م ایک عجیب وغریب جذباتی قوم ہیں اور جسے پسند کرلیں تو اسے مکمل ہیرو سمجھتے ہیں اوراس میں کسی خامی کے ہونے کو تسلیم ہی نہیں کرتے اور دوسرے تمام کو مکمل ویلن تصور کرتے ہیں اور اسی طرح کسی کو ناپسند کربیٹھیں تو وہی دنیا کا سب سے گھٹیا اور برا آدمی بن جاتا ہے اور اس میں کسی خوبی ہونے کو تسلیم ہی نہیں کیا جاتا
قاسمی صاحب کے ناقدین کا معاملہ بھی بالکل ایسا ہی ہے اور جو کوئی انکے سیاسی رجحان کا مخالف ہے تو وہ انکی ادبی حیثیت کو بھی اس کی زد میں لے لیتا ہے ۔۔۔ میں خود مسلم لیگ نون کا سخت ناقد ہوں لیکن یہ حقیقت تسلیم کرتا ہوں کہ قاسمی صاحب کا بڑا ادیب شاعر اور مزاح نگار ہونا اس سے ہٹ کر ایک الگ بات ہے ۔۔۔ اگر کردار کی کسی کمزوری کو ہی بنیاد بنانے کر کسی تخلق کار کا مقام متعین کرنا لازمی ہے تو پھر تو غالب تو شراب بھی پیتے تھے جواء بھی کھیلتے تھے اور کئی بار اس جرم میں پکڑے بھی گئے اور نہ صرف ناجائز قابض انگریزوں سے پینشن لینے کے لیئے کلکتے تک گئے بلکہ انکی قصیدہ خوانی بھی کی ۔۔۔ تو کیا محض ان وجوہات کی بنیادوں پہ غالب کے ادبی مقام سے انکار کرکے کسی دیگر کو غالب سے بڑا شاعر مان لیا جائے ،،، اسی طرح منٹؤ کو بیسویں صدی کا سب بڑا اردو افسانہ نگار مانا جاتا ہے لیکن یہ وہی شخص تھا کہ جو زیادہ تر شراب کے نشے میں دھت رہتا تھا اور اسپتال لے جاتے ہوئے ایمبولینس میں موت سے قبل آخری سانسوں میں بستر مرگ پہ بھی اسنے شراب ہی مانگی تھی اور اسے اسٹریچر پہ لیٹے لیٹے ایک چمچے سے شراب پلائی ہی جارہی تھی کہ موت نے آلیا اور یہی وہ موصوف تھے کہ اپنی ایک بچی کے شدید بیمار ہونے پہ اسکے علاج کے لیئے جو رقم بطور ادھارمانگ کے لائے تو سیدھے شراب خانے جاپہنچے اور سب رقم کی شراب خرید لائے ،،،، تو کیا انکے اس رویئے کو کسی عام انسانی پیمانے سے بھی کسی نوعیت کی حساسیت اور انسان دوستی کے ترازو میں تولا جاسکتا ہے ،،،؟؟ لیکن اپنی اولاد کے معاملے میں بھی اس قدر سفاک ، بےحس اور خود غرض ثابت ہونے والے کو آج بھی بطور ایک 'عظیم افسانہ نگار' یاد کیا جاتا ہے ،،، اس طرح کی متعدد باتیں ہیں جو بہت سے عظیم لوگوں کے بارے میں ڈھونڈھنے اور تلاشنے سے باآسانی مل جائینگی لیکن شخصیت کا تاثر اسکے کارناموں کے مضموعی وزن کی بنیاد پہ قائم ہوتا ہے
جو لوگ میرے قاری ہیں انہیں بخوبی معلوم ہے کہ میں توکراچی میں بیٹھ کر بھی کئی سال سے ایم کیوایم جیسی خونخوار تنظیم کی دھجیاں اپنے قلم سے بکھیرتا رہا ہوں اور کسی بھی خوشامد یا خوف کے زیر اثر نہیں لکھتا اور قاسمی صاحب کے ناقدین سے پوچھتا ہوں کہ چلو اچھا خود ہی بتادو کہ عصر حاضر میں یوسفی صاحب کے بعد اگر قاسمی نہیں تو پھر وہ کون ہے کہ جسے انکے بعد مقام دیا جاسکے ،،،؟؟ لیکن یاد رکھنا کہ بے دلیل کوئی بات ہرگز قبول نہیں کی جائے گی ۔۔۔۔ اور میں، محض کسی مخالف گروہ کے تابڑ توڑ حملوں سے ڈر کے اپنی رائے بدلنے والا ہرگز نہیں ہوں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں