پیر، 12 دسمبر، 2016

دہشتگرد کا کوئی مسلک کوئی فرقہ نہیں ہوتا

فیصل رضا عابدی کے پکڑے جانے سے انکی حمایت میں چند لوگوں کی جانب ایک عجب ہاہاکار مچی ہے ،، ریلیاں اور مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے ہیں ۔۔۔ یہ صورتحال شہر کے امن کو ایک نئے سلسلہء فسادات کی طرف دھکیل سکتی ہے کیونکہ جوابا" دوسری طرف سے بھی ایسے ہی ہتھکنڈے اختیار کیئے جائینگے ،،، اس وقت شدید ضرورت ہے کہ دونوں طرف کے تدبر رکھنے والے چند اصحاب سر جوڑ کے بیٹھیں اورصرف ایک مطالبہ کریں کہ ہر پکڑے جانے والے فرد کے ساتھ مکمل انصاف کیا جائے جو کہ شفاف ہو اور نظر بھی آئے لیکن اگر اس طرح جلوس جلسوں کے بل پہ کسی کو پکڑنے اور چھڑوانے کی راہ اختیار کی گئی تو پھر معاملات خطرناک ہوسکتے ہیں اور سنجیدہ و ہوشمند ہاتھوں سے نکل کے ( خدا نخواستہ ) انتہا پسندوں کے ناپاک عزائم کی تکمیل کا سبب بھی بن سکتے ہیں کیونکہ انتظامیہ کی غفلت و نا اہلی کے باعث ، یقینی طور پہ اسلحہ دونوں طرف وافر ہی ہوگا
یہ حقیقت کبھی نہیں بھولنی چاہیئے کہ ہر دہشتگرد اپنی وحشت اور خونخواری کی فطرت کو کسی نہ کسی عقیدے نظریئے یا مطالبے سے جوڑ کے اسکا جواز بنائے رکھتا ہے جبکہ وہ خود اس نظریئے یا عقیدے کی اچھی تعلیمات پہ کبھی عمل پیرا نہیں ہوتا ۔۔۔ بیادی طور پہ وہ کسی کا وفادار نہیں ہوتا اور صرف اپنی وحشی جبلت کے تقاضوں کا اسیر ہوتا ہے - اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ عام سا فرد ہوتا کہ جو اس بات کا بہرحال احساس رکھتا ہے کہ کسی فرد کو اسکے مسلک یا عقیدے کی بنیاد پہ موت کے گھاٹ اتار دینے سے بڑی گھناؤنی حرکت کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی ۔۔۔۔ ہر فرد ایک کنبہ رکھتا ہے اور متعدد رشتوں اور فرائض سے جڑا ہوتا ہے اور اسکی موت ان بندھنوں کو بھی روح کے اندر تک سخت زخمی کرڈالتی ہے ۔۔۔اس بات کو یقینی بنانا چاہیئے کہ ریاست کے باسی ہرفرد کو اپنی سوچ عقیدے اور مسلک کے مطابق زندہ رہنے کا پورا حق ہے اور کسی کو بھی یہ حق نہیں کہ کسی پہ اپنی سوچ مسلط کرے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں