پیر، 12 دسمبر، 2016

2 ربیع الاؤل کا معلوماتی پیغام بسلسلہ تحریک معلومات نبوی

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ غذائیں
-----------------------------------------------------
اللہ تعالیٰ کے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفےٰ کی عادت مبارک یہ تھی کہ کسی بھی حلال کھانے میں کوئی پس و پیش نہ کرتے تھے بلا تزبذب ہر طرح کا جو بھی جائز کھانا سامنے آتا اسے تناول فرما لیتے اکڑوں بیٹھ کے کھاتے اور اپنے سامنے ہی سے کھاتے اور کسی خاص کھانے کے لئے کوئی نمایاں اہتمام نہ فرماتے۔ اور کھانے کے لیئے صرف دایاں ہاتھ ہی استعمال کرتے درمیانی تین انگلیوں کو آگے اور انگوٹھے اور چھوٹی انگلی کو پیچھے کرکے نوالہ بناتے تھے - کھانے کے بعد اپنی انگلیاں چاٹ لیتے تھے اور آج میڈیکل سائنس کی تحقیئق سے یہ بات سامنے آئے زمانہ ہوچکا ہے کہ ہاتھ سے کھانے کے عمل کے دوران انگلیوں کی پوروں پہ ایک خاص خامرہ یا لیس نمودار ہوجاتا ہے کہ جس کو چاٹ لیا جائے تو وہ کھانے کے ہاضمے میں بڑی مدد کرتا ہے-
آپکی پسندیدہ غذائیں حسب ذیل تھیں
دودھ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ بہت پسند تھا کیونکہ یہ شفا بخش ہے اور اس کا گھی دوا ہے۔، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر گائے اور بکری کا دودھ استعمال فرماتےتھے اور آپکا ارشاد ہےکہ "کوئی چیز ایسی نہیں جو کھانے اور مشروب دونوں کا کام دیتی ہو، سوائے دودھ کے" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہانتک ارشاد فرمیا ا کہ تم لوگ گائے کے دودھ کو اپنے لئے لازم قرار دے دو،
کھجور :- کھجور ایک نہایت ہی مقوی غذا ہے اور حضور نبی کریمؐ نے کھجور کی بڑی تعریف فرمائی ہے- خصوصاً عجوہ کھجور کی۔ آپکا ارشاد ہے کہ جو شخص روزانہ صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لیا کرے اسے اس دن زہر اور جادو سے کوئی نقصان نہیں ‌پہنچا سکتا۔ یہ بھی فرمایا کہ عجوہ جنت کا پھل ہے۔ یہ تریاق کی صفت بھی رکھتی ہے اور اس میں زہر سے شفا دینے کی تاثیر ہے کھجور سے انسانی جسم کی وٹامن کی ضرورت بخوبی پوری ہوجاتی ہے- یہ پھل کمزور جسم کو فربہ کرتا ہے اور صاف خون کی افزائش کرتی ہے سینہ اور پھیپھڑوں کو بہت قوت بخشتی ہے۔
شہد
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد بہت مرغوب تھا۔ اور اس کا بہت استعمال فرماتے تھے۔ شہد کی شفا کی غیرمعمولی صلایت کا ذکر قرآن میں‌ بھی آیا ہے اور اسے موت کے علاوہ ہر مرض کا علاج قرار دیا گیا ہے۔
اور اس کے استعمال سے جسم کئی امراض سے محفوظ رہتا ہے۔ جدید سائنس میں بھی ابھی تک شہد کا متبادل تلاش نہیں کیا جاسکا،،، شہد کی ایک خوبی اس کے رس کا جلد اثر کرنا ہے کیونکہ یہ فوراً ہی خون میں شامل ہو جاتا ہے۔ اور یہ قدرتی انٹی بایوٹک ہونا ہے۔
روغن زیتون :- یہ تیل امراض قلب اور موٹاپے سے بچنے کیلئےانتہائی مفید ہے زیتون کا تیل دنیا کا منفرد اور واحد تیل ہے جو کہ چربی میں تبدیل نہیں ہوتا اور اسکی اہمیت کا یہ عالم ہے کہ قرآن میں زیتون کا ذکرموجود ہے اور خود آپ صلی اللہ و علیہ وسلم نےتجویز فرمایا کہ زیتون کا تیل کھاﺅ اور مالش میں استعمال کرو۔ اس لئے کہ وہ مبارک درخت سے پیدا ہوتا ہے اور آپ کا معمول تھا کہ روٹی کو روغن زیتون سے چپڑ کر تناول فرمایا کرتے تھے زیتون متعدد و مختلف امراض میں بہت فائدہ مند ہے جیسا کہ سانس کی بیماریاں، کولیسٹرول سے پیدا شدہ مسائل، جوڑوں اورپٹھوں کے درد، بلڈ پریشر، گردوں کےامراض، موٹاپے اورفالج وغیرہ
کدو
حضور اکرم کو کھانے میں کدو کی سبزی بہت مرغوب تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دعوت میں جو کی روٹی اور کدو گوشت کا شوربہ پیش کیا گیا، میں نے حضور نبی کریم کو دیکھا کہ پیالے کے کناروں سے کدو تلاش فرما کر تناول فرما رہے تھے۔ میں اس روز کے بعد ہمیشہ کدو کو پسند کرنے لگا۔ کدو تاثیر میں‌ جلد ہضم ہونے والی غذا ہے اور نہایت صحت بخش ہے اور دماغی صلاحیتوں میں اضافہ کرتا ہےکدو دل کے امراض میں بھی نافع ہے اور ، جگر اور اعصاب کو بہت تقویت دیتا ہے
سرکہ
ہمارے پیارے نبی کو سرکہ بہت پسند تھا۔ آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ سرکہ بھی کیسا بہترین سالن ہے۔
حضرت اُ مّ ہانی رضی اللہ سے روایت ہے کہ کہ حضور نبی کریم میرے گھر تشریف لائے اور فرمایا : کیا تیرے پاس کھانے کے لئے کوئی شے ہے ؟ میں نے عرض کیا سوکھی ہوئی روٹی اور سرکہ کے سوا کچھ بھی نہیں ، حضور اکرم نے فرمایا ، وہی لے آﺅ وہ گھر سالن سے خالی نہیں جس گھر میں سرکہ ہو۔
سرکہ بیجا بھوک کے احساس سے چھٹکارہ دیتا ہے اور نظام انہضام کو معتدل کرتا ہے ۔سرکہ کا استعمال ذیابیطس میں بہت مفید ہے اور اس سے خون میں گلوکوز کی مقدارمتوازن رہتی ہے-
انجیر
انجیر مقوی غذا بھی ہے اور دوا بھی اور انجیرکے مقام کو جاننے کے لیئے یہ کہدینا کافی ہے کہ ایک پوری سورۃ 'والتین' اسی کے نام پہ ہے اور یہ بھی سرکار دو عالم کی پسندیدہ غذاؤں میں سے ایک ہے، حضرت محمد کا ارشاد گرامی ہے کہ انجیر جنت کا پھل ہے یہ زوال عمر کے دنوں میں خصوصی فائدہ دیتا ہے اور اس پھل کے کھانے سے بڑھاپا جلدی نہیں آتا ، یہ کمزور اور دبلے پتلے لوگوں کے لئے اکسیر ہے کیونکہ طبی طور پہ یہ ثابت ہے کہ روزانہ انجیر کھانے سے جسم کو فربہ کیا جاسکتا ہے
انجیر کے اہم اجزاء میں معدنی اجزاء کے علاوہ ، شکر، پروٹین، کیلشیم اور فاسفورس پائے جاتے ہیں،خشک اور تر دونوں طرح کے انجیر میں وٹامن اے اور سی کی کافی مقدار پائی جاتی ہے جبکہ وٹامن بی اور ڈی قلیل مقدار میں ہوتے ہیں اسکے استعمال سے ہڈیاں مضبوط و مستحکم ہوجاتی ہیں کیونکہ اس میں فولاد‘ کیلشیم اور فاسفورسموجود ہوتےہیں، انجیر انسانی جسم کو درکار فولاد کی دو فیصد ضرورت کے لیئے کافی ہوتا ہے
جو کی روٹی
حضور نے اپنی ساری زندگی میں کبھی بھی میدہ کی روٹی تناول نہیں فرمائی کیونکہ آپ کو جو کی روٹی بہت مرغوب تھی اور سنن ابی داﺅد میں یہ حدیث موجود ہے کہ آپ نے جو کی روٹی کا ٹکڑا لیا اور اس پر کھجور رکھ کہ فرمایا کہ یہ اس کا سالن ہے اور تناول فرما لیا۔ جو بلڈ پریشر کو فائدہ پہنچاتا ہے اور یہ جسم کی زائد حدت کوکم کرتا ہےاور اس میں جسم کو توانائی بخشنے والے اجزاءکی خاصی بڑی مقدار پائی جاتی ہے، اس میں 80فیصد نشاستہ‘ لحمیات اور فاسفورس موجود ہوتا ہے۔جو پیاس بجھاتا ہےاور جوڑوں کے درد کو ختم کرنے میں بہت نافع ہے اس کے استعمال سے زہریلے مادوں کا اخراج ہوتا ہے اس لیے مہاسے‘ چہرے کے دانوں اور دوسری کئی جلدی بیماریوں میں مفید ثابت ہوتا ہے
گوشت
حضور اکرم شوربے والا اور بُھنا ہوا گوشت شوق سے تناول فرمایا کرتے تھے اوریہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرغوب غذا تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا کہ دنیا و جنت دونوں جگہ سب کھانوں کا سردار گوشت ہے۔ جدید و قدیم سبھی زمانوں کی طب میں یہ بات مذکور ہے کہ گوشت کا معتدل اسعمال جسم انسانی کی صحت و توانائی کے لئے بہت مفید ہےکیونکہ اس میں‌ حرارے و لحمیات اور جسم کی طاقت و توانائی کے لئے بہت سے اہم اجزا موجود ہوتے ہیں۔
انگور
انگور سے آنحضور کو رغبت تھی اور یہ بہت فرحت بخش نہایت لذیذ اور بہت قوت فراہم کرنے والا پھل ہے حضرت سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم کو انگور کے خوشے اس طرح تناول فرماتے ہوئے دیکھا کہ (چھوٹا سا ) خوشہ منہ میں لے کر دانے توڑے اور تنکول کو باہر کھینچ لیتے۔ ا
انگور جسم میں صاف اور تازہ خون کی افزائش کرتا ہے اور اس میں پروٹین‘ وٹامن اے‘ وٹامن سی‘ کاربوہائیڈریٹس آئرن اور کیلشیم مناسب مقدار میں موجود ہوتے ہیں ، یہ خواتین کی توانائی کی خصوصی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے۔ اس کا رس نہ صرف معدے کی رطوبت کو مزید ہاضم بناتا ہے، بلکہ نظام انہضام کے بعد خون میں شامل ہو کر خون کو بہت صحت مند بنانے کا کام بھی کرتا ہے
انگور کا رس آدھے سر کے درد اور معدے کی بیماریوں، تپ دق یا قبض، کھانسی، جسم کی کمزوری، خون کی کمی اور دیگر امراض کے لیے بہت مفید ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں