرہ مول لینے کی ہمت بھلا کس میں ہے ۔۔ ۔۔۔ یوسفی تابڑ توڑ مزاح پہ یقین نہیں رکھتے اک عجب سی دھیرج اور باوقار دلکی چال انکی تحریروں کا خاصا ہے ۔۔۔ کسی حد تک ہومیوپیتھکانہ مزاج پایا ہے لیکن تاثیر کے اعتبار سے وہ ایلو پیتھک ، مگر نتائج کے لحاظ سے جراحت کے ہم پلہ ہے
یوسفی کے مزاح کا بس ایک ہی جھنجھٹ ہے اور وہ یہ انہیں سمجھے بغیر ہنسا نہیں جاسکتا جبکہ اکثر مزاح نگاروں کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر انکے لکھے کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو پھربالکل بھی ہنسا نہیں جاسکتا ۔۔۔ کئی مزاح نگار فی زمانہ ایسے ہیں کہ پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ یہ تحریر نہ لکھتے محض کولہے ہی مٹکا لیتے اور اسکی تصویر لگا دیتے توکسی نہ کسی حد تک ضرور ہنسا جاسکتا تھا ۔۔۔ لیکن ویسے یوسفی کے مزاح میں خرابی یہ ہے کہ خرابی کوئی نہیں، قاری خواہ کتنا ہی گھنا کیوں نہ ہو اگر سمجھدار ہے تو اس سےمسکراہٹ اس طرح برآمد کرواتے ہیں جیسے پولیس والے چور سے مال مسروقہ لیکن پولیس والوں کے طریقے فرق بس اتنا ہی ہے کہ صرف اس ہی لفظ اور جملے سے مسکراہٹ برآمد کرواتے ہیں کہ جہاں یہ متاع خاص چھپاکر رکھی گئی ہوتی ہے اب یہ چور کی مجبوری ، کمزوری یا گیگلے پن پہ منحصر ہے کہ اصل سے زیادہ مال برآمد کروادے ،،، لیکن کسی طور یہ فضول خرچی انکا تقاضہ ہرگز نہیں کیونکہ وہ تو چاروں کھونٹ بینکار ہیں اور جہاں محض مسکان سے کام چل سکتا ہے وہاں قہقہہ بچا لینے کی کفایت کو ضروری گردانتے ہیں تاہم قاری کی اپنی اپنی ظریفانہ پیاس کی شدت مختلف بھی ہوسکتی ہے اور اسکے نتائج مختلف بھی ۔۔۔ ۔۔۔ انکی خوبی یہ ہے کہ کسی جملے میں انکے کسی ایک لفظ کو بھی ذرا ادھر ادھر کردیں تو سارا پیرگراف ہی لاوارث ہوکر عجب سی یتیمی کا شکار ہوجاتا ہے اور یوسفی کی دہلیز سے باہر کو جا بیٹھتا ہے تاہم کسی اور کا پھر بھی نہیں معلوم ہوتا مغل بچہ خواہ کوئی ایک آدھ صفت کھو بھی بیٹھے تب بھی نر بچہ ہی دکھتا ہے -
جس طرح حضرت جوش کے معاملے میں الفاظ الماری میں ٹنگے کپڑوں کی طرح خود کو برائے ملاحظہ و انتخاب پیش کیے دیتے ہیں - یوسفی صاحب کے یہاں بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ صرف مناسب نہیں بلکہ عین مناسب ترین الفاظ خود کو انکی تحریر کے لیئے چنے جانے کے لیئے بیقرار ہوکے ان سے درخواست گزار ہوئے ہیں - انکے ہاں آورد بھی آمد کی سی شان لیئے ہے اور بلا کی سادگی میں بھی غضب کی پرکاری ہے - ویسی معصومیت انکا شیوہ ہے جو صرف چشم حیرت میں بسیرا کرتی ہے اور یہی حیرت انکی نظر کو نئے رخ بھی دکھا دیتی ہے اور انکے توسط سے دوسروں کو دکھا بھی پاتی ہے
لیکن عظیم تر مزاح نگار ہونے کے باوجود انکے لبوں سے ہمہ وقت ظرافت کے زمزمے ابلتے نہیں دیکھے گئے ،،، ایک صاحب یوسفی صاحب سے ملاقات کے بڑے شائق تھے ملاقات ہوئی تو بعد میں انکے تاثر کا خلاصہ یوں تھا کہ "اس سے تو پہلے ہی بہت بہتر تھا " کیونکہ قوی گمان ہے کہ یوسفی صاحب کو کسی حکیم نے بچھے جانے والے انکسار اور ہر وقت کی فقرہ سازی سے پرہیز کسی نسخے میں لکھ کے دیا ہے
یوسفی کا مزاح بھی اک مستند و مشہور برانڈ سا بن گیا ہے لیکن اسے رولیکس کی گھڑی ، بالی کے جوتے اور رولس رائس کار جیسے برانڈز کے ذمرے میں پھر بھی نہیں رکھا جانا چاہیئے کہ ان سب چیزوں کی عمدگی بھی کبھی نہ کبھی کمپرومائز ہو ہی جاتی ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں