جمعرات، 13 جولائی، 2017

عوام نے الطاف کی الیکشن بائیکاٹ کی اپیل کا ہی بائیکاٹ کرڈالا ،،،؟؟

ایک اخباری اطلاع کے مطابق 25 برس سے لندن میں بیٹھے قوم کا غم اور مفت کے شیرمال کھاتے گرو گھنٹال الطاف حسین اس امر پہ بہت خوش ہیں کہ پی ایس 114 میں فاروق ستار کا امیدوار کامیاب نہیں ہوسکا ہے جبکہ درحقیقت انکی یہ خوشی خود ہی کو بیوقوف بنانے سے زیادہ کچھ نہیں اور خود ہی کو بیوقوف بنانے کاعمل تو سراسر بیوقوفی کا بھی آخری درجہ ہے ،،، ۔۔۔ کون نہیں جانتا کہ اس حلقے میں‌ تو اپنے دور عروج میں بھی ایک بار کے علاوہ متحدہ ہمیشہ دوسرے نمبر پہ ہی آتی رہی ہے تو اب اس دور زوال میں وہ بھلا کیا خاک اونچا تیر مارلیتی ،،، اور متحدہ کو اپنے پر بہار دور میں ملی اس ایک بار کی کامیابی کی بھی اک عجب داستان ہے کہ جب یہاں سے رؤف صدیقی معمولی فرق سے کامیاب ہوئے تھے کیونکہ یہ جیت بھی صرف اس وقت ہی ممکن ہوسکی تھی کہ جب اپنی تنظیمی دہشت اور اثرورسوخ سے فائدہ اٹھاکے متحدہ نے اس حلقے کی 'من پسند' حد بندی کرادی تھی اور جسے بعد میں شدید عوامی احجتجاج پہ واپس لینا پڑا تھا ،،، ممکن ہے کہ الطاف حسین کا یہ تازہ اظہار مسرت اپنی اس خفت و شرمندگی چھپانے کے لیئے ہو کہ 25 برس سے لندن بیٹھے ڈوریاں ہلاکے کراچی میں سب کنٹرول میں رکھنے کے عادی الطاف حسین کی سیاسی حیثیت کو بلاشبہ پہلی بار نہایت سخت اور بہت بڑا دھچکا لگا ہے کیونکہ اس نو جولائی کو منعقدہ ضمنی الیکشن میں اس حلقے کے عوام نے انکی ایک التجاء نہیں سنی اور انکی جانب سے بھکاریوں کے سے انداز میں اس الیکشن کے بائیکاٹ کی گڑا گڑا کے کی جانے والی کئی کئی اپیلوں کے باوجود فاروق ستار والی متحدہ کے امیدوار کامران ٹیسوری کو 18 ہزار سے زائد ووٹ پڑ گئے اور وہ دوسرے نمبر پہ رہے
فاروق ستار کے امیدوار کی دوسرے نمبر کی پوزیشن حاصل کرلینا یقینناً اس لیئے بھی غیرمعمولی بات ہے کہ اسکے مقابل وہ حکومتی امیدوار تھا یعنی سینیٹر سعید غنی ، کہ جس کا تعلق پی پی پی کی خلاف روایت اسی حلقے سے ہی ہے اور اس علاقے میں بلوچوں‌ اور سندھیوں کے گوٹھوں‌ کی بڑی آبادیوں کے باعث پی پی پی کا قدیمی مضبوط ووٹ بینک ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور یہی نہیں بلکہ یہاں سابق ایم پی اے اور اس حلقے کے دیرینہ سیاسی ہیوی ویٹ عرفان اللہ مرؤت کا حمایت کردہ نون لیگی امیدواراکبر گجر بھی خم ٹھونکے میدان میں‌ کھڑا تھا اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء نجیب ہارون بھی مقابلے کی دوڑ میں شامل تھے اور اور تو اور اس بار تو جماعت اسلامی نے بھی کے الیکٹرک کے خلاف اپنی حالیہ مہم کے بل پہ عومی پزیرائی کے نجانے کتنے خوش آئند سپنے دیکھ لیئے ہوئے تھے اس لیئے اگر یہ کہا جائے کہ پی ایس 114 کے ضمنی انتخابات کے نتائج کچھ اعتبار سے غیرمعمولی اثرات کے حامل ثابت ہوئے ہیں تو ہرگزبیجا نہ ہوگا ،،، اگرچہ تازہ صورتحال کے مطابق ایم کیوایم پاکستان نے اس نتیجے کو بوگس قرار دے کر الیکشن کمیشن سے ووٹوں‌کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کردیا ہے لیکن یہ یقینناً ان معروف سیاسی حربوں میں‌ سے ایک ہے کہ جو اکثر سیاسی جماعتیں خود کو خبروں میں‌ان رکھنے اور اپنے کارکنوں کی ڈھارس بندھائے رکھنے کی ضمن میں مجرب باور کرتی ہیں ،، ویسے بھی اس علاقے میں اردو بولنے والی آبادی اکثریت میں نہیں ہے اور ایم کیوایم کی حرکتوں سے بیزاری کے اظہار کے طور پہ دیگر لسانی اکائیاں یہاں‌ بسنے والے قدیمی بلوچوں اور ہزارہ وال کے ساتھ کھڑی ہوجاتی ہیں
اس سےچند ہی روز قبل دو الگ الگ سمتوں سے اندرونی بغاوت کا سامنا کرتے الطاف حسین نے اردو اسپیکنگ طبقے کو بھڑکانے کے لیئے ایک شدید اشتعال انگیز و نہایت جذباتی ویڈیو بیان بھی جاری کیا تھا کہ جس میں فاروق ستار کو غدار قرار دیتے ہوئے ان کو نہایت غلیظ گالیوں سے نوازا تھا اور پی ایس پی بنالینے والے سابق میئر مصطفیٰ کمال پہ کیئے گئے اپنے احسانات گنواتے ہوئے انہیں احسان فراموش ٹہرایا تھا اور کافی کچھ خوش بیانی کی گئی تھی- یہاں یہ واضح رہے کہ ابتداء میں فاروق ستار اور انکے ساتھیوں نے الطاف حسین سے مکمل بغاوت نہیں کی تھی بلکہ بڑی تباہی سے بچنے کے لیئے مصالحت کی راہ اپنائی تھی اور الطاف حسین کی تقریر سے لاتعلقی کا اظہار کرنے کے باوجود انکی شان میں کسی بھی 'گستاخی' سے یکسر اجتناب کیا تھا اور یوں الطاف حسین کے حامیوں کو اپنی مٹھی سے پھسلنے سے روکنے میں بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل کی تھی کیونکہ وہ اسے ایم کیوایم کی طاقت کی اصل بنیاد اور اساس باور کرتے تھے ،،، لیکن جلد ہی الطاف حسین نے اسے اپنی جڑیں کاٹنے کی سازش باور کرتے ہوئے اپنے ہمنوا لوگوں کو ان سے فاصلے پہ رہنے کا ہدایت نامہ جاری کردیا تھا اور اس دوران سامنے آتی معروضی صورتحال کی روشنی میں فاروق ستار کو بھی اندازہ ہوچلا تھا کہ اب انہیں لندن سے مزید کوئی قوت میسر نہیں آسکتی بلکہ انہں الٹا انکا بوجھ بھی ڈھونا پڑے گا لہٰذا وہ سمجھ گئے تھے کہ انہیں اب جو بھی کرنا ہے خود اپنے ہی بل پہ کرنا ہے اور اس ہی عرصے میں چونکہ کام کرنے کی 'آزادی' بھی خاطر خواہ طور پہ انکے منہ بھی لگ گئی تھی چنانچہ اب وہ اس سے دستبردار ہونے اور اپنی مسلسل بے عزتی کراتے پرانے روبوٹ بننے کو بھی تیار نہ تھے لہٰذا انہوں نے اپنی راہ کو بتدریج ارباب لندن کے سائے سے عملاً دور کرنا شروع کردیا تھا اور اب عملی صورتحال یہ ہے کہ یہ اجتنابی رویہ بڑھتے بڑھتے رہنماؤں کی سطح پہ تو مکمل دوری کی حد تک جاپہنچا ہے تاہم کارکنوں‌ میں سے بعضوں کے دل اب بھی الطاف حسین کے ساتھ ہی ہیں کیونکہ فاروق ستار دلوں کو لبھانے والے انداز خطابت میں الطاف حسین کے پاسنگ بھی نہیں
یہاں ایک تازہ معاملے کا ذکر بھی کیا جانا ضروری ہے اور و یہ کہ کراچی میں اپنی گرفت دوبارہ حاصل کرنے اور 2018 کے الیکشن میں اسکے ثمرات سمیٹنے کے لیئے اب الطاف حسین نے بالآخر ایک نئی حکمت ترتیب دے ہی لی ہے جس کے تحت شہری سندھ کے سیاسی میدان میں موجود اپنے حامیوں‌ کو 'وفا پرست' کے سائبان تلے متحرک ہوجانے کا ڈول ڈآل دیا گیا ہے اور اپنے 30 برس سے چلتے آرہے مشہور و معروف ٹائیٹل 'حق پرست' کو بھی اب اس زعم میں ترک کردیا گیا ہے کہ وہ اب کھل کھلا کے یہاں صاحبان اختیار کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ وہ اب بھی اس پوزیشن میں ہیں کہ جہاں کھڑے ہوجائیں لائن وہیں سے شروع ہوتی ہے ۔۔۔ لیکن یہ انکی نری خام خیالی ہے کیونکہ گزشتہ 30 برسوں میں پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہ چکا ہے اور انکے خوش فہمیوں پہ مبنی اندازے مسلسل غلط ثابت ہوتے چلے آرہے ہیں خاص طور پہ گزشتہ برس لگایا گیا انکا یہ اندازہ کے انکی گزشتہ برس 22 اگست کی اشتعال انگیز و باغیانہ تقریر اسٹیبلشمنٹ کو خوفزدہ کرکے اسے ان سے 'نئی ڈیل' کرنے پہ مجبور کردے گی ،،، لیکن ہوا اسکے قطعی برعکس اور جو رہا سہا بھرم انکے پاس پلے تھا وہ بھی جاتا رہا اور یوں عرصے سے انکی احمقانہ و متلون مزاج پالیسیوں سے نالاں انکے تنظیمی ارکان کو بھی موقع ہاتھ آگیا کہ کہ اب وہ اس نادر موقع سے فائدہ اٹھالیں اور زندہ رہتے ہوئے بھی ان سے دوری اختیار کرسکیں اور اسی سبب انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو الطاف سے دوری کا گرین سگنل دینے میں مزید دیر نہیں لگائی ،،،
ایک برسرزمین حقیقت یہ ہے کہ اس وقت متحدہ کا پارلیمانی و بلدیاتی ڈھانچہ فاروق ستار کے گروپ کے پاس ہے جبکہ انتظامی ڈھانچہ اور نچلی سطح پہ موجود کارکنان کا نیٹ ورک پی ایس پی کے ہاتھوں میں جاچکا ہے
فاروق ستار فطری طور پہ ایک ڈھیلے اور دبو سے آدمی ہیں اور ان پہ انکے ساتھی بالعموم غالب دکھائی دیتے ہیں اور اپنے پرانے شکنجے کو کسنے کے لیئے الطاف حسین کافی عرصے کی بےعملی کے بعد اب کافی سرگرم ہوگئے ہیں لیکن بظاہر فوری طور پہ انکی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ اب بھی الطاف حسین کا پوری طرح انحصار ندیم نصرت پہ ہے کہ جنہوں نے منہ دیکھئے کی حد تک ان کا اندھا اعتماد اس خوبی سے حاصل کرلیا ہے کہ بظاہر لندن رابطہ کمیٹی کے باقی ارکان عملاً بیٹھے بٹھائے فارغ کرڈالے ہیں اور اب محمد انور ، مصطفیٰ عزیزآبادی وغیرہ محض جھلکیاں و بازگشت بنتے جارہے ہیں اور جس طرح ماضی میں ایک وقت ٹیلی فون آپریٹر کے عہدے سے ترقی کرکے مصطفیٰ کمال منظر نامے پہ چھاگئے تھے اب لگتا ہے تاریخ خود کو دہرانے جارہی ہے کیونکہ الطاف حسین کے دوسرے ٹیلیفون آپریٹر یعنی ندیم نصرت بھی اس وقت انکے معتمد خاص بن چکے ہیں اور کوئی دن دور نہیں کہ ابکے لندن سیکریٹریٹ میں ندیم نصرت کے اس راج پاٹ کے خلاف وہاں اندر سے ایک بڑی بغاوت جنم لے لے ،،، ویسے بھی اب ندیم نصرت پی ایس 114 میں بائیکاٹ کی اپیل کا غلط مطالبہ کرانے اور الطاف حسین کو بری طرح ناکام کرانے کے بعد الطاف کے حامی کارکنان کے شدید غم وغصے کا ہفدف بنتے جارہے ہیں اور تاریخی طور پہ بات بھی ثابت ہے کہ الطاف حسین اپنا معتمد خاص بن جانے والےفرد کوکام نکلتے ہی ٹھکانے لگانے کے لیئے خود بھی سرگرم ہوجاتے ہیں اور انکے اشارے پہ کارکنان کے ہاتھوں اس مقرب خاص کی خاطرخوہ عزت افزائی کا بخوبی انتظام کردیا جاتا ہے لہٰذا پورا امکان ہے کہ الطاف حسین کراچی میں اپنی گرفت مضبوط کرسکے تو پھر اگلے مرحلے میں ندیم نصرت کے بوجھ سے بھی چھٹکارا پانے کی تیاری بھی شروع کردیں گے اور کیا عجب کہ ہم عمران فاروق کے بعد ایک اور نئے شہید انقلاب پہ انکا بلبلاتا سیاپا جلد یا بدیر دیکھ پائیں ،،،

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں