پیر، 12 دسمبر، 2016

ایدھی گئے تو کیا ٹرسٹ بھی گیا ۔۔۔؟؟؟

کتنے زود فراموش ہیں ہم لوگ ۔۔۔ ابھی جیسے کل ہی کی تو بات ہے کہ ہم نے 8 جولائی کو ایدھی کے انتقال پہ آنسؤوں کے دریا ہی بہا ڈالے تھے ۔۔۔ اور اس خادم انسانیت کے قائم کردہ ادارے کو ایدھی ٹرسٹ کو پورے وطن کا سائبان قرار دے رہے تھے اور یہ عہد کرتے سنے جارہے تھے کہ ہم اس عظیم ادارے کی پشت پہ کھڑے رہینگے اس کا ہاتھ تھامے رکھیں گے لیکن محض دو ہی ماہ میں ہم نے جیسے ان کی ساری خدمات کو بھلا دیا اور اب عالم یہ ہے کہ آج یہ خبر ملی ہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے نئے سربراہ فیصل ایدھی نے پریس کو بتایا ہے کہ اس برس ایدھی ٹرسٹ کو پچھلے برس کی نسبت قربانی کی کھالیں آدھی ملی ہیں ۔۔۔ یہ کوئی سنی سنائی ٹئپ کی خبر ہوتی تو میں کبھی یقین نہ کرتا ۔۔۔ کیونکہ اس سال تو عوام سے گن پوائنٹ پہ کھال چھیننے والے متحدہ کے شیر اب اپنی ذاتی کھال بچاتے پھر رہے ہیں ، لیکن یہ تو خود فیصل ایدھی کی جانب سے دیا گیا ایک باضابطہ بیان ہے ۔۔۔ یعنی یوں محسوس ہورہا ہے کہ عبدالستار ایدھی کیا گئے ان کے ادارے پہ سے ٹرسٹ بھی ختم ہوا ۔۔۔
اہل شہر کی زود فراموشی کے علاوہ اس کمی کی دوسری بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ متحدہ کا وحشیانہ خوف ختم ہونے کے بعد مختلف مدرسوں و فلاحی اداروں کی ٹیموں نے گھر گھر جاکر رابطے کیئے اور کھالیں جمع کرلیں جبکہ ایدھی ٹرسٹ نے ایسی گھر گھر رابطہ کاری کا کام نہ ہی پہلے کبھی کیا تھا اورنہ ہی اب کیا ہے ۔۔۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایدگی ٹرسٹ اس صورتحال کا تدارک کرے اور اور اہل شہر بھی اپنے فرائض سے پہلو تہی نہ کریں اواز خود اس ادارے کی مدد کریں ،،، جب اسکی کارکردگی پہ اعتماد ہے تو پھر یہ غرور کیسا کہ وہ مدد لینے گھر آئیں تبھی دینگے ،،، اسکے بجائے ہونا تو یہ چاہیئے کہ اگر ہر شہری ہر ماہ اپنی آمدنی میں سے ایک دو فیصد رقم بھی پابندی سے رقم ایدھی ٹرسٹ کو دینے کو اپنامعمول بنا لے تو یہ ادرہ اپنے فلاحی کام پوری آسانی سے کرسکے گا بلکہ انکا دائرہ اور بڑھ جائے گا اور رب کریم بھی یقینناً انکی آمدنیوں میں بہت اضافہ بھی فرمائے گا اور دیگر اجر بھی عطا کرے گا-
کوئی یہ بھی تو سوچے کہ اس طرح ایدھی فاؤنڈیشن کو بے یارو مددگار چھوڑدینے سے ان ہزاروں سسکتے افراد کا کیا ہوگا کہ جو اس ادارے کی خدمات سے مستفید ہو رہے ہیں اور جنکی غذا ہی نہیں دوا دارو تک کے اخراجات یہ عظیم فلاحی ادارہ برداشت کر رہا ہے ۔۔۔۔ آج ایدھی صاحب زندہ ہوتے تو اہل شہر سے پوچھتے کہ تم لوگ پہلے تو متحدہ کے خوف سے کھالیں دینے سے رکے رہتے تھے لیکن کیا اب خدا کا خوف بھی نہیں کہ انکے ادارے کی دستگیری پہ انحصار کرنے والے مجبور بلکتے محروم لوگوں کی ان سنی فریادوں پہ کان دھرا جائے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں