پیر، 12 دسمبر، 2016

نہیں نہیں ،،، کچھ کام عدالتوں میں نہیں سڑکوں پہ کرنے کے ہیں ۔۔۔

جماعت اسلامی کے ایک ممتاز رہنماء اور میرے ایک نہایت محترم اور دلنوازدوست ڈاکٹر فیاض عالم کی یہ رنجیدہ و افسردہ سی پوسٹ پڑھی تو ابکے افسوس نہیں ہوا بلکہ غصہ آیا
" اگر لوگوں کو یاد ہو کہ المرکز اسلامی فیڈرل بی ایریا کو سینما ہال میں تبدیل کرنے کے مقدمے میں جماعت اسلامی کراچی کے وکیل نے انتہائ واضح اور ناقابل تردید ثبوت محترم چیف جسٹس کے سامنے پیش کئے تھے- کے ایم سی نے تحریری اعتراف بھی کیا تھا کہ وہاں کلمہ اور قرآنی آیات لکھی ہوئ تھیں جنھیں مٹایا نہیں گیا بلکہ چھپا دیا گیا ہے تاکہ فلموں کے پوسٹر لگائے جاسکیں- کیا ہوا؟ تاریخ پر تاریخ .... شائد میری اولاد اس مرکز کی بحالی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ پائے, مجھے تو کم ہی امید ہے کہ فیصلہ 25- 30 سال سے پہلے آسکے گا-
کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک ؟ "
جب گزشتہ برس ڈاکٹر صاحب یہ سفاک واقعہ میرے علم میں لائے تھے تو میں نے کے ایم سی پہ اس وقت راج کرنے والے ایم کیو ایم کے فرعونوں کی اسلام کی اس توہین اور بھیانک گستاخی پہ ایک شدید ملامتی مضمون بھی سوشل میڈیا پہ لکھا تھا ۔۔۔ لیکن اب جبکہ ایک برس سے زائد ہوگیا کہ یہ معاملہ اب کورٹ میں ہے اور وہاں اسکی رفتار کچھوے کی سی ہے تو تنگ آکر ڈاکٹر صاحب یہ لکھنے پہ مجبور ہوگئے ہیں کہ ایسے تو شاید مزید 25 - 30 برس اور لگ جائیں ۔۔۔۔ میرا اس ضمن میں یہ کہنا ہے کہ جماعت اسلامی جیسی اسٹریٹ پاور رکھنے والی جماعت کو یوں رونا زیب نہیں دیتا اور پھر جبکہ معاملہ بھی اسلامی معاملے کی توہین کا ہو تو پھر تو یہ روایتی طریقے بے معنی ہوجاتے ہیں اگر میرے پاس جماعت کی قیادت ہوتی تو میں حکومتی انتظامیہ کو اس مسئلے کے حل کرنے کے لیئے صرف 3 دن دیتا اور اگر سینما کی جگہ اسلامی مرکز کو بحال نہ کرتی تو پھر ایم اے جناح روڈ اور شاہراہ فیصل ہی بلاک کردیتا ۔۔۔ ہاں شاید کچھ گرفتاریاں بھی ہوجاتیں لیکن بڑے موصد کو پانے کے لیئے یہ بہت سستا سودا ہے لیکن اس سے یم کیوایم کی کمینگی بھی بخوبی سب پہ بینقاب ہوجاتی اور انتظامیہ کے ہاتھ پیر بھی پھول جاتے اور پھر میں دیکھتا کہ کیسے فرعونوں کی نخوت منہ کے بل نہ آگرتی ۔۔۔
اپنے پاکستانی معاشرے کی نفسیت اور حرکیات کا بغور جائزہ لینے کے بعد میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ کہیں کہیں تو 'جوتا' ہی مسئلے کا واحد حل رہ جاتا ہے اور سب ہی مسئلوں کا حل عدالت سے نکلوانے کی توقع نری خوش فہمی سے زیادہ کچھ بھی نہیں ۔۔۔ بلکہ ہر بار ایسا کرنے سے تو یہ بدگمانی بھی فروغ پاسکتی ہے کہ خود مدعی بھی اس مسئلے کے جلد حل میں زیادہ سنجیدہ نہیں ۔۔۔
میرے مضامین پڑھنے والے لوگو ۔۔۔ یہ طےسمجھو کہ اگر کبھی مجھے ساتھ دینے والے چند سرپھرے نڈر اور ناقابل خرید دوست اور ضروری وسائل مل گئے تو پھاڑ ڈالوں گا ان قوانین کے صفحات کو کہ جن سے مسئلوں کے انبار لگتے ہیں اور پھونک ڈالوں گا ایسے آشیانوں کو کہ جہاں ایسے اشرار پلتے ہیں ۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں