جمعرات، 13 جولائی، 2017

- مبارک ہو ،،، سینما کو واپس اسلامی مرکز ثقافت بنادیا جائےگا شاباش جماعت اسلامی ،،، شرم آنی چاہیئے اور مذہبی جماعتوں کو

حق کے لیئے اگر ڈٹ کے لڑا جائے تو رب العزت ساتھ کیوں نہ دے گا،،، بالآخر آج اسکی یہ نصرت مل کے رہی اور کئی برس سے جاری ایک گناہ عظیم کی بندش کا قانونی فیصلہ ہو ہی گیا اور فیڈرل بی ایریا نزد عائشہ منزل پہ واقع بلدیہ کراچی کے المرکز اسلامی کو واپس اصل حیثیت میں بحال کرنے کا حکم نامہ سپریم کورٹ نے جاری کرہی دیا جو کے ایم سی پہ مسلط چند الطافی بلدیاتی خنزیروں کی حرمزدگی کے نتیجے میں سینما گھر میں تبدیل کردیا گیا تھا ،،، یہ مرکز اسلامی ثقافت دراصل اس وقت کے مئیر عبدالستار افغانی کے حسن تخیل کا نتیجہ تھا کہ جنہوں نے انتہائی دیانتداری اور بلند احساس ذمہ داری کے ساتھ اس شہر کی بہبود و ترقی کے لیئے کبھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا- لیکن انکے بعد جب پھر تعصبات کا ناگ بیدار کرکے۔ برطانوی گود میں پڑے اینڈتے الطاف حسین کے چیلوں نے بلدیہ پہ قبضہ جمایا تو انکی ہوسناک نظریں اس خوبصورت و کشادہ عمارت پہ گڑگئیں اور جلد ہی انہوں‌نے کمینگی اور اسلام دشمنی کی انتہا کرتے ہوئے اس عظیم و خوبصورت اسلامی مرکز ثقافت کو سینما گھرمیں تبدیل کرنے کی ناپاک جسارت کرڈآلی اور اسکے صدر دروازے پہ لکھا ہوا کلمہ طیبہ بھی مٹا ڈالا یوں اسلامی تعلیمات و ثقافت کو فروغ دینے کیلیئے قائم یہ عمارت کنجر خانہ بناکے ٹھیکیدار کے حوالے کرکے مال بٹورنے کا ایک بڑا موقع بنا ڈآلی گئی- یہ وہ ناپاک حرکت تھی کہ جسکا کسی اسلامی ملک میں تصور بھی نیں کیا جاسکتا تھا لیکن وہ کلمے کے نام پہ بنے اس ملک میں ہی کرڈآلا گیا اور کسی مذہبی ملک میں کسی تنظیم کے کارندے یہ ناپاک حرکت کرتے تو وہ گلی کوچوں میں عوام کے ہاتھوں کتوں کی طرح ماردیئے جاتے لیکن یہاں شہر والوں نے تو کچھ بھی نہ کیا ،،،
اس ظلم عظیم کے معاملے کو لیکر کچھ لوگوں نے شہری عدالت سے رجوع کیا تھا لیکن پھر عمارت میں سینما چلانے والے منحوس و اسلام دشمن ٹھیکیدارنے ایم کیوایم کی شہ پر سندھ ہائیکورٹ کے ذریعے اس پہ حکم امتناعی حاصل کر لیا تھا اور اب کافی عرصے سے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت تھا سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمان کی جانب سے دی گئی درخواست کے نتیجے میں اج سندھ ہائیورٹ کے اس حکم امتناعی کو ختم کردیا ہے کہ جسکے ذریعے یہ کاروبارِ گناہ بڑے دھڑلے سے چل رہا تھا ،،، گو کہ کئی معاملات میں ، میں جماعت اسلامی پہ تنقید بھی کرتا رہتا ہوں لیکن مجھے یہ کہتے ہوئے کوئی باک نہیں کہ اس معاملے میں ڈٹ کے کھڑے رہنے پہ جماعت اسلامی بھرپور خراج تحسین کی مستحق ہے ،،، اور حافظ نعیم الرحمان اور ڈاکٹر فیاض عالم کو خاص طور پہ مبارکباد کیونکہ ایک نے عدالت کا رخ‌ کیا اور دوسرے نے میڈیا اور سوشل میڈیا کے مورچہ پہ گھن گھرج مچادی ،،، اس ضمن میں ٍڈاکٹر فیاض عالم نے اصرار کرکے مجھ سے بھی سوشل میڈیا پہ ایک مضمون لکھوایا تھا اور مجھے بھی اس نیکی میں شریک کیا تھا
یہاں آخر میں میرا ایک سوال جماعت کے علاوہ دیگر تمام مذہبی جماعتوں سے یہ ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کی مرکزی شاہرہ پہ واقع ایک اسلامی مرکز کو جب کھلم کھلا سینما گھر بنادیا تو یہ سب جماعتیں‌ آخر کہاں مر گئی تھیں ، یہ جمیعت اہلحدیث والے اور یہ جمیعت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان کہاں جاچھپے تھے اور یہ حنیف طیب ، مفتی منیب، عبدالحق قادری انس نورانی کوکب اوکاڑوی اور ثروت قادری کو سکتہ یوں پڑگیا تھا اور یہ فیضان مدینہ والے بپا الیاس قادری کے قلب میں کوئی سوزش کیوں نہ ہوسکی - اور جہانتک ہماری سیاسی جماعتوں کا احوال ہے تو کیا عرض کیا جائے کہ یہ بات تو انکے نزدیک مسئلہ ہی کوئی نہیں ۔۔۔ کیونکہ اس سے انہیں کیا لینا دینا ، وہ تو ہر وقت ہی روشن خیال اور لبرل نظر آنے کی کوئی بھی قیمت ادا کرنے کو تیار رہتے ہیں ،،اور پھر یہ تو جیسے حافظ نعیم الرحمٰن اور ڈاکٹر فیاض عالم کا کوئی بہت پرائیویٹ سا مسئلہ ہے ،،،
ہیں جی ۔۔۔ کیا سمجھے جی ،،،!!

قارئین ذرا دعا کیجیئے گا

لگتا ہے کہ میرے کل کے مزاحیہ مضمون ' ڈاکٹروں سے ملاقات' کو ڈاکٹروں نے بہت ہی سیریس لے لیا ہے ،،،، کیونکہ شاید انکی 'دعاؤں' سے، ابھی دوسرے نمبر کے بیٹے سرمد کو ایک نجی ہسپتال میں داخل کراکے لوٹا ہوں جو کہ ناظم آباد چورنگی پہ واقع ہے یعنی گھر سے محض 2 کلو میٹر ہی کی دوری پہ ہے اور کسی حد تک سفید پوشی کا بھرم رکھ لیتا ہے ۔۔۔ ادھر کل شام ہی سے میرے سینے کا انفیکشن بھی 'جے آئی ٹی' کے قابل ہوگیا ہوں‌ اور ساتھ ہی کھانسنے میں بھی اب ایسا رواں ہوا ہوں کہ ہر سر اور ہرتال پہ یہ مشقِ 'دُکھن' جاری رکھے ہوئے ہوں‌ ۔۔۔۔۔ اور اب تو میرے سامنے سے میری بیگم بھی اپنی کھانسی قابو پاکے گزرتی ہیں کہ کہیں تازہ شہ نہ پالوں - اس تازہ معاملے کی تفصیل یہ ہے کہ کل رات ان مذکورہ صاحبزادے کو پیٹ اور آنتوں میں نہایت شدید تکلیف ہوئی تھی اور چونکہ نیند کی گولی کھائے ہوئے ہونے کے باعث اک ذرا دیر کو میری آنکھ لگ گئی تھی چنانچہ میرے 2 بیٹے اور انکے دوست اسے ایمرجینسی میں عباسی شہید ہسپتال لے کے بھاگے تھے ۔۔۔ وہاں آجکل بھائی لوگوں کی 'خصوصی توجہ ، اور وہاں کے عملے کو فراہم کردہ طویل عرصے کی خصوصی تربیت کے باعث دیگر سرکاری ہسپتالوں کی طرح اب سوائے خدا کے آسرے کے ، کچھ بھی دستیاب نہیں شاید ایسا 'فروغ تقویٰ' کے لیئے کیا گیا ہو، تاکہ اس طرح مریض کے وابستگان کو بیچارگی کے عالم میں خدا سے زیادہ سے زیادہ لو لگانے کا بھرپور موقع مل سکے - البتہ عباسی ہسپتال کے لان کی اجڑی گھاس پہ بیٹھ کر نت نئے معاشقوں کی سہولت ہمہ وقت دستیاب ہے لہٰذا کچھ انجیکشن اور ڈرپ لگوا کے واپس لے آئے اور کل ہی دوبارہ رات گئے پھر وہیں لے کے بھاگنا پڑا اور آخرشب واپس لائے
میں ماضی کے دریچوں میں جھانکتے ہوئے یہ سوچ رہا تھا کہ کیا وہی ہسپتال ہے کہ شروع میں جب بنا تھا تو ہر سہولت میسر تھی اور عالم یہ تھا کہ بیمار تو بیمار اسکا کوئی بڑھے ہوئے پیٹ کا تیماردار بھی آجائے تو بغیر کہے سنے اسکے الٹرا ساؤنڈ کے لیئے طبی عملہ بہت بیقرار سا پھرتا تھا لیکن اب تو یہ حال ہے کہ شاید روئی ہی واحد مفت دستیاب نشان کرم ہے ۔۔۔ لیکن وہ بھی یوں چھپ چھپا کے استعمال کی جاتی ہے کہ جیسے بارودی مواد یا منشیات کی ذیل میں شمار ہوتی ہو ،،، بہرحال جب آج شام کئی لوگوں کے ساتھ سرمد کو جب لے کے ہسپتال پہنچا تو اوپی ڈے میں چیک اپ کرانے اور فائل بنوانے کے کی دوڑ بھاگ کے دوران میری اپنی طبیعت اتنی بگڑ گئی کہ پھر وہیں ایک الگ ایک بینچ پہ لیٹے لیٹے ہی تمام امور بذریعہ نپٹاتا رہا اور بچوں کو دوڑاتا رہا،،، ااس کے بعد جب سرمد کا ہسپتال میں داخلہ ہوگیا تو میرے بیٹوں نے مجھے زبردستی گھر بھیج دیا کیونکہ میری حالت بالکل ویسی ہورہی تھی کہ جیسے سرکار کی جانب سے تقریر کرنے پہ پابندی کے قبض کے بعد آجکل الطاف حسین کی ہے ۔۔۔۔ اب میں پون گھنٹہ آرام کرنے کے بعد یہ پوسٹ لکھ پا رہا ہوں - میرا یہ دوسرا بیٹا جس کا پورا نام سید سرمد جاہ عارف ہے ، بہت نڈر اور اپنے نام میں لفظ جاہ کی نسبت سے بہت 'چُوزی' ہے اور حالات کیسے بھی ہوں ہمیشہ بڑے کلے ٹھلے سے رہنا پسند کرتا ہے،البتہ مزاج کا ذرا ٹیڑھا ہے ( حآلانکہ پبلک ڈیلنگ اور مارکٰیٹنگ کے عمل میں نہایت 'آرٹی کرافٹی' ہے ) اور گھر میں اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے بہت ہی کم بات کرتا ہے ،،، (حالانکہ یہ سہولت ابتک ٹیکس ایبل نہیں ہوئی) -
قارئین سے التماس کہ مجھے اپنئے اس 'اکھرے پتر' سرمد کے لیئے دو طرح کی دعائیں مطلوب ہیں ۔۔۔
1- خدا کرے وہ جلد از جلد مکمل صحتیاب ہوجائے کیونکہ اسکی آنتوں میں شدید درد اٹھنے اور ہسپتال جانے کا مرحلہ ہر چند مہینے بعد آجاتا ہے لیکن اس بار فرق یہ ہے ک اسے بہت بخار بھی ہے اور جوڑوں میں شدید درد بھی ہے اور مزید یہ کہ رہ رہ کے زبردست الٹیاں آرہی ہیں
2- وہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ اپنے رویئے کو بہتر کرے --- آمین ثمہ آمین

ڈاکٹر سے ملاقات

گزشتہ ہفتے میں لگ بھگ دس بارہ برس کے بعد بیمار ہوا ہوں ۔۔۔ کچھ نزلے کا وفور ہے جو ابھی تک کسی پہ گرا نہیں ہے اور کسی حد تک پیٹ کی گڑ بڑ کا بھی معاملہ ہے گویا 'ہرطرف' سے مسلسل مصروف ہوں کبھی کبھی اخلاقاً... اٹھتے ٹھسکے کو نہایت محتاط انداز میں کھانسی میں بدل کے ماحول کو کافی ترس انگیز بنادیتا ہوں محتاط اس لیئے کہ یہ رسک ضرور رہتا ہے کہ اسہال کے جھٹکے سے کہیں بیٹھے بٹھائے ایک شعر پوری غزل نہ بن جائے ۔۔۔۔ میں دوڈھائی دن اہلخانہ کو ٹالتا رہا کہ بقول بیگم اس شعبے میں میرا مقابل نہیں دور تک بلکہ بڑی دور تک ،،، لیکن پھر بھی بڑا بیٹا سواری پہ کھینچ اور لاد کےایک کلینیک یوں لے گیا جیسے منڈی سے قربانی کی بچھیا ،،، ڈاکٹر صاحب پرانے واقف ہیں کیونکہ برسوں پہلے بچوں کو وہیں لے جاتا رہا ہوں ،،، لیکن اب چونکہ وہ بڑے ہوگئے ہیں چنانچہ اب حسب دلخواہ ڈاکٹر کو کئی کئی دنوں تک فیض پہنچاتے ہیں - میں اس لیئے بھی چلا گیا کیونکہ خدا نخواستہ کہیں ہم جیسے کچھ لوگ ڈاکٹروں سے ایسا گریز کرکے انجیئروں کی طرح انکے مستقبل کو بھی مخدوش کرنے کا سبب نہ بن جائیں اور انکے بھی رشتے نہ آنے پہ ہم انکی دلآزاری کا باعث نہ بن جائیں
کلینک پہنچے تو دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب اس دوران بہت دیندار ہوگئے ہیں لیکن پھر بھی اپنی ِفیس سے وہ یہ رازہرگز کھلنے نہیں دیتے تاہم اس تقدسی تعارف کے لیئے انہوں نے بہت بڑی براق سرسیدی داڑھی رکھ لی ہے --- سر کو البتہ کلر لگاتے ہیں یوں سارے امکان جمالیات کو تہس نہس ہونے سے بچاتے ہیں - مجھے دیکھا تو بانچھیں کھل گئیں ،،، آخاہ اتنے برس کہاں رہے بھائی ؟؟ ،،، میں نے کہا تاکہ آپکو داڑھی رکھنے کا موقع مل سکے ورنہ شاید ہم جیسی صحبت والوں کا اثر یہ نیک کام نہ ہونے دیتا ،، کہنے لگے آپکے بچے بھی نہیں آتے ،،، میں کہا کہ بڑے ہوگئے ہیں سمجھدار ہوگئے ہیں اس پہ انکو فوراً ہی بلی کی طرح کی منی سی چھینک آگئی لیکن وہ کافی دیر اپنی ناک بھنبھوڑتے رہے ، میں نے البتہ چیک اپ کے دوران انکی ریش دراز پہ نظر جماکے یہ وضاحت ضرور چاہی کہ " آج کل بھی آپ صرف نسخے ہی لکھتے ہیں یا تعویز بھی ،،،، اس پہ انہوں نے ہڑبڑا کر گھڑی دیکھنا اور اسے کان کے قریب لا لاکے جھٹکے دینے شروع کردیئے
ذرا ہی دیرمیں انکے طبی سوال جواب کا سیشن شروع ہوگیا ۔۔۔ مجھ سے پوچھا "کیا ہوتا ہے " میں نے عرض کی دونوں طرف سے کچھ کچھ ہوتا ہے بلکہ کبھی کبھی تو مسلسل ہوتا ہی رہتا ہے ،،، اور اس وقت یوں چکر آرہے جیسے میں کسی کے چکر میں ہوں یا جے آئی ٹی کے سامنے بیٹھا ہوں ،،، گلا ملکی معیشت کی مانند بیٹھا ہوا ہے۔۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ میں گفتار کا غازی ہوں‌ ایسے میں گلے کا سخت دکھنا کسی المیئے سے کم نہیں ۔۔۔ لگتا ہے کہ میرے مبینہ مزاح گو گلے کو دبانے کے لیئے حریفوں کا داؤ نہ چلا تو انکی بددعا چل گئی ،،،
پھر ڈاکٹر صاحب نے دریافت کیا کہ : کیا بخار بھی ہوتا ہے ،، منہ لٹکا کے عرض کیا کہ ،، بس یہی تو گلہ ہے کہ ہمارا بخار کبھی اس اونچے درجے میں نہیں پہنچا کہ سینا تان کے بتا سکیں یا بہت سرسامی کیفیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جی بھر کے اول فول بکنے کی رعایت مل سکے اور پرانی بھڑاسیں ہی نکال پائیں ،،، اس ایک سو ایک بخار کو آج کل بھلا پوچھتا کون ہے ،،،، پھر رہتا بھی وقفوں میں ہے ،،،
وقفوں میں ۔۔۔؟ ڈآکٹر صآحب چونکے اور دو دفہ بڑبڑائے وقفہ ،، یعنی کہ وقفہ
جی جی کیا اس میں بھی وقفہ ضروری ہے ۔۔۔ معاً خدشہ ہوا کہ کہیں بات سبزستارہ کی گولیوں تک تو نہیں پہنچنے والی ۔۔۔ وضاحت کی کہ وقفے کی دواؤں کا وقت کبھی کا گزر گیا اور عاجزی سے التماس کیا کہ بس باری کے بخار کی دوا ہی دیدیں کافی ہے ،،، یہ سنتے ہی ڈاکٹر صآحب نے دفعتا" اپنی سیٹ چھوڑدی ،،، مجھے لگا کسی کھٹمل کی کارستانی ہے اور انکا کوئی نازک مقام سخت خطرے میں ہے ،،، کہنے لگے آئیئے آپ ادھر میری کرسی پہ بیٹھ جائیئے اور جب خود ہی خود دوا لکھنی ہے تو تجویز کرلیجیئے سامنے لگے پوسٹروں میں سے جو بھی دوا اپنے لیئے مناسب سمجھیں ،،، بس نیچے والا پوسٹر رہنے دیں وہ 'ایام' کی خرابی سے متعلق ہے ،،، میرا منہ ہمیشہ سے بہت زیادہ نہیں کھلتا لیکن اس بارمنہ کھول کے ہنسنے لگا اور اس وقت میرا منہ خودبخود اتنا زیادہ کھلا کہ اصلی بتیسی بھی اتنی باہر آگئی کہ مصنوعی معلوم ہونے لگی
جب وہ پھر سے اپنی کرسی پہ بیٹھ گئے تو انہیں میں نے انہیں مزید یہ بتانا ضروری سمجھا کہ دراصل مجھے پرسوں ڈریم ورلڈ کی جمالیاتی فضا میں بھی سوئمنگ پول میں نہانے یعنی پانی میں چھبڑ چھبڑ کرنے کا قطعی موقع نہ ملا اورعید ملن کے نام پہ محض ادبی سی و نیم بزرگانہ سی محفل منعقد ہوئی تو میں بس شدید جھلاہٹ میں انتقاماً بہت زیادہ کھا گیا ،،، ویسے بھی اگر کہیں متعدد ڈشیں سامنے ہوں تو میرے اندر کا منصف جاگ اٹھتا ہے اور سب سے انصاف کرنے کو میں اپنے اوپر لازم کرلیتا ہوں ،،، پھر بیگم سا جید محتسب بھی دور دور تک موجود نہ ہو تو پھر اندھا کیا چاہے دو آنکھیں‌ ،،، کہنے لگے یہ غلظ محاورا بول دیا آپنے۔۔! ،،، میں نے پوچھا صحیح کیا ہے ،،؟ فرمایا : دے مار ساڑھے چار ۔۔۔
چیک اپ تمام ہوا تو صورتحال بہت مایوس کن نکلی ۔۔۔ ساری ضرر رسانی صرف اسہال اور چیسٹ انفیکشن کے سر منڈھ دی گئی ،،، لگتا تھا کہ خود ڈاکٹر صاحب کو بھی اس کھودا پہاڑ نکلا چوہا جیسی صورتحال پہ بالکل مزا نہیں آیا کیونکہ اب تو بات محض دو چار دن کی دوا تک ہی محدود رہ جانی تھی ،،جبکہ انہیں باتوں باتوں میں پتا چل گیا تھا کہ ابھی دو روز پہلے ہی ہمیں تنخواہ ملی ہے ،، پھر بھی اپنی اور انکی ڈھارس بندھانے کے لیئے ہم نے ذرا لہرا کے کہا کہ " بھئی ہم اس قلیل تشخیص کی تاب بھلا کیسے لاسکیں گے اوراحباب اور گھر والی کو کیا منہ دکھائینگے ،،،؟؟
ڈاکٹر صاحب پہلی بار متبسم ہوئے اور کھلھلا کے بولے " بھائی بس یہی منہ دکھائیں آخر آپکے ممکنہ پسماندگان اور احباب نے پچپن چھپن برس تو آپکو اسی منہ کے ساتھ بھگت ہی لیا ہے نا ۔۔۔

سندھ سیکریٹریٹ ۔۔۔ شہر میں شہروالے اجنبی

جن لوگوں کو تعصب ، نفرت اور نسل پرستی کو اپنی بھیانک ترین شکل میں دیکھنا ہو تو وہ کبھی ذرا کراچی کے قلب یعنی برنس روڈ پہ واقع سندھ کی صوبائی حکومت کے دفتری کمپلیکس یعنی سندھ سیکریٹرییٹ کا چکر لگالیں اور اپنی آنکھوں سے خود ملاحظہ کرلیں کہ یہاں اردو بولنے والے اور سرائیکی ، پشتون اور پنجابیوں کا تناسب کس قدر افسوسناک ہے جوکہ درحقیقت آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے ،،، شہر کی اکثریتی آبادی کے بیچوں بیچ بنے اس سیکریٹریٹ میں آپ یہاں سے وہاں گھوم جائیئے اگر یہ احساس نہ ہوکہ آپ کسی اجنبی علاقے میں موجود ہیں تو آپکی جوتی میرا سر ،،، اسے دیکھ کے ایم کیوایم کی بےحمیتی اور بے حسی کی جو بھرپور تصویر آنکھوں میں ابھرتی ہے اسکے بعد الطافی چیلوں کی 35 سالہ 'حق پرستی' کی اصلیت کو سمجھنے کے لیئے کسی اور دلیل کی ضرورت ہی نہیں رہتی ،،، درحقیقت ایم کیوایم کے رہنما اس تمام طویل عرصے میں ( جن میں اسکے سب گروپ شامل ہیں کیونکہ انہوں نے 35 میں سے 33 برس ساتھ گزارے ہیں ) اپنے ذاتی مفادات کیلیئے اپنے ووٹروں کے معاشی مفادات کو قربان کرکے اپنی ذاتی تجوریاں بھرتے رہے اور لالو کھیت گوالیمار اور نیوکراچی کے کوارٹر چھوڑ کے ڈیفنس کلفٹن اور گلشن اقبال شفٹ ہوتے رہے -بابر غوری سارا شہر لوٹ کے کھاگیا اور آج فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال گروپ بھی یہ دہائیاں دیتے سنائی دیتے ہیں ، لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ جب بابر غوری کی یہ شرمناک لوٹ مار جاری تھی تب آپ کہاں تھے اور کیوں چپ تھے ،صاف ظاہر ہے کہ وہ ان جرائم میں برابر کے حصے دار تھے ،، لوٹ کھسوٹ کی نوبت تو یہ آئی کہ دو پٹی کی چپل پہننے سے زیادہ حیثیت نہ رکھنے والے کارکنان بھی اب کروڑ پتی بلڈر بنے گھومتے ہیں
لیکن جہانتک مسئلہ ہے اس شہر میں روزگار کے بحران کا تو ضرورت اس امر کی ہے کہ اب سندھ کا شہری طبقہ ،متحد ہوجائے اور نہ صرف اس کوٹہ سٹم کو اٹھا کے نیٹی جیٹی میں پھینک دے بلکہ اسکے نفاز سے ابتک شہری سندھ کی ملازمتوں میں جو جو زیادتیاں اس کے ساتھ روا رکھی گئی ہیں ان سب کا پورا پورا ازالہ کیا جائے ،،، فوج کوبھی اچھی طرح سمجھ لینا چاہیئے کہ اب دوسراگڑھا کھود کے پہلے والے گڑھےکی مٹی کو اس میں سمونے کی پالیسی مکمل ناکام ہوچکی ، سیاسی روبوٹوں سے وقتی طور پہ تعمیل ارشاد کراکے اصل مسائل کو ٹالا تو جاسکتا ہے لیکن ختم ہرگزنہیں کیا جاسکتا اور یہ مسائل دراصل کیا ہیں انکو برسر زمین حقائق کی روشنی میں دیکھنے اور دکھانے کی ضرورت ہے- میں پہلے بھی کہتا رہا ہوں اور اب پھر عرض کرتا ہوں کہ اچھی طرح سے سن لیجیئے ،،، کراچی کا اصل مسئلہ روزگار کا ہے اور ملک کے اس سب سے بڑے تعلیمی تناسب والے شہر میں روزگار نہ دیئے جانے کے باعث جرائم کی فصل کاشت بیروزگاری کی زمین میں بھرپور طور پہ لہلہا رہی ہے ،،، افسوس اور شرم کی بات یہ ہے کہ یہاں سے ووٹ لینے کی متمنی بزدل اور مکار سیاسی جماعتوں کی ہمت ہی نہیں کہ وہ اہل شہر کے پیٹ پہ پڑنے والی طویل مدتی لات کے خلاف بات کرسکیں کیونکہ وہ اندرون سندھ کو ناراض کرنے کا ارادہ نہیں رکھتیں اور کراچی و شہری سندھ والوں کو بیوقوف بنانے کے لیئے لوڈ شیڈنگ اور پانی کو مسئلہ نمبر ایک بتاکے اصل حقیقت سے توجہ ہٹانے کی کوششیں کررہی ہیں
لیکن سچ تو یہ ہے کہ ان سیاسی جماعتوں کی یہ مکاری اور حقائق کو بدل کے دکھانے کی عیاریاں اس معاملے کو اور گھمبیر تر کرتی جارہی ہیں کیونکہ یہاں ہر گھر میں کئی کئی تعلیمیافتہ نوجوان ڈگریاں لیئے بیروزگار بیٹھے ہوئے ہیں کہ جن پہ سرکاری ملازمتوں کے دروازے عملا" بند ہیں اور متعصب صوبائی بیوروکریسی شہری کوٹے پہ بھی 'مخصوص' لوگوں کو ہی ملازمتیں دیئے چلی جارہی ہے ،،،اس میں کیا شک ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف فوج اگر آپریشن 'ردالفساد ' کررہی ہے تو44 برس سے سندھ کی متعصب اشرافیہ شہری طبقے کیلیئے آپریشن ' رد الروزگار' جاری رکھے ہوئے ہے،،، یہ صورتحال اب مزید جاری نہیں رہنی چاہیئے ورنہ غصے اور احتجاج کا ایسا لاوا پھوٹ بہے گا کہ اپنی زد میں آنے والی ہر شے کو بہا کر لے جائے گا،،، میں سندھ کی متعصب حکومت اور بیوروکریسی کو یہ باور کرادینا چاہتا ہوں کہ اب بھی وقت ہے کہ آنکھیں کھول لیں ،،، اگر ہوش کے ناخن نہ لیئے گئے تو بہت کچھ بگڑجائےگا اور گھناؤنی نسل پرستی کے اطوار اب بھی نہ بدلے تو پھربلاشبہ سندھ کا جغرافیہ ہی بدل جائےگا -
میں یہاں پاک فوج سے ملتمس ہوں کہ اس ضمن میں‌ وہ اصلاح احوال کے لیئے اپنا مطلوبہ بھرپور کردار ادا کرے اوراب وہ اس سے زیادہ دیر پہلو تہی نہ کرے کیونکہ اس شہر میں حقیقی امن کے قیام کے لیئےاسے اس پڑھے لکھے شہر والوں کے بھوک سے جلتے پیٹوں کو روزگار دلواکے ٹھنڈا کرنا ہوگا تبھی وہ دہشتگردوں کی بات پہ کان نہیں دھریں گے ،،، اسکے لیئے فوج کو دیر نہیں کرنی چاہیئے اور آگے بڑھ کے حقائق کو خود سمجھنا ہوگا اور 44 برس کا تفصیلی حساب کتاب کرواکے ہر زیادتی کا ازالہ کروانا ہوگا ورنہ بہت دیر ہوجائےگی اور وہ ہو رہے گا کہ جس کا تصور بھی لرزا دینے کے لیئے کافی ہے
arifm30@gmail.coM

آخر عمران خان جیو و جنگ کوعدالت میں کیوں نہیں لے جاتے،،،؟؟

ملک کا سب سے بڑا میڈیا ھاؤس جنگ اور جیو گروپ ایک بار پھر عمران خان کے سنگین الزامات کی زد میں ہے اور یہ الزامات سچے ہیں یا جھوٹے ، انکے لیئے حسب سابق گزشتہ دو بائیکاٹوں کی مانند اس بار بھی کوئی ثبوت اور شہادت دینے کی زحمت ہی نہیں کی گئی ہے جبکہ پہلے کی طرح اب بھی یہ گروپ ان سے نہ‌ صرف انکے الزامات کا ثبوت طلب کررہا ہے بلکہ وہ خود یا انکے نمائندے کو آمنے سامنے بیٹھ کر مباحثہ و مناظرہ کرنے کی کھلی دعوت بھی دے رہا ہے،حتیٰ کہ انہیں ان بنیادوں‌ پہ کئی باراسی سپریم کورٹ میں کیس کرنے کا کا کھلا چیلنج بھی دے چکا ہے کہ جس پہ وہ آجکل متعدد بار مکمل اعتماد کا بار بار اظہار کرتے سنے جاتے ہیں ، لیکن خانصاحب پہلے بھی میڈیا کے میدان میں نہ خود اترے تھے اور نہ ہی اپنے کسی دوسری یا تیسری سطح کے نمائندے کو میدان میں اتارسکے تھے اورنہ ہی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا اور یوں جس سے بلاشبہ اس میڈیا ھاؤس کوسب کے سامنے دوٹوک زبردست اخلاقی فتح نصیب ہوئی تھی- جہاں تک انکے ان خیالات کا تعلق ہے کہ یہ ادارہ انکے خلاف ہے اور نون لیگ کا ہمنوا ہے تو وہ یہ روشن حقیقت کیوں بھول جاتے ہیں کہ پاناما لیکس کے معملات کو طشت از بام کرنے کا کام اسی گروپ کے ایک صحافی احمد نورانی نے کیا تھا کہ جس سے انہیں نون لیگ کے خلاف ہرسطح پہ زبردست مہم چلانے کا ہتھیار ہاتھ آگیا اور انکے فوت ہوتی سیاسی مردے میں نئی جان پڑگئی ۔۔۔ ورنہ طویل ناکام دھرنوں اور لانگ مارچ کے بعد تو انکی سیاست کی نیا راول ڈیم میں ڈوب چلی تھی اور کنٹینر سے اترنے کے بعد انہیں نشریاتی ادارں نے بھی نظروں سے اتار دیا تھا اور سنجیدہ لینا بالکل ہی ترک کردیا تھا
لیکن خانصاحب بیچارے کریں بھی تو کیا کریں ، وہ کانوں کے بھی کچے ہیں اور جسمانی کیمسٹری بھی بڑی منفرد قسم کی پائی ہے کیونکہ عجیب بات یہ ہے کہ انکے کوئی اور غدود کام کریں نہ کریں انکی عجیب و غریب ناراضگی کے 'شرمندگی پروف غدود' ہمہ وقت سرگرم رہتے ہیں اور اسی سبب انہیں بھڑکانے والے بھی روٹی روزی سے لگے رہتے ہیں کیونکہ ان بیچاروں کے پاس اور ایسا کوئی ٹیلنٹ ہے بھی نہیں کہ جسکے بل پہ وہ بنی گالر کے لنگر کا حصہ رہ سکیں ،،، اور پھر بلآخر ان لنگریوں کی اکساہٹ میں آجانے کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ بڑے بڑے الزامی پہاڑوں کو کھودنے کے بعد انہیں ہربار اسٹینڈرڈ سائز سے بھی چھوٹا سا مریل اور مرا ہوا چوہا ہی ہاتھ لگتا ہے ۔۔۔ ایک بڑے بلکہ بہت بڑے میڈیا ھاؤس سے بار بار اور بے ثبوت لڑبیٹھنے کی ایک وجہ یہ بھی کہہے وہ چھوٹے موٹے اہداف پہ یقین ہی نہیں رکھتے ،،، تاہم دھول میں کافی لٹھ چلانے اور سانسیں پھلا چکنے کے بعد اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہونے کے بعد انہیں ہیں اس بے فیض بائیکاٹ سے ہونے والے نقدا نقد خسارے کابھرپور اندازہ ہونے لگتا ہے اور پھر وہ چپکے سے کسی بھی وقت خودبخود اپنے اس بائیکاٹ کا ہی بائیکاٹ کرڈالتے ہیں اور پھر جب اس بائیکاٹ کا کوئی بڑا اثر پڑتا نہیں محسوس کرتے تو ادنیٰ سی خفت ظاہر کیئے وہ پھر ایک دن چپکے سے بغیر معافی مانگے اس گروپ کی اسکرین پہ یکایک جلوہ گربھی ہوجاتے ہیں یہ بالکل اسی طرح کی بات ہے کہ جیسے انہوں نے عوم سے حکومت کو ٹیکسوں اور بجلی و یدیگر یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگیوں کے بائیاٹ کی اپیل کی تھی لیکن عوام تو کیا خود انکے دائیں بائیں جکھڑے شاہ کن انکی اس طرح کی عجیب و غریب کہ مکرنیوں اور قلابازیوں سے انہیں تو کوئی فرق نہ بھی پڑے لیکن انکے مداحوں میں سے اکثر کو اپنی بغلیں جھانکنے کے سوا اور کوئی راہ نہیں سوجھتی کیونکہ گزشتہ چند روز پہلے تک تو وہ سوشل میڈیا پہ اپنے چیئرمین کی شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کرتے ہوئے اسی مغضوب چینل کے خوب بخیئے ادھیڑنے کی مہم میں جتے رہے ہوتے ہیں اور پھر انہیں یکایک اس طرح کے یو ٹرن پہ انہیں بھی ریورس گیئر لگاکے اس فیصلے کے لیئے بھی چیئرمین کی بے پایاں بصیرت کی تعریفوں کےلیئےتحقیق کرنے اور بڑی مشقت سے داد کے ڈونگرے برسانے کا اضافی کام نکل آتا ہے
ان دنوں خان صاحب حسب عادت ایک بار پھرپرانے بلکہ نہایت باسی و بوسیدہ سے الزامات کی زنبیل اٹھائے کھڑے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلے کی مانند اس بار بھی اس بارے میں انکی زنبیل ٹھوس حقائق اور مستند ثبوتوں سے یکسر خالی ہے،، لیکن اسکی پرواہ نہ انہیں پہلے کبھی رہی ہے اور نہ ہی اب ہے کیونکہ وہ تو صرف بے تکان الزام لگانے پہ یقین رکھتے ہیں ۔۔۔ لیکن اگر جواباً دوسرا فریق عدالت پہنچ جائے اور انکے خلاف ازالہء حیثیت عرفی کا مقدمہ ٹھونک دے تو پہلے تو وہ اسکی سماعتوں‌ ہی کو تاخیر کا شکار کرنے ور لمبا لٹکانے کی حکمت عملی اپناتے ہیں لیکن پھر اپنے بیان پہ ادنیٰ سی ندامت کا اظہار کیئے بغیر وہ اسے 'سیاسی' نوعیت کا بیان قرر دے کر جان چھڑانے لگتے ہیں جیسا کہ سابق چیف جسٹس کی جانب سے کیئے گئے کئی ارب روپے زرتلافی کے مقدمے میں انہوں نے کیا اور اسی سے ملتا جلتا طرز عمل نجم سیٹھی کے خلاف مشہور زمانہ 35 پنکچر لگانے کی سازش کرنے کے انکے بیان پہ اختیار کیا گیا اور ضمیر کی ادنیٰ سی چبھن کے بغیر انہوں نے یو ٹرن لے کر اسے بھی سیاسی بیان کا نام دیدیا یعنی وہ باالفاظ دیگر یہ اقرار کرتے ہیں کہ وہ سیاست میں جھوٹ اور فریب کو نہ صرف روا رکھتے ہیں بلکہ اسے ایک حکمت عملی کے طور پہ بار بار برتنے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کرتے-
انکا یہ افسوسناک یک رخا الزامی طرز عمل بلکل صآف پکڑائی دے رہا ہے کہ شعوری یا لاشعوری طور پہ وہ اندر سے الطاف حسین کےزبردست معتقد ہیں اور انہی کی طرح کے مافیائی ہتھکنڈوں پہ یقین رکھتے ہیں اور جس طرح الزامات کے ثبوت دینا اور دلیل سے بات کرنا یا دلیل کا سامنا کرنا الطاف حسین کے بس کی بات نہیں عین اسی طرح کی ذہنیت عمران خان کی بھی ہے - لیکن وہ بھول رہے ہیں کہ اب عوام کا سیاسی شعور بہت بیدار ہے اور وہ بڑی حیرت سے یہ سب منظر دیکھ رہے ہیں کہ ایک فریق انہیں برسرعام چیلنج دے رہا ہے کہ یا تو وہ اپنے الزامات کو لیکر اس گروپ کے خلاف عدالت سے رجوع کریں یا پھر مباحثے و مناظرے کے لیئے تیار ہوجائیں ،، لاریب ، یہ صورتحال اس گروپ کو لڑے بغیر ہی فاتح بنا رہی ہے اور اس پہ خان کی پراسرار خاموشی اور لیت لعل کو عوام اگر عمران خان کی دروغ گوئی فریب کاری اور شرمناک پسپائی سے تعبیر نہ کریں تو اور کیا کریں ۔۔۔؟؟؟

فرد مرجاتا ہے مگر کردار زندہ رہتا ہے

میاں نواز شریف صاحب ،،،
ویسے توعدلیہ کی چٹان سے ٹکرا کر آپکی کشتیء اقتدار کا مستول بھی ڈھ گیا ہے ، تختے بھی ٹو ٹ چلے ہیں‌اور چپو بھی شکستہ ہوکے ناکارہ ہوگئے ہیں لیکن آپ اگر چاہیں تو اب بھی یہ نیا کنارے لگ سکتی ہے اور آپکی خود کھوئی ہوئی عزت کسی نہ کسی حد تک بحال ہوسکتی ہے اور آپ تاریخ میں کچھ نہ کچھ عزت پاسکتے ہیں اور وہ اس طرح کہ اپنا ڈوبتا اقتدار بچانے کے لیئے مزید ہاتھ پاؤں مارنے اور چالاکیاں کرنے کے بجائے دوچار روز ہی میں جلدی جلدی یہ چند اہم نیک کام کریں اوراقتدار چھوڑدیں
اور وہ یہ کہ
فوری طور پہ اپنی اور اولادوں‌کی آف شور کمپنیاں بند کرنے اور انکا سرمایا پاکستان میں منتقل کرنے کا بھی اعلان کریں اور جس جس پیسے کو ثابت نہ کرسکیں اس سے بھی دستبرداری اختیار کرنے کا اعلان کردیں اور اگر آپ کی اولاد اس فیصلے کو ماننے سے انکار کردے تو ملک و قوم کی خاطر اس سے علیحدگی اختیار کرنے کا بھی برملا اعلان کردیں
دوسرا اہم کام یہ کریں‌ کہ قوم سے کیئے ہوئے اپنے وعدے کے مطابق زرداری کا پیٹ پھاڑ کے اس میں بھری لوٹ مار کی دولت قومی خزانے میں جمع کرانےکا ہنگامی انتظام کریں ، اور اس کاذب نے اور اسکی شریک جرم بیگم بینظیر نے قومی اسمبلی میں آن دی فلور جو یہ اعلان کیا تھا کہ ہمارا سرے محل سے کوئی تعلق نہیں لیکن پھر بعد میں اقتدار ملتے ہی سرے محل کو برطانیہ سے علی الاعلان اپنی جائیداد کے طور پہ قبضے میں لے کے فروخت کرکے رقم اپنے اکاؤنٹ میں ڈال لی تھی تو اس بنیاد پہ اسکی اور اسکے ساتھ منسلک بالغ اہل خانہ کی نااہلی کا ریفرنس فوری طور پہ اسپیکر کے ذریعے الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کو ارسال کردیں
تیسرا اہم کام یہ کریں کہ اعلان کردیں کہ اب ملک کی سیاست صرف ملک میں رہ کر ہی کی جاسکے گی اور کسی ایسی جماعت کو ملک میں کسی بھی نام سے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ جو ایسے کسی شخص یا اشخاص کو اپنا قائد مانتی ہو کہ جو حکومت کے نکالے بغیر اپنی مرضٰ سے جلا وطن ہوکے ملک سے باہر براجمان ہو
چوتھا کام یہ کریں کہ سخت ترین احتسابی ایکٹ بناکے سپریم کورٹ کے توسط سے ایک عملدرآمد کمیشن بنانے کا اہتمام کردیں ،،
پانچواں کام یہ کریں‌ کہ مولانا فضل الرحمان سے گزشتہ دو عشروں سے جاری کشمیر کمیٹی کی سربراہی کے نتائج کا مواخذہ کرنے کیلیئے بھی کمیشن بنادیں اور اسکی رپورٹ آنے پہ قوم خود ہی ان سے نپٹ لے گی
چھٹا کام یہ کریں کہ قوم کی بیٹیوں عافیہ صدیقی اور ٹیریان نیازی کو انکا اعتبار اور وقار لوٹاکے وطن میں لائیں ،،،
یاد رکھیں میاں صآحب جتنی بھی چالاکیاں کرلیں آگے تو جانا میانی صاحب ہی ہے اور یہ بھی نہ بھولیں کہ آپ خواہ جتنے بھی مکر کرلیں لیکن 'خیرالماکرین' کے آگے کوئی مکر اور کوئی فریب نہیں چل سکے گا۔۔ یہ کام سننے میں بڑے ضرور لگ رہے ہیں لیکن محض صبح سے شام تک چند فائلوں‌ پہ نوٹ لکھوانے اور دستخط کرنے کی مار ہیں ،،، ورنہ یہ منظر نامہ بھی دور نہیں کہ قوم کے ہاتھوں میں جوتے اور پتھر ہونگے اور جاتی امراء کی سامنے والی سڑک پہ ایک بڑا تماشا لگا ہوگا ،،، کیا خیال ہے دوستو ،،،

عوام نے الطاف کی الیکشن بائیکاٹ کی اپیل کا ہی بائیکاٹ کرڈالا ،،،؟؟

ایک اخباری اطلاع کے مطابق 25 برس سے لندن میں بیٹھے قوم کا غم اور مفت کے شیرمال کھاتے گرو گھنٹال الطاف حسین اس امر پہ بہت خوش ہیں کہ پی ایس 114 میں فاروق ستار کا امیدوار کامیاب نہیں ہوسکا ہے جبکہ درحقیقت انکی یہ خوشی خود ہی کو بیوقوف بنانے سے زیادہ کچھ نہیں اور خود ہی کو بیوقوف بنانے کاعمل تو سراسر بیوقوفی کا بھی آخری درجہ ہے ،،، ۔۔۔ کون نہیں جانتا کہ اس حلقے میں‌ تو اپنے دور عروج میں بھی ایک بار کے علاوہ متحدہ ہمیشہ دوسرے نمبر پہ ہی آتی رہی ہے تو اب اس دور زوال میں وہ بھلا کیا خاک اونچا تیر مارلیتی ،،، اور متحدہ کو اپنے پر بہار دور میں ملی اس ایک بار کی کامیابی کی بھی اک عجب داستان ہے کہ جب یہاں سے رؤف صدیقی معمولی فرق سے کامیاب ہوئے تھے کیونکہ یہ جیت بھی صرف اس وقت ہی ممکن ہوسکی تھی کہ جب اپنی تنظیمی دہشت اور اثرورسوخ سے فائدہ اٹھاکے متحدہ نے اس حلقے کی 'من پسند' حد بندی کرادی تھی اور جسے بعد میں شدید عوامی احجتجاج پہ واپس لینا پڑا تھا ،،، ممکن ہے کہ الطاف حسین کا یہ تازہ اظہار مسرت اپنی اس خفت و شرمندگی چھپانے کے لیئے ہو کہ 25 برس سے لندن بیٹھے ڈوریاں ہلاکے کراچی میں سب کنٹرول میں رکھنے کے عادی الطاف حسین کی سیاسی حیثیت کو بلاشبہ پہلی بار نہایت سخت اور بہت بڑا دھچکا لگا ہے کیونکہ اس نو جولائی کو منعقدہ ضمنی الیکشن میں اس حلقے کے عوام نے انکی ایک التجاء نہیں سنی اور انکی جانب سے بھکاریوں کے سے انداز میں اس الیکشن کے بائیکاٹ کی گڑا گڑا کے کی جانے والی کئی کئی اپیلوں کے باوجود فاروق ستار والی متحدہ کے امیدوار کامران ٹیسوری کو 18 ہزار سے زائد ووٹ پڑ گئے اور وہ دوسرے نمبر پہ رہے
فاروق ستار کے امیدوار کی دوسرے نمبر کی پوزیشن حاصل کرلینا یقینناً اس لیئے بھی غیرمعمولی بات ہے کہ اسکے مقابل وہ حکومتی امیدوار تھا یعنی سینیٹر سعید غنی ، کہ جس کا تعلق پی پی پی کی خلاف روایت اسی حلقے سے ہی ہے اور اس علاقے میں بلوچوں‌ اور سندھیوں کے گوٹھوں‌ کی بڑی آبادیوں کے باعث پی پی پی کا قدیمی مضبوط ووٹ بینک ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور یہی نہیں بلکہ یہاں سابق ایم پی اے اور اس حلقے کے دیرینہ سیاسی ہیوی ویٹ عرفان اللہ مرؤت کا حمایت کردہ نون لیگی امیدواراکبر گجر بھی خم ٹھونکے میدان میں‌ کھڑا تھا اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء نجیب ہارون بھی مقابلے کی دوڑ میں شامل تھے اور اور تو اور اس بار تو جماعت اسلامی نے بھی کے الیکٹرک کے خلاف اپنی حالیہ مہم کے بل پہ عومی پزیرائی کے نجانے کتنے خوش آئند سپنے دیکھ لیئے ہوئے تھے اس لیئے اگر یہ کہا جائے کہ پی ایس 114 کے ضمنی انتخابات کے نتائج کچھ اعتبار سے غیرمعمولی اثرات کے حامل ثابت ہوئے ہیں تو ہرگزبیجا نہ ہوگا ،،، اگرچہ تازہ صورتحال کے مطابق ایم کیوایم پاکستان نے اس نتیجے کو بوگس قرار دے کر الیکشن کمیشن سے ووٹوں‌کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کردیا ہے لیکن یہ یقینناً ان معروف سیاسی حربوں میں‌ سے ایک ہے کہ جو اکثر سیاسی جماعتیں خود کو خبروں میں‌ان رکھنے اور اپنے کارکنوں کی ڈھارس بندھائے رکھنے کی ضمن میں مجرب باور کرتی ہیں ،، ویسے بھی اس علاقے میں اردو بولنے والی آبادی اکثریت میں نہیں ہے اور ایم کیوایم کی حرکتوں سے بیزاری کے اظہار کے طور پہ دیگر لسانی اکائیاں یہاں‌ بسنے والے قدیمی بلوچوں اور ہزارہ وال کے ساتھ کھڑی ہوجاتی ہیں
اس سےچند ہی روز قبل دو الگ الگ سمتوں سے اندرونی بغاوت کا سامنا کرتے الطاف حسین نے اردو اسپیکنگ طبقے کو بھڑکانے کے لیئے ایک شدید اشتعال انگیز و نہایت جذباتی ویڈیو بیان بھی جاری کیا تھا کہ جس میں فاروق ستار کو غدار قرار دیتے ہوئے ان کو نہایت غلیظ گالیوں سے نوازا تھا اور پی ایس پی بنالینے والے سابق میئر مصطفیٰ کمال پہ کیئے گئے اپنے احسانات گنواتے ہوئے انہیں احسان فراموش ٹہرایا تھا اور کافی کچھ خوش بیانی کی گئی تھی- یہاں یہ واضح رہے کہ ابتداء میں فاروق ستار اور انکے ساتھیوں نے الطاف حسین سے مکمل بغاوت نہیں کی تھی بلکہ بڑی تباہی سے بچنے کے لیئے مصالحت کی راہ اپنائی تھی اور الطاف حسین کی تقریر سے لاتعلقی کا اظہار کرنے کے باوجود انکی شان میں کسی بھی 'گستاخی' سے یکسر اجتناب کیا تھا اور یوں الطاف حسین کے حامیوں کو اپنی مٹھی سے پھسلنے سے روکنے میں بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل کی تھی کیونکہ وہ اسے ایم کیوایم کی طاقت کی اصل بنیاد اور اساس باور کرتے تھے ،،، لیکن جلد ہی الطاف حسین نے اسے اپنی جڑیں کاٹنے کی سازش باور کرتے ہوئے اپنے ہمنوا لوگوں کو ان سے فاصلے پہ رہنے کا ہدایت نامہ جاری کردیا تھا اور اس دوران سامنے آتی معروضی صورتحال کی روشنی میں فاروق ستار کو بھی اندازہ ہوچلا تھا کہ اب انہیں لندن سے مزید کوئی قوت میسر نہیں آسکتی بلکہ انہں الٹا انکا بوجھ بھی ڈھونا پڑے گا لہٰذا وہ سمجھ گئے تھے کہ انہیں اب جو بھی کرنا ہے خود اپنے ہی بل پہ کرنا ہے اور اس ہی عرصے میں چونکہ کام کرنے کی 'آزادی' بھی خاطر خواہ طور پہ انکے منہ بھی لگ گئی تھی چنانچہ اب وہ اس سے دستبردار ہونے اور اپنی مسلسل بے عزتی کراتے پرانے روبوٹ بننے کو بھی تیار نہ تھے لہٰذا انہوں نے اپنی راہ کو بتدریج ارباب لندن کے سائے سے عملاً دور کرنا شروع کردیا تھا اور اب عملی صورتحال یہ ہے کہ یہ اجتنابی رویہ بڑھتے بڑھتے رہنماؤں کی سطح پہ تو مکمل دوری کی حد تک جاپہنچا ہے تاہم کارکنوں‌ میں سے بعضوں کے دل اب بھی الطاف حسین کے ساتھ ہی ہیں کیونکہ فاروق ستار دلوں کو لبھانے والے انداز خطابت میں الطاف حسین کے پاسنگ بھی نہیں
یہاں ایک تازہ معاملے کا ذکر بھی کیا جانا ضروری ہے اور و یہ کہ کراچی میں اپنی گرفت دوبارہ حاصل کرنے اور 2018 کے الیکشن میں اسکے ثمرات سمیٹنے کے لیئے اب الطاف حسین نے بالآخر ایک نئی حکمت ترتیب دے ہی لی ہے جس کے تحت شہری سندھ کے سیاسی میدان میں موجود اپنے حامیوں‌ کو 'وفا پرست' کے سائبان تلے متحرک ہوجانے کا ڈول ڈآل دیا گیا ہے اور اپنے 30 برس سے چلتے آرہے مشہور و معروف ٹائیٹل 'حق پرست' کو بھی اب اس زعم میں ترک کردیا گیا ہے کہ وہ اب کھل کھلا کے یہاں صاحبان اختیار کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ وہ اب بھی اس پوزیشن میں ہیں کہ جہاں کھڑے ہوجائیں لائن وہیں سے شروع ہوتی ہے ۔۔۔ لیکن یہ انکی نری خام خیالی ہے کیونکہ گزشتہ 30 برسوں میں پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہ چکا ہے اور انکے خوش فہمیوں پہ مبنی اندازے مسلسل غلط ثابت ہوتے چلے آرہے ہیں خاص طور پہ گزشتہ برس لگایا گیا انکا یہ اندازہ کے انکی گزشتہ برس 22 اگست کی اشتعال انگیز و باغیانہ تقریر اسٹیبلشمنٹ کو خوفزدہ کرکے اسے ان سے 'نئی ڈیل' کرنے پہ مجبور کردے گی ،،، لیکن ہوا اسکے قطعی برعکس اور جو رہا سہا بھرم انکے پاس پلے تھا وہ بھی جاتا رہا اور یوں عرصے سے انکی احمقانہ و متلون مزاج پالیسیوں سے نالاں انکے تنظیمی ارکان کو بھی موقع ہاتھ آگیا کہ کہ اب وہ اس نادر موقع سے فائدہ اٹھالیں اور زندہ رہتے ہوئے بھی ان سے دوری اختیار کرسکیں اور اسی سبب انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو الطاف سے دوری کا گرین سگنل دینے میں مزید دیر نہیں لگائی ،،،
ایک برسرزمین حقیقت یہ ہے کہ اس وقت متحدہ کا پارلیمانی و بلدیاتی ڈھانچہ فاروق ستار کے گروپ کے پاس ہے جبکہ انتظامی ڈھانچہ اور نچلی سطح پہ موجود کارکنان کا نیٹ ورک پی ایس پی کے ہاتھوں میں جاچکا ہے
فاروق ستار فطری طور پہ ایک ڈھیلے اور دبو سے آدمی ہیں اور ان پہ انکے ساتھی بالعموم غالب دکھائی دیتے ہیں اور اپنے پرانے شکنجے کو کسنے کے لیئے الطاف حسین کافی عرصے کی بےعملی کے بعد اب کافی سرگرم ہوگئے ہیں لیکن بظاہر فوری طور پہ انکی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ اب بھی الطاف حسین کا پوری طرح انحصار ندیم نصرت پہ ہے کہ جنہوں نے منہ دیکھئے کی حد تک ان کا اندھا اعتماد اس خوبی سے حاصل کرلیا ہے کہ بظاہر لندن رابطہ کمیٹی کے باقی ارکان عملاً بیٹھے بٹھائے فارغ کرڈالے ہیں اور اب محمد انور ، مصطفیٰ عزیزآبادی وغیرہ محض جھلکیاں و بازگشت بنتے جارہے ہیں اور جس طرح ماضی میں ایک وقت ٹیلی فون آپریٹر کے عہدے سے ترقی کرکے مصطفیٰ کمال منظر نامے پہ چھاگئے تھے اب لگتا ہے تاریخ خود کو دہرانے جارہی ہے کیونکہ الطاف حسین کے دوسرے ٹیلیفون آپریٹر یعنی ندیم نصرت بھی اس وقت انکے معتمد خاص بن چکے ہیں اور کوئی دن دور نہیں کہ ابکے لندن سیکریٹریٹ میں ندیم نصرت کے اس راج پاٹ کے خلاف وہاں اندر سے ایک بڑی بغاوت جنم لے لے ،،، ویسے بھی اب ندیم نصرت پی ایس 114 میں بائیکاٹ کی اپیل کا غلط مطالبہ کرانے اور الطاف حسین کو بری طرح ناکام کرانے کے بعد الطاف کے حامی کارکنان کے شدید غم وغصے کا ہفدف بنتے جارہے ہیں اور تاریخی طور پہ بات بھی ثابت ہے کہ الطاف حسین اپنا معتمد خاص بن جانے والےفرد کوکام نکلتے ہی ٹھکانے لگانے کے لیئے خود بھی سرگرم ہوجاتے ہیں اور انکے اشارے پہ کارکنان کے ہاتھوں اس مقرب خاص کی خاطرخوہ عزت افزائی کا بخوبی انتظام کردیا جاتا ہے لہٰذا پورا امکان ہے کہ الطاف حسین کراچی میں اپنی گرفت مضبوط کرسکے تو پھر اگلے مرحلے میں ندیم نصرت کے بوجھ سے بھی چھٹکارا پانے کی تیاری بھی شروع کردیں گے اور کیا عجب کہ ہم عمران فاروق کے بعد ایک اور نئے شہید انقلاب پہ انکا بلبلاتا سیاپا جلد یا بدیر دیکھ پائیں ،،،