پاکستان کے غیر رسمی قومی ترانے کا خالق شہادت کی رفعتیں پاگیا ۔۔۔ انکے ملی نغمے 'دل دل پاکستان' کی حقیقی قدرو قیمت یہی ہے کہ اسے ضرورتاً یا رسماً نہیں بلکہ یونہی بیٹھے بیٹھے عادتاً اور دفعتاً بھی گایا جاتا ہے اور یہ بیک وقت قومی نغمہ بھی ہے اور موسیقی کے تقاضے پوراکرتا ایک مدھر گیت بھی ہے ۔۔۔ جب بھی سنو رگ و پے میں حب وطن کی بجلیاں سی بھردیتا ہے اور اسکی دھن اور بول دونوں ہی سے ذہن کو اک عجب سا سرور ملتا ہے - میں بلا خوف تردید کہتا ہوں کہ حفیظ جالندھر ی کا لکھا ہوا ترانہ ' پاک سرزمین شاد باد' اگر سرکاری طور پہ قومی ترانہ ہے تو جنید جمشید کا 'دل دل پاکستان' اس ملک کا عوامی قومی ترانہ ہے ۔۔۔۔ ملک بھر میں شاید ہی کسی ملی نغمے کو ایسی مقبولیت اور پزیرائی نصیب ہوئی ہو کے 1984 میں اسی تخلیق سے لے کر ابتک یوم آزادی یا کوئی اہم قومی تہوار ایسا نہیں کہ جس پہ اسے متعدد بار بجایا اور سنا نہ جاتا ہو بلکہ درحقیقت اس کے بغیر اب کسی اہم قومی تقریب کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا- لیکن یہ مقبول ترین ترانہ تو اسکی منزل نہ تھی محض ایک عارضی پڑاؤ تھا کیونکہ بعد میں تو کئی منزلیں خود اسکے استقبال کو آگے بڑھتی چلی آئیں ۔۔۔
جنید جمشید میری نگاہ میں کئی لحاظ سے بڑا آدمی تھا اور جب میں کسی کو بڑا آدمی مانتا ہوں تو اسکی بنیاد اسکے غیر معمولی بڑے و مثبت فیصلوں اور اسکی ہرسطح پہ اپیل اور نہایت موثر اثرپزیری کو گردانتا ہوں ۔۔۔ وہ دور پار سے پرویز مشرف کا کزن بھی لگتا تھا اور یہ وہی تھا کہ جس کے بارے میں مشرف بڑی جھلاہٹ اور نخوت سے کہا کرتا تھا کہ میرے کزنوں میں ایک کے سوا کسی کی داڑھی نہیں ہے ۔۔۔ لیکن اسکا یہ مطلب یہ نہ لیا جائے کہ مشرف کے داڑھی منڈے رشتہ داروں میں سارے مشرف جیسے تھے میرے ایک شناسا کلین شیو بزرگ مشرف کے قریبی رشتہ دار تھے لیکن ماضی میں بھی اور بعد میں بھی پرویز مشرف کے گھر جانا مطلق پسند نہ کرتے تھے اور انکے گھرانے کو 'کنجر فیملی' کے لقب سے یاد کرتے ہوئے بتاتے تھے کہ پرویز کی ماں زرین نے تو بہت بڑھاپے میں جاکے آستینوں والا بلاؤز پہننا شروع کیا تھا ورنہ اس غروبِ مغرب کنبے میں طلوع مشرق کا سماں تو ہمہ وقت بندھا رہتا تھا اور نظر اور ایمان مسلسل خطرے میں رہتا تھا ۔۔۔۔ انہیں رقص سکھانے کے لیئے ایک کلاسیکی استاد یا باالفاظ دیگر مردانہ نائیکہ صاحب بھی باقاعدہ اکثر گھر پہ دھرے رہتے تھے اور کرپشن کے جرم میں سرکاری ملازمت سے جبری نکال پھینکے گئے انکے ابا بھی روز تا دیر طبلے اور ستار پہ خوب ہاتھ صاف کرتے تھے ۔۔۔
لیجیئے بات کہاں سے کہاں نکل گئی ،،،، بس یوں سمجھ لیجیئے کہ ایک ہی خاندان میں جہاں مشرف جیسے بدمست شرابخوروں و حرامخوروں کا کنبہ موجود تھا تو دوسری طرف جنید جمشید کے جیسے نیک لوگ بھی تھے کہ جنہوں نے رنگینیوں کا بھریا میلہ چھوڑکے کپڑے جھاڑکے اٹھنے کے بعد جہاں خود بھی تبدیلیء ذات کی اور معرفت کی متعدد منزلیں طے کیں تو گمراہی کی ظلماتی راہ پہ بھٹکتے کئیوں اور بہتیروں کو اندھیروں سے نکال کے ایمان کے جادہء مستقیم پہ گامزن کردیا اور یہ اسکی پہلی بڑائی تھی اور اسکی باقی کی دیگر بڑائیوں نے اسی سے جنم لیا ۔۔۔ جنید کا یوں گٹار پھینک کے تسبیح اٹھا لینا اور اللہ کے رستے پہ چل پڑنا کوئی معمولی بات نہیں تھی کیونکہ اس وقت وہ پاکستانی پاپ میوزک کا آئیکون بن چکا تھا اور جسکی رنگینوں کا سرور باقاعدہ نشہ سا بن جایا کرتا ہے اور جنید کوتو وہ شہرت ابتداء ہی مل چکی تھی کہ جو بڑے بڑوں کا دماغ خراب کرڈالتی ہے اور انکی کایا کلپ نے بہتیرے ایسے بھٹکے لوگوں کو بھی یہ حقیقت بخوبی سمجھادی کہ جو پہلے یہ گمان کرتے تھے کہ دیندار طبقے کو جب لہو و لعب کی ان رنگینیوں کے مزے کا علم ہی نہیں تو وہ بھلا کیا اسکی قدر کرینگے
جنید کی دوسری بڑائی یہ تھی کہ انہوں نے دعوت و تبلیغ کی راہ اپنانے کے بعد جب موسیقی کو ترک کردیا تو بظاہر اپنے واحد ہنر کو بھی خیر باد کہ کر اپنے لیئے روزگار کے اس وسیلے کو ہی ختم کردیا تھا ، لیکن اپنے رازق کی رزاقی پہ یقین کا مظاہرہ کرکے وہ آگے بڑھے اورپھر اللہ کریم نے بھی اپنے کرم پہ بھروسہ کرکے آنکھ بند کرکے آگے بڑھنے والے اس مرد جری پہ نفع و خیر کے کرم کی ایسی بارش کی کہ دیکھنے والے حیران رہ گئے کیونکہ بہت سے تماشبین تو اسکی تباہی و بربادی کا تماشا دیکھنے کی امید لگائے بیٹھے تھے ،،، جنید پہ رازق کی اس مہربانی نے بہت سے ایسے متذبذب لوگوں کو ولولہ دیا اور وہ خوف رزق سے آزاد ہوگئے اور رازق حقیقی کی رضا جوئی کی راہ پہ چل نکلے ۔۔۔ جنید کی تیسری کامیابی بھی اسی دوسری کامیابی ہی سے منسلک ہے اور وہ یوں کہ جنید نے قلب و نظر میں تبدیلی کے بعد تلاش معاش کے لیئے کسی بڑی ملازمت کے حصول کے بجائے اپنےپیارے نبی کی سنت یعنی تجارت اور کاروبار کو منتخب کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے انکے کاروبار بڑھتے ہی چلے گئے اور جنید نے ان سب کو نہایت کامیابی سے چلا کے یہ تصور بھی غلط ثابت کردیا کہ فی زمانہ ایماندار آدمی بہترتجارت نہیں کرسکتا اور ایسے لوگ اس شعبے میں کامیاب نہیں ہوسکتے اور یوں بہت سے ایسے لوگ بھی دین کے قریب لائے جاسکے کہ جو اس رستے پہ گامزن ہونے میں اپنے معاشی مفادت کی تباہی کو یقینی باور کرتے تھے-
جنید کی چوتھی بڑائی یہ تھی کہ موسیقی سے گلو خلاصی کے بعد بھی انہوں نے اپنی خوبصورت آواز کی چاشنی سے لوگوں کو محروم نہیں کیا بلکہ وہ ایک اور بہتر روپ میں یعنی نعت خواں بنکے ابھرے اور اس میدان کے بھی مرد ثابت ہوئے اور ہر طرف چھاگئے اور یہ بھی اللہ کے خاص کرم کے بغیر ممکن نہ تھا وگرنہ تو ایک اور نامور گلوکار بھی گٹار چھوڑ کے نیم دلانہ آئے اور جلد ہی اپنی پھٹی جینز کی طرف لوٹ گئے ۔۔ شہید جنید جمشید کی پانچویں بڑائی یہ تھی کہ انکی وساطت سے بہت سے مالدار اور مخیر حضرات کو دین کے رستے پہ لا انکے ذریعے کثیر صدقات زکواۃ اور خیرات کے اجراء سے بہت سے مفلس و نادار لوگوں کی کثیر فلاح و بہبود میں بھی بڑی مدد ملی اور دعوت دین کے کام کو بھی بڑی تقویت ملی ۔۔۔ جنید کی پانچویں بڑائی یہ تھی کہ وہ ان لوگوں کو بھی معاف کرسکتا تھا کہ جو کسی طور معاف کیئے جانے کے قابل نہ تھے ،،، جسکی مثال کچھ عرصہ قبل اسلام آباد ایئرپورٹ پہ چند مسلکی جنونیوں کا ان پہ حملہ اور انکو زدوکوب کرنے کا گھناؤنا فعل ہے ،،، وہ چاہتے تو سارے ملک سے ملنے والے اشتعالی ردعمل اور محبت کے وافر مناظر سے فائدہ اٹھاتے اور وزارت داخلہ کے حکام کو نہ روکتے کہ وہ ان پہ حملہ کرنے والوں کو گرفتار کرکے مقدمہ دائر نہ کریں کیونکہ انہوں نے انکو معاف کردیا ہے ۔۔۔
جنید کی چھٹی بڑائی یہ تھی کہ جب وہ موسیقی اور گلیمر کی لشکارے مارتی دنیا کا حصہ تھا تب بھی وہ 'جنونی' نہ بنا اور کوئی بیہودہ نغمہ کبھی اسکے لبوں پہ نہ آیا اور اسی طرح نہایت خوش شکل اور جاذب نظر و اسمارٹ ہونے کے باعث فلمی دنیا کے دور عروج کے اس زمانے میں اسے کئی فلموں میں کام کرنے کی پیشکشیں کی گئیں لیکن اس نے اس راہ کو یکسر مسترد کردیا - جنید کی ساتویں بڑائی ایک مخلص سوشل ورکر ہونے کی تھی کہ جس میں نہ اسے کیمروں کی کلک کی ضرورت تھی اور نہ ہی میڈیا کی بھیڑ کی ،،، اس نے اس عروس البلاد کو کراچی سے کچراچی بنتے دیکھا تواس شہر کے فرزند ہونے کا حق ادا کردیا اور اپنے کام کاروبار سے منہ پھیرکے کئی روز تک صفائی کی مہم سرگرمی سے چلائی اور اپنی شخصیت کے اس بڑے گن کے گانے سے سے یکسر گریز کیا- الغرض اسکی کیا کیا اور بڑائیاں گنواؤں ،،، بس یہی کہنےپہ اکتفاء کرتا ہوں کہ وہ فی الواقع ایک بہت جینئین بڑا آدمی تھا ۔۔۔
میری جنید سے کل ملا کے محض تین چار ملاقاتیں ہی ہوئی ہیں لیکن آج نجانے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ وہ میرے بچپن سے پچپن تک کا ساتھی تھا اور اب یکا یک اسکے چلے جانے سے میرے اندر ایک دھواں سا بھر گیا ہے اور مجھے کم ازکم ابھی تو نہ ہی کچھ واضح دکھائی دے رہا ہے اور نہ ہی خاص سجھائی دے رہا ہے ،،، بڑی شدت سے احساس ہورہا ہے کہ آنکھیں اور دماغ ہوتے ہوئے بھی کبھی بصارت اور بصیرت دونوں ہی ناقابل اعتبار ہوجاتے ہیں ،،،
میری جنید سے کل ملا کے محض تین چار ملاقاتیں ہی ہوئی ہیں لیکن آج نجانے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ وہ میرے بچپن سے پچپن تک کا ساتھی تھا اور اب یکا یک اسکے چلے جانے سے میرے اندر ایک دھواں سا بھر گیا ہے اور مجھے کم ازکم ابھی تو نہ ہی کچھ واضح دکھائی دے رہا ہے اور نہ ہی خاص سجھائی دے رہا ہے ،،، بڑی شدت سے احساس ہورہا ہے کہ آنکھیں اور دماغ ہوتے ہوئے بھی کبھی بصارت اور بصیرت دونوں ہی ناقابل اعتبار ہوجاتے ہیں ،،،
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں