ملک کا سب سے بڑا میڈیا ھاؤس جنگ اور جیو گروپ ایک بار پھر عمران خان کے سنگین الزامات کی زد میں ہے اور یہ الزامات سچے ہیں یا جھوٹے ، انکے لیئے حسب سابق گزشتہ دو بائیکاٹوں کی مانند اس بار بھی کوئی ثبوت اور شہادت دینے کی زحمت ہی نہیں کی گئی ہے جبکہ پہلے کی طرح اب بھی یہ گروپ ان سے نہ صرف انکے الزامات کا ثبوت طلب کررہا ہے بلکہ وہ خود یا انکے نمائندے کو آمنے سامنے بیٹھ کر مباحثہ و مناظرہ کرنے کی کھلی دعوت بھی دے رہا ہے،حتیٰ کہ انہیں ان بنیادوں پہ کئی باراسی سپریم کورٹ میں کیس کرنے کا کا کھلا چیلنج بھی دے چکا ہے کہ جس پہ وہ آجکل متعدد بار مکمل اعتماد کا بار بار اظہار کرتے سنے جاتے ہیں ، لیکن خانصاحب پہلے بھی میڈیا کے میدان میں نہ خود اترے تھے اور نہ ہی اپنے کسی دوسری یا تیسری سطح کے نمائندے کو میدان میں اتارسکے تھے اورنہ ہی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا اور یوں جس سے بلاشبہ اس میڈیا ھاؤس کوسب کے سامنے دوٹوک زبردست اخلاقی فتح نصیب ہوئی تھی- جہاں تک انکے ان خیالات کا تعلق ہے کہ یہ ادارہ انکے خلاف ہے اور نون لیگ کا ہمنوا ہے تو وہ یہ روشن حقیقت کیوں بھول جاتے ہیں کہ پاناما لیکس کے معملات کو طشت از بام کرنے کا کام اسی گروپ کے ایک صحافی احمد نورانی نے کیا تھا کہ جس سے انہیں نون لیگ کے خلاف ہرسطح پہ زبردست مہم چلانے کا ہتھیار ہاتھ آگیا اور انکے فوت ہوتی سیاسی مردے میں نئی جان پڑگئی ۔۔۔ ورنہ طویل ناکام دھرنوں اور لانگ مارچ کے بعد تو انکی سیاست کی نیا راول ڈیم میں ڈوب چلی تھی اور کنٹینر سے اترنے کے بعد انہیں نشریاتی ادارں نے بھی نظروں سے اتار دیا تھا اور سنجیدہ لینا بالکل ہی ترک کردیا تھا
لیکن خانصاحب بیچارے کریں بھی تو کیا کریں ، وہ کانوں کے بھی کچے ہیں اور جسمانی کیمسٹری بھی بڑی منفرد قسم کی پائی ہے کیونکہ عجیب بات یہ ہے کہ انکے کوئی اور غدود کام کریں نہ کریں انکی عجیب و غریب ناراضگی کے 'شرمندگی پروف غدود' ہمہ وقت سرگرم رہتے ہیں اور اسی سبب انہیں بھڑکانے والے بھی روٹی روزی سے لگے رہتے ہیں کیونکہ ان بیچاروں کے پاس اور ایسا کوئی ٹیلنٹ ہے بھی نہیں کہ جسکے بل پہ وہ بنی گالر کے لنگر کا حصہ رہ سکیں ،،، اور پھر بلآخر ان لنگریوں کی اکساہٹ میں آجانے کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ بڑے بڑے الزامی پہاڑوں کو کھودنے کے بعد انہیں ہربار اسٹینڈرڈ سائز سے بھی چھوٹا سا مریل اور مرا ہوا چوہا ہی ہاتھ لگتا ہے ۔۔۔ ایک بڑے بلکہ بہت بڑے میڈیا ھاؤس سے بار بار اور بے ثبوت لڑبیٹھنے کی ایک وجہ یہ بھی کہہے وہ چھوٹے موٹے اہداف پہ یقین ہی نہیں رکھتے ،،، تاہم دھول میں کافی لٹھ چلانے اور سانسیں پھلا چکنے کے بعد اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہونے کے بعد انہیں ہیں اس بے فیض بائیکاٹ سے ہونے والے نقدا نقد خسارے کابھرپور اندازہ ہونے لگتا ہے اور پھر وہ چپکے سے کسی بھی وقت خودبخود اپنے اس بائیکاٹ کا ہی بائیکاٹ کرڈالتے ہیں اور پھر جب اس بائیکاٹ کا کوئی بڑا اثر پڑتا نہیں محسوس کرتے تو ادنیٰ سی خفت ظاہر کیئے وہ پھر ایک دن چپکے سے بغیر معافی مانگے اس گروپ کی اسکرین پہ یکایک جلوہ گربھی ہوجاتے ہیں یہ بالکل اسی طرح کی بات ہے کہ جیسے انہوں نے عوم سے حکومت کو ٹیکسوں اور بجلی و یدیگر یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگیوں کے بائیاٹ کی اپیل کی تھی لیکن عوام تو کیا خود انکے دائیں بائیں جکھڑے شاہ کن انکی اس طرح کی عجیب و غریب کہ مکرنیوں اور قلابازیوں سے انہیں تو کوئی فرق نہ بھی پڑے لیکن انکے مداحوں میں سے اکثر کو اپنی بغلیں جھانکنے کے سوا اور کوئی راہ نہیں سوجھتی کیونکہ گزشتہ چند روز پہلے تک تو وہ سوشل میڈیا پہ اپنے چیئرمین کی شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کرتے ہوئے اسی مغضوب چینل کے خوب بخیئے ادھیڑنے کی مہم میں جتے رہے ہوتے ہیں اور پھر انہیں یکایک اس طرح کے یو ٹرن پہ انہیں بھی ریورس گیئر لگاکے اس فیصلے کے لیئے بھی چیئرمین کی بے پایاں بصیرت کی تعریفوں کےلیئےتحقیق کرنے اور بڑی مشقت سے داد کے ڈونگرے برسانے کا اضافی کام نکل آتا ہے
ان دنوں خان صاحب حسب عادت ایک بار پھرپرانے بلکہ نہایت باسی و بوسیدہ سے الزامات کی زنبیل اٹھائے کھڑے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلے کی مانند اس بار بھی اس بارے میں انکی زنبیل ٹھوس حقائق اور مستند ثبوتوں سے یکسر خالی ہے،، لیکن اسکی پرواہ نہ انہیں پہلے کبھی رہی ہے اور نہ ہی اب ہے کیونکہ وہ تو صرف بے تکان الزام لگانے پہ یقین رکھتے ہیں ۔۔۔ لیکن اگر جواباً دوسرا فریق عدالت پہنچ جائے اور انکے خلاف ازالہء حیثیت عرفی کا مقدمہ ٹھونک دے تو پہلے تو وہ اسکی سماعتوں ہی کو تاخیر کا شکار کرنے ور لمبا لٹکانے کی حکمت عملی اپناتے ہیں لیکن پھر اپنے بیان پہ ادنیٰ سی ندامت کا اظہار کیئے بغیر وہ اسے 'سیاسی' نوعیت کا بیان قرر دے کر جان چھڑانے لگتے ہیں جیسا کہ سابق چیف جسٹس کی جانب سے کیئے گئے کئی ارب روپے زرتلافی کے مقدمے میں انہوں نے کیا اور اسی سے ملتا جلتا طرز عمل نجم سیٹھی کے خلاف مشہور زمانہ 35 پنکچر لگانے کی سازش کرنے کے انکے بیان پہ اختیار کیا گیا اور ضمیر کی ادنیٰ سی چبھن کے بغیر انہوں نے یو ٹرن لے کر اسے بھی سیاسی بیان کا نام دیدیا یعنی وہ باالفاظ دیگر یہ اقرار کرتے ہیں کہ وہ سیاست میں جھوٹ اور فریب کو نہ صرف روا رکھتے ہیں بلکہ اسے ایک حکمت عملی کے طور پہ بار بار برتنے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کرتے-
انکا یہ افسوسناک یک رخا الزامی طرز عمل بلکل صآف پکڑائی دے رہا ہے کہ شعوری یا لاشعوری طور پہ وہ اندر سے الطاف حسین کےزبردست معتقد ہیں اور انہی کی طرح کے مافیائی ہتھکنڈوں پہ یقین رکھتے ہیں اور جس طرح الزامات کے ثبوت دینا اور دلیل سے بات کرنا یا دلیل کا سامنا کرنا الطاف حسین کے بس کی بات نہیں عین اسی طرح کی ذہنیت عمران خان کی بھی ہے - لیکن وہ بھول رہے ہیں کہ اب عوام کا سیاسی شعور بہت بیدار ہے اور وہ بڑی حیرت سے یہ سب منظر دیکھ رہے ہیں کہ ایک فریق انہیں برسرعام چیلنج دے رہا ہے کہ یا تو وہ اپنے الزامات کو لیکر اس گروپ کے خلاف عدالت سے رجوع کریں یا پھر مباحثے و مناظرے کے لیئے تیار ہوجائیں ،، لاریب ، یہ صورتحال اس گروپ کو لڑے بغیر ہی فاتح بنا رہی ہے اور اس پہ خان کی پراسرار خاموشی اور لیت لعل کو عوام اگر عمران خان کی دروغ گوئی فریب کاری اور شرمناک پسپائی سے تعبیر نہ کریں تو اور کیا کریں ۔۔۔؟؟؟
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں