( اگر آپ میرے اس مضمون سے متفق ہیں تو اسے آگے شیئر کریں اور اپنی رائے سے آگاہ کریں )
مہذب ملکوں کی حکومتیں اپنے عوام کو خوشیاں دینے کے مواقع ڈھونڈھتی ہیں اور ہماری شاہانہ مزاج حکومت اپنی رعایا کو چڑانے اور ذلیل کرنے کے بہانے تلاش کرتی ہے ۔۔۔ عید کے تیسرے دن کام پہ بلانے کا گھناؤنا عمل بھی انہی میں سے ایک ہے ۔۔۔ خوشیوں کو ترستے عوام کو خود حکومت تو اپنی کارکردگی سے کوئی حقیقی خوشی فراہم کر نہیں سکتی لیکن یہ احساس دلانا ضروریاد رکھتی ہے کہ عید کی خوشیاں بھی اب اسکے اشارہء ابرو کی محتاج ہیں کیونکہ یہ گویا ایک طرح سے حکم حاکم ہے کہ اب قوم حضرت ابراہیم کی سنت نہیں معاذاللہ حضرت نواز شریف کے حکم کو ترجیح دے اور اب تیسرے دن کی قربانی کو تو بھول ہی جائے ۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ میری اس تحریر پہ کیا ردعمل ہوگا ۔۔۔ کیونکہ سرکاری خوشامدیوں کے منہ میں ایسے جوابات ہمیشہ ہی بھرے رہتے ہیں کہ جن میں نری لفاظی کے سوا کچھ نہیں ہوتا لیکن اسکے باوجود جینیوئن سوالات ختم کبھی نہیں ہوتے ۔۔۔ میں بخوبی اندازہ کرسکتا ہوں کہ راگ درباری الاپنے والوں کی طرف سے یہ کہا جائیگا کہ " قوموں کی ترقی کی راہ میں یہ چھٹیاں حائل ہو جاتی ہیں اور یہ کہ ایک دن کام نہ ہونے سے قومی خزانوں کو اتنے ارب روپوں کا نقصان ہوجاتا ہے" جبکہ میرا تو یہ خیال ہے کہ جس طرح پی آئی اے، اسٹیل مل اور ریلوے بدترین خسارے سے دوچار ہیں اور ہر ماہ اس نقصان میں اربوں روپے کا اضافہ ہوتا رہتا ہے ، کسی ایک دن چھٹی کرنے سے شاید اس خسارے کے تاوان میں بھی کچھ کمی تو آہی جاتی ہوگی کیونکہ منافع یا آمدنی تو درکنار ہرماہ حکومتی خزانے سےان اداروں کو کئی ارب روپے انکے بنیادی اخراجات کو پورا کرنے کے لیئے سبسڈی فراہم کی جاتی ہے-
اس بات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس طرح کے سارے حکومتی اقدامات کا سارا اثر مختلف صنعتوں و ملازمتوں سے جڑے تنخواہ دار طبقے پہ ہی پڑتا ہے اور یہ طبقہ ہی وہ ہے کہ جسکی آمدنی پہ لگنے والے ٹیکسوں پہ سارا ملک اور سکے سب ادارے پلتے ہیں جبکہ سرکاری ملازموں کی تو بارہ مہینے ہی عید رہتی ہے ،،، ادھر زمیندار طبقہ تو کھاٹ پہ لیٹے لیٹے کمانے کا عادی ہے ۔۔۔ جبکہ اسکے ہاریوں کے لیئے کسی دن بھی چھٹی نہیں ہوتی ۔۔۔اگر فصل کی اگائی یا کٹائی کے دن ہوں تو کیا جمعہ اور کیا اتوار اور کیسی عید اور کہاں کی شب برات ۔۔۔۔ لے دے کے شہری صنعتی کارکنان ہی وہ گدھی ہیں کہ جن پہ حکومتی کمہاروں کا خوب بس چلتا ہے اوروہ بہانے بہانے سے جی بھر کے انکے کان مروڑے ہی چلے جاتے ہیں ۔۔۔ یہ لوگ ہی وہ طبقہ ہیں کہ جان توڑ محنت کرتے ہیں اور اپنے پیاروں کی زندگیوں راحت لانے کے لیئے اکثر دور دراز کے علاقوں میں ملازمتیں کرتے ہیں اور انکی خوشیوں کی معراج بس یہی عید بقرعید کے تہوار ہوا کرتے ہیں کہ جب ذرا سکون سے یہ اپنےپیاروں کے درمیان چند روز بیٹھ پاتے ہیں اور اپنے سنگی ساتھیوں کے ساتھ کچھ موج میلہ بھی کرپاتے ہیں لیکن ان حکومتی بزرچمہروں کو اس دودھ دینے والی گائے کی یہ مٹھی بھر خوشیاں بھی گوارا نہیں ہوتیں اور اپنا سارا حکومتی اختیار بجائے امن و امان قائم کرنے اور عدل و انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ، یہ لوگ خوشیاں چھیننے اور انکا ،منہ چڑانے میں ہی صرف کرتے دکھائی دیتے ہیں
جہانتک بات ہے اس طرح کی چھٹیوں اور معاصر دنیا کی تو دور کیوں جائیں اپنے پڑوسی ملک بھارت ہی کو دیکھ لیں کہ جہاں بہانے بہانے سے قومی تعطیلت کی بھرمار لگی رہتی ہے اور سیکولر ملک کہلانے کے سب وہاں ہندومت ہی نہیں اسلام ، عیسائیت ، سکھ ازم ، جین ازم اور پارسی مذہب تک کی خاص مذہبی چھٹیوں کو قومی تعطیلات کے طور پہ منایا جاتا ہے جبکہ دیگر قومی نوعیت کے دنوں کی چھٹیاں الگ ہیں لیکن گزشتہ کئی برس سے انکی اقتصادی نمو کی رفتار نہایت تیز یعنی 9 سے دس فیصد سالانہ کے لگ بھگ چلی آرہی ہے- اسی طرح اہل مغرب اپنی قومی یادگاری تعطیلات کے علاوہ ہفتہ بھر کرسمس کی چھٹیاں کرتے ہیں اور گڈ فرائی ڈے اور ایسٹر پہ بھی کئی چھٹیاں مناتے ہیں ۔۔۔لیکن ان سب چھٹیوں کی کسر وہ زیادہ اور بہتر کام کرکے نکال لیتے ہیں ۔۔۔ ہم بھی ایسا کرسکتے ہیں اور اگر کوئی چھٹی اضافی دینی بھی پڑجائے تو اسے دے ڈالیں اور بھلے اسکی کسر اگلے ایک ہفتے کے دفتری اوقات میں ایک گھنٹہ روز بڑھاکے پوری کرلیں لیکن اس مسرتوں سے محروم اور آسائشوں نہیں بنیادی ضروریات تک کے لیئے بلکتی اس قوم کو یوں مزید لاچار نہ کریں اور جو ایک آدھ زیادہ چھٹی وہ دور دراز سے آکے اپنے پیاروں کے ساتھ منا سکتے ہیں انہیں اس سے محروم نہ کریں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں