گزشتہ ہفتے میں لگ بھگ دس بارہ برس کے بعد بیمار ہوا ہوں ۔۔۔ کچھ نزلے کا وفور ہے جو ابھی تک کسی پہ گرا نہیں ہے اور کسی حد تک پیٹ کی گڑ بڑ کا بھی معاملہ ہے گویا 'ہرطرف' سے مسلسل مصروف ہوں کبھی کبھی اخلاقاً... اٹھتے ٹھسکے کو نہایت محتاط انداز میں کھانسی میں بدل کے ماحول کو کافی ترس انگیز بنادیتا ہوں محتاط اس لیئے کہ یہ رسک ضرور رہتا ہے کہ اسہال کے جھٹکے سے کہیں بیٹھے بٹھائے ایک شعر پوری غزل نہ بن جائے ۔۔۔۔ میں دوڈھائی دن اہلخانہ کو ٹالتا رہا کہ بقول بیگم اس شعبے میں میرا مقابل نہیں دور تک بلکہ بڑی دور تک ،،، لیکن پھر بھی بڑا بیٹا سواری پہ کھینچ اور لاد کےایک کلینیک یوں لے گیا جیسے منڈی سے قربانی کی بچھیا ،،، ڈاکٹر صاحب پرانے واقف ہیں کیونکہ برسوں پہلے بچوں کو وہیں لے جاتا رہا ہوں ،،، لیکن اب چونکہ وہ بڑے ہوگئے ہیں چنانچہ اب حسب دلخواہ ڈاکٹر کو کئی کئی دنوں تک فیض پہنچاتے ہیں - میں اس لیئے بھی چلا گیا کیونکہ خدا نخواستہ کہیں ہم جیسے کچھ لوگ ڈاکٹروں سے ایسا گریز کرکے انجیئروں کی طرح انکے مستقبل کو بھی مخدوش کرنے کا سبب نہ بن جائیں اور انکے بھی رشتے نہ آنے پہ ہم انکی دلآزاری کا باعث نہ بن جائیں
کلینک پہنچے تو دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب اس دوران بہت دیندار ہوگئے ہیں لیکن پھر بھی اپنی ِفیس سے وہ یہ رازہرگز کھلنے نہیں دیتے تاہم اس تقدسی تعارف کے لیئے انہوں نے بہت بڑی براق سرسیدی داڑھی رکھ لی ہے --- سر کو البتہ کلر لگاتے ہیں یوں سارے امکان جمالیات کو تہس نہس ہونے سے بچاتے ہیں - مجھے دیکھا تو بانچھیں کھل گئیں ،،، آخاہ اتنے برس کہاں رہے بھائی ؟؟ ،،، میں نے کہا تاکہ آپکو داڑھی رکھنے کا موقع مل سکے ورنہ شاید ہم جیسی صحبت والوں کا اثر یہ نیک کام نہ ہونے دیتا ،، کہنے لگے آپکے بچے بھی نہیں آتے ،،، میں کہا کہ بڑے ہوگئے ہیں سمجھدار ہوگئے ہیں اس پہ انکو فوراً ہی بلی کی طرح کی منی سی چھینک آگئی لیکن وہ کافی دیر اپنی ناک بھنبھوڑتے رہے ، میں نے البتہ چیک اپ کے دوران انکی ریش دراز پہ نظر جماکے یہ وضاحت ضرور چاہی کہ " آج کل بھی آپ صرف نسخے ہی لکھتے ہیں یا تعویز بھی ،،،، اس پہ انہوں نے ہڑبڑا کر گھڑی دیکھنا اور اسے کان کے قریب لا لاکے جھٹکے دینے شروع کردیئے
ذرا ہی دیرمیں انکے طبی سوال جواب کا سیشن شروع ہوگیا ۔۔۔ مجھ سے پوچھا "کیا ہوتا ہے " میں نے عرض کی دونوں طرف سے کچھ کچھ ہوتا ہے بلکہ کبھی کبھی تو مسلسل ہوتا ہی رہتا ہے ،،، اور اس وقت یوں چکر آرہے جیسے میں کسی کے چکر میں ہوں یا جے آئی ٹی کے سامنے بیٹھا ہوں ،،، گلا ملکی معیشت کی مانند بیٹھا ہوا ہے۔۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ میں گفتار کا غازی ہوں ایسے میں گلے کا سخت دکھنا کسی المیئے سے کم نہیں ۔۔۔ لگتا ہے کہ میرے مبینہ مزاح گو گلے کو دبانے کے لیئے حریفوں کا داؤ نہ چلا تو انکی بددعا چل گئی ،،،
پھر ڈاکٹر صاحب نے دریافت کیا کہ : کیا بخار بھی ہوتا ہے ،، منہ لٹکا کے عرض کیا کہ ،، بس یہی تو گلہ ہے کہ ہمارا بخار کبھی اس اونچے درجے میں نہیں پہنچا کہ سینا تان کے بتا سکیں یا بہت سرسامی کیفیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جی بھر کے اول فول بکنے کی رعایت مل سکے اور پرانی بھڑاسیں ہی نکال پائیں ،،، اس ایک سو ایک بخار کو آج کل بھلا پوچھتا کون ہے ،،،، پھر رہتا بھی وقفوں میں ہے ،،،
وقفوں میں ۔۔۔؟ ڈآکٹر صآحب چونکے اور دو دفہ بڑبڑائے وقفہ ،، یعنی کہ وقفہ
جی جی کیا اس میں بھی وقفہ ضروری ہے ۔۔۔ معاً خدشہ ہوا کہ کہیں بات سبزستارہ کی گولیوں تک تو نہیں پہنچنے والی ۔۔۔ وضاحت کی کہ وقفے کی دواؤں کا وقت کبھی کا گزر گیا اور عاجزی سے التماس کیا کہ بس باری کے بخار کی دوا ہی دیدیں کافی ہے ،،، یہ سنتے ہی ڈاکٹر صآحب نے دفعتا" اپنی سیٹ چھوڑدی ،،، مجھے لگا کسی کھٹمل کی کارستانی ہے اور انکا کوئی نازک مقام سخت خطرے میں ہے ،،، کہنے لگے آئیئے آپ ادھر میری کرسی پہ بیٹھ جائیئے اور جب خود ہی خود دوا لکھنی ہے تو تجویز کرلیجیئے سامنے لگے پوسٹروں میں سے جو بھی دوا اپنے لیئے مناسب سمجھیں ،،، بس نیچے والا پوسٹر رہنے دیں وہ 'ایام' کی خرابی سے متعلق ہے ،،، میرا منہ ہمیشہ سے بہت زیادہ نہیں کھلتا لیکن اس بارمنہ کھول کے ہنسنے لگا اور اس وقت میرا منہ خودبخود اتنا زیادہ کھلا کہ اصلی بتیسی بھی اتنی باہر آگئی کہ مصنوعی معلوم ہونے لگی
پھر ڈاکٹر صاحب نے دریافت کیا کہ : کیا بخار بھی ہوتا ہے ،، منہ لٹکا کے عرض کیا کہ ،، بس یہی تو گلہ ہے کہ ہمارا بخار کبھی اس اونچے درجے میں نہیں پہنچا کہ سینا تان کے بتا سکیں یا بہت سرسامی کیفیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جی بھر کے اول فول بکنے کی رعایت مل سکے اور پرانی بھڑاسیں ہی نکال پائیں ،،، اس ایک سو ایک بخار کو آج کل بھلا پوچھتا کون ہے ،،،، پھر رہتا بھی وقفوں میں ہے ،،،
وقفوں میں ۔۔۔؟ ڈآکٹر صآحب چونکے اور دو دفہ بڑبڑائے وقفہ ،، یعنی کہ وقفہ
جی جی کیا اس میں بھی وقفہ ضروری ہے ۔۔۔ معاً خدشہ ہوا کہ کہیں بات سبزستارہ کی گولیوں تک تو نہیں پہنچنے والی ۔۔۔ وضاحت کی کہ وقفے کی دواؤں کا وقت کبھی کا گزر گیا اور عاجزی سے التماس کیا کہ بس باری کے بخار کی دوا ہی دیدیں کافی ہے ،،، یہ سنتے ہی ڈاکٹر صآحب نے دفعتا" اپنی سیٹ چھوڑدی ،،، مجھے لگا کسی کھٹمل کی کارستانی ہے اور انکا کوئی نازک مقام سخت خطرے میں ہے ،،، کہنے لگے آئیئے آپ ادھر میری کرسی پہ بیٹھ جائیئے اور جب خود ہی خود دوا لکھنی ہے تو تجویز کرلیجیئے سامنے لگے پوسٹروں میں سے جو بھی دوا اپنے لیئے مناسب سمجھیں ،،، بس نیچے والا پوسٹر رہنے دیں وہ 'ایام' کی خرابی سے متعلق ہے ،،، میرا منہ ہمیشہ سے بہت زیادہ نہیں کھلتا لیکن اس بارمنہ کھول کے ہنسنے لگا اور اس وقت میرا منہ خودبخود اتنا زیادہ کھلا کہ اصلی بتیسی بھی اتنی باہر آگئی کہ مصنوعی معلوم ہونے لگی
جب وہ پھر سے اپنی کرسی پہ بیٹھ گئے تو انہیں میں نے انہیں مزید یہ بتانا ضروری سمجھا کہ دراصل مجھے پرسوں ڈریم ورلڈ کی جمالیاتی فضا میں بھی سوئمنگ پول میں نہانے یعنی پانی میں چھبڑ چھبڑ کرنے کا قطعی موقع نہ ملا اورعید ملن کے نام پہ محض ادبی سی و نیم بزرگانہ سی محفل منعقد ہوئی تو میں بس شدید جھلاہٹ میں انتقاماً بہت زیادہ کھا گیا ،،، ویسے بھی اگر کہیں متعدد ڈشیں سامنے ہوں تو میرے اندر کا منصف جاگ اٹھتا ہے اور سب سے انصاف کرنے کو میں اپنے اوپر لازم کرلیتا ہوں ،،، پھر بیگم سا جید محتسب بھی دور دور تک موجود نہ ہو تو پھر اندھا کیا چاہے دو آنکھیں ،،، کہنے لگے یہ غلظ محاورا بول دیا آپنے۔۔! ،،، میں نے پوچھا صحیح کیا ہے ،،؟ فرمایا : دے مار ساڑھے چار ۔۔۔
چیک اپ تمام ہوا تو صورتحال بہت مایوس کن نکلی ۔۔۔ ساری ضرر رسانی صرف اسہال اور چیسٹ انفیکشن کے سر منڈھ دی گئی ،،، لگتا تھا کہ خود ڈاکٹر صاحب کو بھی اس کھودا پہاڑ نکلا چوہا جیسی صورتحال پہ بالکل مزا نہیں آیا کیونکہ اب تو بات محض دو چار دن کی دوا تک ہی محدود رہ جانی تھی ،،جبکہ انہیں باتوں باتوں میں پتا چل گیا تھا کہ ابھی دو روز پہلے ہی ہمیں تنخواہ ملی ہے ،، پھر بھی اپنی اور انکی ڈھارس بندھانے کے لیئے ہم نے ذرا لہرا کے کہا کہ " بھئی ہم اس قلیل تشخیص کی تاب بھلا کیسے لاسکیں گے اوراحباب اور گھر والی کو کیا منہ دکھائینگے ،،،؟؟
ڈاکٹر صاحب پہلی بار متبسم ہوئے اور کھلھلا کے بولے " بھائی بس یہی منہ دکھائیں آخر آپکے ممکنہ پسماندگان اور احباب نے پچپن چھپن برس تو آپکو اسی منہ کے ساتھ بھگت ہی لیا ہے نا ۔۔۔
ڈاکٹر صاحب پہلی بار متبسم ہوئے اور کھلھلا کے بولے " بھائی بس یہی منہ دکھائیں آخر آپکے ممکنہ پسماندگان اور احباب نے پچپن چھپن برس تو آپکو اسی منہ کے ساتھ بھگت ہی لیا ہے نا ۔۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں