پیر، 12 دسمبر، 2016

مقابلے کے امتحانات میں اردو کو ذریعہء اظہار بنانے سے صاف انکار

بالآخر فریب کا پردہ چاک ہو ہی گیا اور گزشتہ ماہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے اپنے اگلے برس فروری میں ہونے والے مقابلے کے امتحانات کے اشتہار میں انگریزی کے ساتھ ساتھ قومی زبان اردو کو بطور ذریعہ اظہار بنانے سے صاف پیٹھ دکھادی ہے اور یوں سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کا بھرپور مذاق اڑایا ہے کہ جو اس نے چیف جسٹس جواد خواجہ کی سربراہی میں گزشتہ برس 8 ستمبر کو دیا تھا اور جس کی رو سے حکومت کو اردو کوملک کی سرکاری زبان بنانے کے آئینی تقاضے کو پورا کرنے کا اہم حکم جاری کیا گیا تھا اور 1973 کے متفقہ آئین کی اس مد میں 42 برس سے جاری سنگین خلاف ورزی کے باوجود عملدرآمد کے لیئے مزید 3 ماہ کا وقت بھی دیدیا گیا تھا- بات بالکل واضح ہے کہ جب اردو کو سرکاری ملازمت کے امتحان کی زبان ہی نہیں بننے دیا جائیگا تو پھر انگلش سے عقیدت رکھنے والے یہ ذہنی غلام سرکاری افسران اردو میں سرکاری کام کاج بھی کیونکر کرنے لگے لیکن سوال یہ ہے کہ اس موقع پہ کہاں ہیں وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی جو دو ماہ قبل 8 ستمبر کو لاہور میں ہونے والی نفاذ اردو کانفرنس میں اردو کو مقابلے کے امتحان میں بطور ذریعہ اظہار شامل کرنے کا عزم صمیم دکھا رہے تھے اور کہاں گئے انکے دکھائے گئے وہ پر فریب سپنے ۔۔۔۔ اور کہاں گئی قومی زبان تحریک کی اس ضمن میں سرکاری حکام و وزراء سے وابستہ خوش فہمیاں ۔۔۔ کیوں نہیں وہ انہیں کھینچ کےعدالت میں لے کے آتے ،،،،
اس سلسلے میں خصوصاً سب سے پہلے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئر مین نوید اکرم چیمہ کو کیوں عدالتی کٹہرے میں نہیں گھسیٹا جاتا کہ جنہوں نے نہ صرف اپنے محکمے میں اردو کو کہیں گھسنے نہیں دیا بلکہ بطور سربراہ محکمہ ، اردو کو مقابلے کے امتحان سے اس برس بھی دور ہی رکھا جبکہ اب تو عدالتی فیصلہ آنے کے بعد یہ سے یہ امتحان دوسری بار منعقد ہونے جارہا ہے ۔۔۔ میں تو ان موصوف سے ٹھیک ایک ایک برس قبل گزشتہ برس 5 نومبر کو انکے دفتر میں جاکے ملا تھا لیکن اس وقت موصوف کا یہ کہنا تھا کہ ابھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ آئے دو ہی ماہ ہوئے ہیں اور اگلے برس کے لیئے امتحان کا اعلان کیا جا چکا ہے اور اب تو اس سے اگلے امتحان ہی میں یہ کام ہوسکے گا تاہم موصوف نے صاف طور پہ یہ فرمادیا تھا کہ " لیکن ہم سسٹم میں تبدیلی کے بغیر ایسا کچھ نہیں کرینگے" ،،،، جس پہ میں نے اس 'نکتہء حکیمانہ' کی صراحت چاہی تو فرمانے لگے کہ "جب تک ایسا کرنے کے لیئے ہمیں خودوزیراعظم نہیں کہدیتے،ہم اپنے طور پہ اردو کو مقابلے کے امتحان میں ذریعہ اظہار نہیں بنا سکتے" انکی اس بات پہ میں نے انہیں وہیں واضح کردیا تھا کہ "جناب آپ کا ادارہ ایک آزاد و بااختیار آئینی ادارہ ہے اور آپ اسکے باضابطہ سربراہ ہیں اور اس حیثیت میں سپریم کورٹ کے احکامات کی براہ راست احکامات کی تعمیل کے پابند ہیں اور اپکی یہ لیت و لعل سراسر توہین عدالت ہے اور اس پہ آپکو عدالت میں کھینچا جاسکتا ہے" ۔۔۔۔
اس موقع پہ ان دونوں وفاقی وزراء یعنی سعد رفیق اور پرویز رشید ( جو اب سابق ہوچکے ہیں تاہم حکومتی مشینری کا اب بھی اہم حصہ ہیں ) سے بھی یہ استفسار کیا جانا چاہیئے کہ یکم نومبر کو ہونے والی میڈیا کانفرنس میں تو آپ نے اردو کی محبت کی بڑی لن ترانیاں سنائی تھیں ، لیکن اب وہ کمیشن کی اس واضح خلاف ورزی پہ منہ میں گھنگھنیاں ڈالے کیوں بیٹھے ہیں ۔۔۔ ان دونوں حضرات سے میری مڈبھیڑ قومی زبان تحریک کی یکم نومبر 2015 کی میڈیا کانفرنس میں برسرعام ہوئی تھی کیونکہ وہاں میں نے انکی اردو کی محبت میں کی جانے والی میٹھی میٹھی باتوں کے جواب میں ان سے کہا تھا کہ وہ اگر اردو کے نفاذ کے معاملے میں واقعی مخلص ہیں تو ابھی یہاں وفاق کے نمائندے کی حیثیت سے واشگاف انداز میں یہ یقین دہانی کرائیں کہ حکومت عدالت عظمیٰ کے نفاز اردو کے تاریخی فیصلے کے خلاف اپیل میں نہیں جائیگی ۔۔۔ جس پہ زچ ہوکے سعد رفیق نے یہ کہا تھا کہ عارف مصطفیٰ صاحب بات کا بتنگڑ بنا رہے ہیں اور ایسی کوئی بات ہی نہیں کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل میں جا رہی ہے ۔۔۔ لیکن جلد ہی وہ وقت بھی آگیا کے میرا یہ خدشہ بالکل درست ثابت ہوا اور حکومت نے اس پہ نظر ثانی کی اپیل کرڈالی ۔۔۔ میرے دو وفاقی وزراء سے سرکشانہ سوال قومی زبان تحریک کے سربراہ ظفر ّزیز آزاد کو سخت ناپسند آئے اور اس روز میڈیا کانفرنس ختم ہونے کے بعد تنظیم کے اندرونی جائزہ اجلاس میں انہوں نے میری خبر لینے کی کوشش کی کہ معزز مہمانوں کے ساتھ یہ احتجاجی رویہ نامناسب تھا ۔۔۔ لیکن میں نے انہیں دو ٹوک انداز میں یہ واضح کردیا تھا کہ قومی مفادات اور قومی امنگوں کے رستے میں ذاتی تعلقات اور مناصب و عہدوں کی کوئی حیثیت نہیں اور سچ بات کہنے سے یہ مطلق پرواہ نہیں کی جانی چاہیئے کہ کون 'بڑا' خوش ہوتا ہے اور کون ناراض ۔۔۔
لیکن لاہور کی اس مذکورہ میڈیا کانفرنس میں کی گئی میری اس 'گستاخی' کی سزا مل کے رہی اور مجھے قومی زبان تحریک سے فارغ کردیا گیا جس پہ میں نے اپنے کارواں کو ایک نسبتاً تبدیل شدہ نام 'نفاز قومی زبان تحریک کے نام سے پھر سے گرم سفر کردیا -لیکن میرا سوال لاہور میں بیٹھے ظفر عزیز آزاد سے اب بھی یہی ہے کہ وہ آخر کب تک قومی مقاصد کو ذاتی تعلقات پہ قربان کرتے رہیں گے اور کیوں نہیں ان معاملات پہ واضح اور دو ٹوک راست اقدام کی تیاری نہیں کرتے- عالم یہ ہے کہ اگر کوئی حکومتی 'بڑا' کہیں اردو میں تقریر کر ڈالے تو انکی تنظیم کی جانب سے ترنت مبارک سلامت کا غلغلہ مچادیا جاتا ہے اور ہر جانب مبارکبادی و ستائش کے ایس ایم ایس پیغامات بھیجنے کا تانتا باندھ دیا جاتا ہے لیکن ابھی انکی 28 مارچ 2015 اور اب 8 ستمبر 2016 کی کانفرنسوں کے بالکل برخلاف مذکورہ اقدامات پہ احتجاج تو درکنار انکی یا انکی تنظیم کی جانب سے کوئی مذمتی بیان تک جاری نہیں کیا گیا ۔۔۔ اس جانب سے مایوس ہوکر اب لے دے کے میری امید کوکب اقبال ایڈوکیٹ ہی سے ہے کہ جن سے میں تین چار ماہ سے یہ درخواست کررہا ہوں کہ وہ تمام اہم اداروں اور محکموں کے سربراہان پہ توہین عدالت کا مقدمہ کریں اور اس سلسلے میں آغاز فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے کریں کے جہاں قوم کے اصل حکمران ڈھونڈھے جانے کا عمل سرانجام دیا جاتا ہے اور یہی وہ جگہ ہے کہ جو اشرافیہ کو ریڑھ کی ہڈی فراہم کرتی ہے اور اگر اس جگہ پہ قومی مقاصد کی نمو و آبیاری کا حقیقی انتظام کرنے اور اردو کے نافذ کرنے کا اہتمام کرلیا گیا تو پھر سارے پاکستانی معاشرے میں اردو کے نفاذ کو یقیننی بننے سے کوئی بھی نہ روک سکے گا-

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں