جمعرات، 13 جولائی، 2017

سندھ سیکریٹریٹ ۔۔۔ شہر میں شہروالے اجنبی

جن لوگوں کو تعصب ، نفرت اور نسل پرستی کو اپنی بھیانک ترین شکل میں دیکھنا ہو تو وہ کبھی ذرا کراچی کے قلب یعنی برنس روڈ پہ واقع سندھ کی صوبائی حکومت کے دفتری کمپلیکس یعنی سندھ سیکریٹرییٹ کا چکر لگالیں اور اپنی آنکھوں سے خود ملاحظہ کرلیں کہ یہاں اردو بولنے والے اور سرائیکی ، پشتون اور پنجابیوں کا تناسب کس قدر افسوسناک ہے جوکہ درحقیقت آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے ،،، شہر کی اکثریتی آبادی کے بیچوں بیچ بنے اس سیکریٹریٹ میں آپ یہاں سے وہاں گھوم جائیئے اگر یہ احساس نہ ہوکہ آپ کسی اجنبی علاقے میں موجود ہیں تو آپکی جوتی میرا سر ،،، اسے دیکھ کے ایم کیوایم کی بےحمیتی اور بے حسی کی جو بھرپور تصویر آنکھوں میں ابھرتی ہے اسکے بعد الطافی چیلوں کی 35 سالہ 'حق پرستی' کی اصلیت کو سمجھنے کے لیئے کسی اور دلیل کی ضرورت ہی نہیں رہتی ،،، درحقیقت ایم کیوایم کے رہنما اس تمام طویل عرصے میں ( جن میں اسکے سب گروپ شامل ہیں کیونکہ انہوں نے 35 میں سے 33 برس ساتھ گزارے ہیں ) اپنے ذاتی مفادات کیلیئے اپنے ووٹروں کے معاشی مفادات کو قربان کرکے اپنی ذاتی تجوریاں بھرتے رہے اور لالو کھیت گوالیمار اور نیوکراچی کے کوارٹر چھوڑ کے ڈیفنس کلفٹن اور گلشن اقبال شفٹ ہوتے رہے -بابر غوری سارا شہر لوٹ کے کھاگیا اور آج فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال گروپ بھی یہ دہائیاں دیتے سنائی دیتے ہیں ، لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ جب بابر غوری کی یہ شرمناک لوٹ مار جاری تھی تب آپ کہاں تھے اور کیوں چپ تھے ،صاف ظاہر ہے کہ وہ ان جرائم میں برابر کے حصے دار تھے ،، لوٹ کھسوٹ کی نوبت تو یہ آئی کہ دو پٹی کی چپل پہننے سے زیادہ حیثیت نہ رکھنے والے کارکنان بھی اب کروڑ پتی بلڈر بنے گھومتے ہیں
لیکن جہانتک مسئلہ ہے اس شہر میں روزگار کے بحران کا تو ضرورت اس امر کی ہے کہ اب سندھ کا شہری طبقہ ،متحد ہوجائے اور نہ صرف اس کوٹہ سٹم کو اٹھا کے نیٹی جیٹی میں پھینک دے بلکہ اسکے نفاز سے ابتک شہری سندھ کی ملازمتوں میں جو جو زیادتیاں اس کے ساتھ روا رکھی گئی ہیں ان سب کا پورا پورا ازالہ کیا جائے ،،، فوج کوبھی اچھی طرح سمجھ لینا چاہیئے کہ اب دوسراگڑھا کھود کے پہلے والے گڑھےکی مٹی کو اس میں سمونے کی پالیسی مکمل ناکام ہوچکی ، سیاسی روبوٹوں سے وقتی طور پہ تعمیل ارشاد کراکے اصل مسائل کو ٹالا تو جاسکتا ہے لیکن ختم ہرگزنہیں کیا جاسکتا اور یہ مسائل دراصل کیا ہیں انکو برسر زمین حقائق کی روشنی میں دیکھنے اور دکھانے کی ضرورت ہے- میں پہلے بھی کہتا رہا ہوں اور اب پھر عرض کرتا ہوں کہ اچھی طرح سے سن لیجیئے ،،، کراچی کا اصل مسئلہ روزگار کا ہے اور ملک کے اس سب سے بڑے تعلیمی تناسب والے شہر میں روزگار نہ دیئے جانے کے باعث جرائم کی فصل کاشت بیروزگاری کی زمین میں بھرپور طور پہ لہلہا رہی ہے ،،، افسوس اور شرم کی بات یہ ہے کہ یہاں سے ووٹ لینے کی متمنی بزدل اور مکار سیاسی جماعتوں کی ہمت ہی نہیں کہ وہ اہل شہر کے پیٹ پہ پڑنے والی طویل مدتی لات کے خلاف بات کرسکیں کیونکہ وہ اندرون سندھ کو ناراض کرنے کا ارادہ نہیں رکھتیں اور کراچی و شہری سندھ والوں کو بیوقوف بنانے کے لیئے لوڈ شیڈنگ اور پانی کو مسئلہ نمبر ایک بتاکے اصل حقیقت سے توجہ ہٹانے کی کوششیں کررہی ہیں
لیکن سچ تو یہ ہے کہ ان سیاسی جماعتوں کی یہ مکاری اور حقائق کو بدل کے دکھانے کی عیاریاں اس معاملے کو اور گھمبیر تر کرتی جارہی ہیں کیونکہ یہاں ہر گھر میں کئی کئی تعلیمیافتہ نوجوان ڈگریاں لیئے بیروزگار بیٹھے ہوئے ہیں کہ جن پہ سرکاری ملازمتوں کے دروازے عملا" بند ہیں اور متعصب صوبائی بیوروکریسی شہری کوٹے پہ بھی 'مخصوص' لوگوں کو ہی ملازمتیں دیئے چلی جارہی ہے ،،،اس میں کیا شک ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف فوج اگر آپریشن 'ردالفساد ' کررہی ہے تو44 برس سے سندھ کی متعصب اشرافیہ شہری طبقے کیلیئے آپریشن ' رد الروزگار' جاری رکھے ہوئے ہے،،، یہ صورتحال اب مزید جاری نہیں رہنی چاہیئے ورنہ غصے اور احتجاج کا ایسا لاوا پھوٹ بہے گا کہ اپنی زد میں آنے والی ہر شے کو بہا کر لے جائے گا،،، میں سندھ کی متعصب حکومت اور بیوروکریسی کو یہ باور کرادینا چاہتا ہوں کہ اب بھی وقت ہے کہ آنکھیں کھول لیں ،،، اگر ہوش کے ناخن نہ لیئے گئے تو بہت کچھ بگڑجائےگا اور گھناؤنی نسل پرستی کے اطوار اب بھی نہ بدلے تو پھربلاشبہ سندھ کا جغرافیہ ہی بدل جائےگا -
میں یہاں پاک فوج سے ملتمس ہوں کہ اس ضمن میں‌ وہ اصلاح احوال کے لیئے اپنا مطلوبہ بھرپور کردار ادا کرے اوراب وہ اس سے زیادہ دیر پہلو تہی نہ کرے کیونکہ اس شہر میں حقیقی امن کے قیام کے لیئےاسے اس پڑھے لکھے شہر والوں کے بھوک سے جلتے پیٹوں کو روزگار دلواکے ٹھنڈا کرنا ہوگا تبھی وہ دہشتگردوں کی بات پہ کان نہیں دھریں گے ،،، اسکے لیئے فوج کو دیر نہیں کرنی چاہیئے اور آگے بڑھ کے حقائق کو خود سمجھنا ہوگا اور 44 برس کا تفصیلی حساب کتاب کرواکے ہر زیادتی کا ازالہ کروانا ہوگا ورنہ بہت دیر ہوجائےگی اور وہ ہو رہے گا کہ جس کا تصور بھی لرزا دینے کے لیئے کافی ہے
arifm30@gmail.coM

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں