ے پیارے نبی کے نام پہ انگوٹھا چومنے اور نہ چومنے کا عقیدہ رکھنے کے سلسلے میں ایک دوسرے کا قلع قمع کردینے کے لیئے بیتاب رہنے والے لوگو ۔۔۔ ذرا ٹہرو اور مجھے یہ تو بتاؤ کہ آپکو ، اور سڑک پہ چلتے عام آدمی کو اور عام طالبعلم کو اللہ کے بعد کائنات کی اس دوسری سب سے بڑی و عظیم ہستی یعنی آنحضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ و علیہ و سلم سے متعلق کتنی معلومات ہیں ۔۔۔ آپ لوگ اپنی زندگیوں میں جن جن رشتوں کی ڈور سے بندھے ہوتے ہو اورجنہیں اپنا سمجھتے ہو کیا انکے بارے میں کیا یونہی بیخبر اور غافل رہنا پسند کرتے ہو ،،،؟ اور بالخصوص جس کسی بھی فرد سے دنیاوی محبت کرتے ہو اور جسے اپنا محبوب کہتے ہو تم اسکی ذات سے جڑی تو ہر ایک بات کی تفصیل جاننے کلیئے بہت مضطرب رہتے ہو اور اس کی ہر خبر کے لیئے اپنے جسم کے ہر مسام کو اک کان بنائے رکھتے ہو ،،،اور بیٹھے کہیں بھی ہوبس اسی طرف سب دھیان لگائے رکھتے ہو ۔
تو پھر کائنات کی اس سب سے محبوب ہستی کو کہ جسکے عشق کا تم بھی دم بھرتے ہو تو ذرا دل پہ ہاتھ رکھ کے یہ تو بتاؤ کہ آپ صلی اللہ و علیہ وسلم کی حیات طیبہ سے متعلق کتنی آگہی رکھتے ہو اور کیا اتنا بھی جانتے ہو اس محبوب ہستی کے بارے میں کہ آپ کی اولادوں کی کل تعداد کتنی تھی اور انکے نام اور عمروں کی تفصیل کیا ہے اسی طرح بیویوں یعنی امہات المومنین کی تعداد کتنی تھی اورانکے نام کیا ہیں ۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کل کتنےغزوات میں شرکت کی اور انکے نام کیا کیا تھے اور وہ جنگیں کب کب ہوئیں اور انکے اندر کیا کیا ہوا ،،، آپنے دنیا کے کئی اہم ملکوں کے بادشاہوں کو کب اور کتنے خطوط لکھوائے تھے کس سے لکھوائے تھے اور انہیں کون کون صحابی لے کر گیا اور ان خطوط میں کیا کیا رقم ہوا تھا ۔۔۔ بھلا کتنے لوگ واقف ہیں کہ میثاق مدینہ کیا تھا اور صلح حدیبیہ کی خاص باتیں کیا کیا تھیں ۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ آپکو یہ سب معلوم نہیں ہوگا اور جذبات سے معمور رہنے اور سرکار دو عالم کے عشق کا دعویٰ کرنے والے بیشتر افراد کو اس ضمن میں بہت ہی کم معلومات ہونگی ۔۔۔ جبکہ سچے عشق رسول کا تقاضا کیا ہے ،،، اور کیا اتنی عظیم ہستی سے متعلق اتنی بیخبری پہ آخرت میں کوئی بھی پکڑ نہ ہوگی ۔۔؟؟ یہ کسے نہیں معلوم ۔۔۔؟؟ لیکن کتاب پڑھنے سے دور بھاگتی آج کی نوجوان نسل کو یہ سب معلومات آخر کیسے دی جائیں ،،،؟
لیکن میں یہ بات کرکے یہیں نہیں چھوڑ دوں گا ،،، میں نے تو اسی درد مندی کے تحت تین روز قبل نارتھ کراچی سیون ڈی تھری کی مسجد حرا میں چند اصحاب سے خصوصی ملاقات میں اس بات کو اٹھایا تھا اور ایک دردمندانہ تجویز پیش کی تھی جو کہ یوں تھی کہ کیا ہم اپنی مساجد میں ( خواہ کسی مسلک کی بھی ہوں) یہ اہتمام کرسکتے ہیں کہ اس مسجد کے خطیب صاحب یا کوئی اور دردمند اور مؤثر خطاب کرسکنے والا رد ، یکم تا 12 ربیع الاؤل ربیع الاؤل کے مہینے کے بارہ دن تک روز ، نماز عشا کے بعد چند منٹ کے لیئے ختمیء مرتبت کی حیات طیبہ کے کسی ایک چنیدہ اہم پہلو سے متعلق اہم معلومات پہ مبنی ایک معلوماتی درس دیدیا کرے اور یوں روزانہ کسی ایک موضوع یا پہلو سے نبیء پاک کی ذات گرامی سے متعلق معلومات وہاں حاضرین کو دی جایا کریں جیسے ہمارے پیارے نبی کی گھریلو زندگی ، زمانہء تجارت اور تجارتی دوروں سے متعلق معلومات اور آپکا معاشی طرز عمل ، بطور حکمران طرز حکومت، انداز سفارت وغیرہ وغیرہ - اس عمل سے ہم اپنے ان لوگوں خاص طور پہ نوجوانوں کو پیارے نبی سے متعلق وہ چیدہ چیدہ معلومات بہم پہنچاسکیں گے کہ وہ اپنے نبی سے منسلک ہر اہم بنیادی معلومات سے بے بہرہ نہ رہیں اور روز قیامت الفت رسول کے عملی اظہار کو شفاعت رسول کے حصول کا زینہ بناسکیں -
میں نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ ربیع الاؤل کے ان بارہ دنوں میں روز ایسی معلومات نبوی پہ مبنی ایک بڑا صفحہ بھی اگر ہر مسجد میں چسپاں یا آویزاں کردیا جائے تو پیارے نبی کی حیات طیبہ کے متعدد اہم پہلوؤں سے عام آدمی کی آگہی میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہوسکے گا- اور یہ خاکسار عارف مصطفیٰ روز ایسا ایک بڑا معلوماتی صفحہ تیار کرکے دے سکتا ہے لیکن اگر ہر مسجد سے کوئی فرد اس معلومات کو مسجد کے اند یا باہر گیٹ پہ لگانے / لگوانے کا اہتمام کرسکے تو یہ بلاشبہ نئی نسل کی آگہی میں اضافے کا سبب بن سکے گا اور کسی حد تک عشق رسول کے عملی اظہار کا ایک قابل قدر حوالہ بن جائےگا
اے کاش محض میں نام کا نہیں ، دنیائے عمل کا عارف مصطفیٰ بن جاؤں
محبت کے صرف دعوے نہ کروں ۔۔۔ ہر پہلو سے عاشق مصطفیٰ بن جاؤں
محبت کے صرف دعوے نہ کروں ۔۔۔ ہر پہلو سے عاشق مصطفیٰ بن جاؤں
------------------------
میرے پیارے نبی سے متعلق بنیادی معلومات - حصہ اؤل
میرے پیارے نبی سے متعلق بنیادی معلومات - حصہ اؤل
****************************************
پیدائش :- 9 یا 12 ربیع الاول 53 عام الفئیل یا 22اپریل 571ء (مشہور قول کے مطابق)
مکہ مکرمہ بمقام سوق الیل ( یہاں اب ایک لائبریری قائم ہے )
وفات :- 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء
مدینہ منورہ
مکہ مکرمہ بمقام سوق الیل ( یہاں اب ایک لائبریری قائم ہے )
وفات :- 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء
مدینہ منورہ
بعثت 27رمضان 12ھ / اگست 610ء، غار حرا در مکہ مکرمہ
مرکز قیام مدینہ منورہ کی مسجد نبوی میں واقع حجرہ عائشہ
نسب اسماعیل بن ابراہیم کی نسل میں قریش عرب سے
نسب اسماعیل بن ابراہیم کی نسل میں قریش عرب سے
والدہ آمنہ بنت وہب قبیلہ بنی زہرہ ۔۔۔۔ والد عبدللہ بن عبدالمطلب قبیلہ بنی ہاشم
رضاعی والدہ :- حلیمہ سعدیہ ، رضاعی والد:- حارث بن عبد العزی
رضاعی والدہ :- حلیمہ سعدیہ ، رضاعی والد:- حارث بن عبد العزی
اولاد نرینہ :- قاسم، عبد اللہ، ابراہیم
صاحبزادیاں زینب، رقیہ، ام کلثوم، فاطمہ
ازواج مطہرات خدیجہ بنت خویلد، سودہ بنت زمعہ، عائشہ بنت ابوبکر، حفصہ بنت عمر، زینب بنت خزیمہ ام سلمہ، زینب بنت جحش، جویریہ بنت حارث، ام حبیبہ، صفیہ بنت حی، میمونہ بنت حارث، ماریہ القبطیہ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں