پیر، 12 دسمبر، 2016

کیا یہ خواہ مخواہ کا عہدہ سرکاری خزانے پہ بوجھ نہیں ۔۔۔؟؟؟

وہی تام جھام ، وہی پروٹوکول ،،، زبردست اخراجات کا طومار الگ ۔۔۔۔ لیکن ان منصب دار کا کام کیا ہے ،،، یہ خبر صرف خدا کو ہے ،،، کیونکہ ہماری فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف آسٹاف کمیٹی کا عہدہ آرمی چیف کے عہدے کے ہوتے ہوئے قطعی بے معنی اور فضول سا منصب ہے کیونکہ وہ تو ملٹری کے علاوہ نیوی اور ایئر فورس کے سربراہان کا اصل باس بھی ہوتا ہے اور بلحاظ عہدہ ساری فوج کےمعاملات کا حتمی ذمہ دار بنایا گیا ہوتا ہے تو پھر یہ ایک اور سینیئر جنرل صاحب کیوں ڈھیروں تانبہ پیتل لگائے فوجی ٹوپی چڑھائے کڑک وردی ڈاٹے، جی ایچ کیو میں ایک بہت بڑا شاہانہ سا دفتر سجائے بٹھائے رکھے جاتے ہیں ۔۔۔؟؟ کیا یہ منصب آرمی چیف کی کوئی ریپلیکا قسم کی کوئی چیز ہے ۔۔۔؟؟ درحقیقت اس عہدے کی عملی تشریح اس سے زیادہ اور کچھ بہیں کہ یہ ایک طرح سے فوج کا صدر مملکت ہوتا ہے کہ کہنے کو تو بلحاظ منصب ایک نمبر ہوتا ہے اور چوم چام کے اونچے سنگھاسن پہ بٹھا دیا جاتاہے لیکن عملاً کچھ خاص کرنے جوگا نہیں ہوتا اور فوجی ومور کے سارے اختیارات فوج کے وزیراعظم یعنی آرمی چیف کے ہاتھوں ہی میں مرتکز رہتے ہیں ۔۔۔۔ وہ چیئرمین بیچارہ تو نام ہی کا ہوتا ہے اور بس لے دے کے چارو ناچار صدرمملکت ہی کی مانند آنکھیں موندے بیتے دنوں کو یاد کرتے 3 برس کا وقت گزار دیتا ہے
لیکن تفنن برطرف عملا تو مجھے آج تک اس عہدے کی ضرورت اس کے سوا کبھی سمجھ میں نہیں آئی کہ سول حکومت کی طرف سے کسی ایک اور ایسے جنرل کو بھی اسکے آخری دنوں میں کچھ اضافی خوشیاں فراہم کردی جائیں کہ جسکی ناراضگی کچھ معنے رکھتی ہو یا جس سے دوستی بنائے رکھنے سے عسکری حلقوں میں بہتر تعلقات کا ایک اور دروازہ کھلا جاسکے کہ شاید کسی بحران میں کسی کام ہی آجائے کہ پڑے پڑے تو پتھر بھی بھاری ہوتا ہے ۔۔۔ مگر اہیک اہم سوال جو اس منصب سے جڑا ہے وہ یہ کہ کیا یہ عہدہ اس مفلوک الحال ملک کو مطلوب بھی ہے ۔۔۔" اور کیا ایسا فضول اور اضافی منصب پاکستان جیسے غریب ملک کو وارا کھاتا ہے کہ جو ترقی یافتہ اقوام عالم میں 'چھوٹے' سے زیادہ کا درجہ نہیں رکھتا اور جس کا نام علمی برادری کے انڈیکس میں افزائش آبادی اور دہشتگردی کے علاوہ ہر کارکردگی کے لحاظ سے شرمناک حد تک پست ہے اور جسکا ذکر عالمی ممالک کی ترقی و بہبود کی بین الاقوامی فہرست میں سو نمبروں سے بھی بہت نیچے ہی کہیں پایا جاتا ہے اور جو غربت کی نچلی لکیروں سے اوپر اٹھ کے نہیں دیتا ۔۔۔ پھر یہ بھی ہے کہ ہر ملک اور معاشرے میں مناصب اور عہدے اپنی اپنی معروضی صورتحال کے مطابق بنائے اور مٹائے جاتے ہیں اور یہ کوئی لگا بندھا آفاقی اصول نہیں کہ ہر معاملے میں کسی خاص معاشرے کے طرز عمل کی نقالی کی جائے اسی لیئے میرا خیال ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ قومی اسمبلی میں چیئرمین چیفس آف اسٹاف جوائنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے منصب کی ضرورت پہ دو ٹوک انداز میں سوال اٹھایا جائے اور کیا ہی اچھا ہو کہ جنرل زبیر حیات اس فضول مشق کی آخری نشانی بن جائیں اور یہ منصب قومی یادگاروں کا حصہ بنا دیا جائے ۔۔۔۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں