جمعرات، 13 جولائی، 2017

- مبارک ہو ،،، سینما کو واپس اسلامی مرکز ثقافت بنادیا جائےگا شاباش جماعت اسلامی ،،، شرم آنی چاہیئے اور مذہبی جماعتوں کو

حق کے لیئے اگر ڈٹ کے لڑا جائے تو رب العزت ساتھ کیوں نہ دے گا،،، بالآخر آج اسکی یہ نصرت مل کے رہی اور کئی برس سے جاری ایک گناہ عظیم کی بندش کا قانونی فیصلہ ہو ہی گیا اور فیڈرل بی ایریا نزد عائشہ منزل پہ واقع بلدیہ کراچی کے المرکز اسلامی کو واپس اصل حیثیت میں بحال کرنے کا حکم نامہ سپریم کورٹ نے جاری کرہی دیا جو کے ایم سی پہ مسلط چند الطافی بلدیاتی خنزیروں کی حرمزدگی کے نتیجے میں سینما گھر میں تبدیل کردیا گیا تھا ،،، یہ مرکز اسلامی ثقافت دراصل اس وقت کے مئیر عبدالستار افغانی کے حسن تخیل کا نتیجہ تھا کہ جنہوں نے انتہائی دیانتداری اور بلند احساس ذمہ داری کے ساتھ اس شہر کی بہبود و ترقی کے لیئے کبھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا- لیکن انکے بعد جب پھر تعصبات کا ناگ بیدار کرکے۔ برطانوی گود میں پڑے اینڈتے الطاف حسین کے چیلوں نے بلدیہ پہ قبضہ جمایا تو انکی ہوسناک نظریں اس خوبصورت و کشادہ عمارت پہ گڑگئیں اور جلد ہی انہوں‌نے کمینگی اور اسلام دشمنی کی انتہا کرتے ہوئے اس عظیم و خوبصورت اسلامی مرکز ثقافت کو سینما گھرمیں تبدیل کرنے کی ناپاک جسارت کرڈآلی اور اسکے صدر دروازے پہ لکھا ہوا کلمہ طیبہ بھی مٹا ڈالا یوں اسلامی تعلیمات و ثقافت کو فروغ دینے کیلیئے قائم یہ عمارت کنجر خانہ بناکے ٹھیکیدار کے حوالے کرکے مال بٹورنے کا ایک بڑا موقع بنا ڈآلی گئی- یہ وہ ناپاک حرکت تھی کہ جسکا کسی اسلامی ملک میں تصور بھی نیں کیا جاسکتا تھا لیکن وہ کلمے کے نام پہ بنے اس ملک میں ہی کرڈآلا گیا اور کسی مذہبی ملک میں کسی تنظیم کے کارندے یہ ناپاک حرکت کرتے تو وہ گلی کوچوں میں عوام کے ہاتھوں کتوں کی طرح ماردیئے جاتے لیکن یہاں شہر والوں نے تو کچھ بھی نہ کیا ،،،
اس ظلم عظیم کے معاملے کو لیکر کچھ لوگوں نے شہری عدالت سے رجوع کیا تھا لیکن پھر عمارت میں سینما چلانے والے منحوس و اسلام دشمن ٹھیکیدارنے ایم کیوایم کی شہ پر سندھ ہائیکورٹ کے ذریعے اس پہ حکم امتناعی حاصل کر لیا تھا اور اب کافی عرصے سے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت تھا سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمان کی جانب سے دی گئی درخواست کے نتیجے میں اج سندھ ہائیورٹ کے اس حکم امتناعی کو ختم کردیا ہے کہ جسکے ذریعے یہ کاروبارِ گناہ بڑے دھڑلے سے چل رہا تھا ،،، گو کہ کئی معاملات میں ، میں جماعت اسلامی پہ تنقید بھی کرتا رہتا ہوں لیکن مجھے یہ کہتے ہوئے کوئی باک نہیں کہ اس معاملے میں ڈٹ کے کھڑے رہنے پہ جماعت اسلامی بھرپور خراج تحسین کی مستحق ہے ،،، اور حافظ نعیم الرحمان اور ڈاکٹر فیاض عالم کو خاص طور پہ مبارکباد کیونکہ ایک نے عدالت کا رخ‌ کیا اور دوسرے نے میڈیا اور سوشل میڈیا کے مورچہ پہ گھن گھرج مچادی ،،، اس ضمن میں ٍڈاکٹر فیاض عالم نے اصرار کرکے مجھ سے بھی سوشل میڈیا پہ ایک مضمون لکھوایا تھا اور مجھے بھی اس نیکی میں شریک کیا تھا
یہاں آخر میں میرا ایک سوال جماعت کے علاوہ دیگر تمام مذہبی جماعتوں سے یہ ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کی مرکزی شاہرہ پہ واقع ایک اسلامی مرکز کو جب کھلم کھلا سینما گھر بنادیا تو یہ سب جماعتیں‌ آخر کہاں مر گئی تھیں ، یہ جمیعت اہلحدیث والے اور یہ جمیعت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان کہاں جاچھپے تھے اور یہ حنیف طیب ، مفتی منیب، عبدالحق قادری انس نورانی کوکب اوکاڑوی اور ثروت قادری کو سکتہ یوں پڑگیا تھا اور یہ فیضان مدینہ والے بپا الیاس قادری کے قلب میں کوئی سوزش کیوں نہ ہوسکی - اور جہانتک ہماری سیاسی جماعتوں کا احوال ہے تو کیا عرض کیا جائے کہ یہ بات تو انکے نزدیک مسئلہ ہی کوئی نہیں ۔۔۔ کیونکہ اس سے انہیں کیا لینا دینا ، وہ تو ہر وقت ہی روشن خیال اور لبرل نظر آنے کی کوئی بھی قیمت ادا کرنے کو تیار رہتے ہیں ،،اور پھر یہ تو جیسے حافظ نعیم الرحمٰن اور ڈاکٹر فیاض عالم کا کوئی بہت پرائیویٹ سا مسئلہ ہے ،،،
ہیں جی ۔۔۔ کیا سمجھے جی ،،،!!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں