پیر، 12 دسمبر، 2016

بلآخر توہین عدالت کا مقدمہ دائر ہو ہی گیا ،،،

گزشتہ برس اردو کے نفاز کے لیئے سپریم کورٹ میں تاریخی کیس جیتنے والے نامور وکیل جناب کوکب اقبال جو نفازاردو کے مجاہد اعظم ہیں نے مجھے یہ اطلاع دی ہے کہ انہوں نے بالآخر جمعہ 25 نومبر کو سپریم کورٹ میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین نوید اکرم چیمہ پہ توہین عدالت کا مقدمہ دائر کردیا ہے ۔۔۔ اس ضمن میں میں نے گزشتہ دو ماہ سے انکے کان کھائے ہوئے تھے کیونکہ دو ماہ قبل اخبارات میں شائع ہونے والے مقابلے کے امتحان یعنی سی ایس ایس برائے 2017 کے اشتہار میں انکے ادارے نے ایک بار پھر نفاز اردو کے عدالتی فیصلے کو قطعی نظرانداز کردیا ہے اور اردو زبان کواس مرتبہ بھی امتحان کی تحریری زبان کے لیئے اختیار کرنے کی سہولت دینے سے یکسر انکار کردیا ہے اور حسب سابق صرف انگریزی ہی کو بطور واحد جوابی زبان کے برقرار رکھا گیا ہے جبکہ نفاز اردو کا تاریخی فیصلہ آئے سواسال ہو چلا ہے اور یہ اسکے بعد سے دوسرا امتحان منعقد ہونے جارہا ہے ۔۔۔
میرے قارئین کو یاد ہوگا کہ گزشتہ برس 5 نومبر کو میں نے خصوصی طور پہ اسلام آباد جاکے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین نوید اکرم چیمہ سے ملاقات کی تھی اور ان سے مطالبہ کیا تھا کہ سی ایس ایس میں اردو کو بطور تحریری زبان اختیار کرنے کی سہولت دی جائے تو موصوف نے سسٹم کی پابندیوں کا رونا بھی رویا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ اس وقت چونکہ سال 2016 کے امتحانات کا اعلان پہلے ہی کیا جاچکا ہے لہٰذا یہ کام اس سے اگلے امتحان سے قبل ہونا قطعی ممکن ہی نہیں ہے جس پہ میں نے کہا تھا کہ اگر اگلے برس بھی یہی صورتحال رہی تو پھر ہم آپ پر ہم توہین عدالت کا مقدمہ دائر کرکے آپکو عدالت میں گھسیٹیں گے اور اب وہ وقت بالآخر آن پہنچا ہے ،،، کوکب اقبال صاحب نے سپریم کورٹ میں دائر مقدمے میں عدالت کو میری کمیشن کے چیئرمین سے ہونے والی اس مذکورہ ملاقات کا بھی حوالہ دیا ہے جسکا ذکر مقدمے کے پیرا 6 میں ہے اور میرا یہ حوالہ میرے نام سے دیا گیا ہے-
قارئین اب دعا کیجیئے کہ یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں برائے سماعت منظور ہوجائے اور پھر کاش عدلیہ کے محاز پہ ایک اور تاریخی فتح بھی اردو کے عاشقان کو میسر آجائے اور ملک میں نفاز اردو کی راہ میں پڑے یہ اشرافی ، سرکاری، طبقاتی روڑے تاریخی ناکامی ، ذلت اور گمنامی کی گہری کھائیوں میں جا گریں اور ملک میں کالے انگریزوں کا نہ صرف راج ختم ہوجائے بلکہ ہمارے طلبہ کی وہ توانائیاں ضائع ہونے سے بچ جائیں کہ جو وہ مختلف اہم علوم کو سمجھنے سے زیادہ انکی انگریزی سمجھنے میں اور اس میں جواب دینے کی احمقانہ کھکھیڑ میں صرف کررہے ہیں ۔۔۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ رستہ بہت کٹھن ہے بڑا خارزار ہے لیکن یہاں ہمارے ولولے بھی تپش آمادہ ہیں اور پاؤں بھی آبلہ پائی کے لیئے بضد ہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں