پیر، 12 دسمبر، 2016

لاہور اور ڈیرہ غازی خان میں بھی بزم ظرافت قائم ہوگئی

الحمد للہ کراچی کے بعد چکوال اور اب لاہور اور ڈیرہ غازی خان میں بھی بزم ظرافت کی شاخیں قائم ہوگئی ہیں لاہور میں پروفیسر سلیم ہاشمی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ جو کسی تعارف کے محتاج نہیں کیونکہ وہ ملک میں اردو زبان کے نفاذ کے لیئے کی جانے والی جدوجہد کے مجاہد اعظم ہیں اور ساتھ ہی ساتھ نہایت بذلہ سنج علمی شخصیت ہیں دوسری طرف ڈیرہ غازیخان ڈویژن میں یہ ذمہ داری جناب یاسر شیخ کو دی گئی ہے کہ جو وہاں کے ایک نہایت متحرک سماجی شخصیت اور بہت معروف صحافی رہنماء ہیں اور اے آر وائی چینل سے منسلک ہیں ۔۔۔ ان دونوں حضرات سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہاں کے احباب کے تعاون سے مل جل کر اپنے علاقے کے اہل فکر و نظر، سماجی و علمی شخصیات ، اہل صحافت اور انتظامی افسران اور ذہین طلباء کو وقتاً فوقتاً کھانے کی نشست پہ مدعو کریں اور ہلکی پھلکی گپ شپ کے ساتھ قومی موضوعات پہ تبادلہء خیال کا اہتمام کریں اوریوں یہ حضرات باہم ملک و قوم کو درپیش مسائل کا حل کھوجنے کی کاوشیں کریںگے اور ہماری بزم کے یہ ڈویژنل صدور وہاں پیش کیئے جانے والے خیالات کا خلاصہ اور اہم وڈیو بائٹس سوشل میڈیا پہ پیش کریں گے اور یوں قوم کی ذہنی تربیت کا خاص اہتمام کرینگے- ضروری نہیں ہر بار کسی بڑی نشست کا انتظام کیا جائے لیکن ہر تین چار نشستوں میں سے ایک کو نسبتاً ذرا بہتر پیمانے پہ منعقد کرلیا جائے تو یہ اچھا رہے گا- دوسرے شہروں میں بھی بزم ظرافت کے قیام کے لیئے بھی درد مند اہل ذوق رابطہ کریں لیکن یہ واضح رہے کہ کسی حرام مال کی بل پہ نمایاں ہونے والے یا کسی دو نمبر بندے کی ہمیں مطلق کوئی ضرورت نہیں ہے
اللہ کریم ان مخلص حضرات قومی تعمیر و تربیت کے اس درد مندانہ عمل میں کامیاب کرے-
دوسری بات یہ کہ یہاں کراچی میں ہمارا دوسرا پروگرام سٹار مارکیٹنگ اور مین ہل ایڈورٹائزنگ کے چیئرمین واثق نعیم صاحب کی جانب سے اس پتے پہ جمعہ 30 ستمبر کی شب 8 بجے ہوگا اور جو ہم سے رابطہ کرے گا ان میں سے انتخاب کرکے ہی لوگوں کو مدعو کیا جائے گا- جیسا کہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں اور پھر دہرائے دیتے ہیں کہ ہماری بزم میں کسی فرقہ پرست اور انتہا پسند یا تعصبی کی کوئی گنجائش نہیں - ہر ماہ اس میں ہرشعبہء زندگی سے لوگ مدعو کیئے جاتے ہیں اور غیر رسمی ماحول میں گپ شپ بھی ہوتی ہے تھوڑی سی شاعری بھی سنی جاتی ہے لطائف بھی پیش کیئے جاتے ہیں اور ایک افسانہ یا مزاحیہ مضمون بھی سنایا جاتا ہے اور آخر میں ہلکے پھلکے انداز میں کسی قومی مسئلے یا سماجی موضوع پہ اظہار خیال بھی کیا جاتا ہے ۔۔۔ اور اس ہی کارروائی کے دوران ہی لذیذ کھانا بھی کھالیا جاتا ہے -یوں سمجھ لیجیئے کہ مصروفیت کے اس دور میں آپکواس بہانے زندہ دلی کی ایک مسکراتی شام میں نئےدوستوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے اس دوسری نشست میں طارق ٹونکی کی خطاطی کے شہکار نمونوں کی نمائش کے علاوہ ، ساحر لدھیانوی کی شاعری کے منتخب حصے ( امتیاز ملک) ، امین بھایانی کا افسانہ ( م ص ایمن) ، سلیم فاروقی کی 4 مختصر صدلفظی کہانیاں اور ایک مزاحیہ مضمون پیش کیا جائے گا اسکے علاوہ ایک اہم موضوع " انتہا پسندی کا خاتمہ کیسے ہو اس پہ جناب سلیم مغل اور عقل عباس جعفری کو مختصر اظہار خیال کی دعوت دی جائے گی 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں