جمعرات، 13 جولائی، 2017

قارئین ذرا دعا کیجیئے گا

لگتا ہے کہ میرے کل کے مزاحیہ مضمون ' ڈاکٹروں سے ملاقات' کو ڈاکٹروں نے بہت ہی سیریس لے لیا ہے ،،،، کیونکہ شاید انکی 'دعاؤں' سے، ابھی دوسرے نمبر کے بیٹے سرمد کو ایک نجی ہسپتال میں داخل کراکے لوٹا ہوں جو کہ ناظم آباد چورنگی پہ واقع ہے یعنی گھر سے محض 2 کلو میٹر ہی کی دوری پہ ہے اور کسی حد تک سفید پوشی کا بھرم رکھ لیتا ہے ۔۔۔ ادھر کل شام ہی سے میرے سینے کا انفیکشن بھی 'جے آئی ٹی' کے قابل ہوگیا ہوں‌ اور ساتھ ہی کھانسنے میں بھی اب ایسا رواں ہوا ہوں کہ ہر سر اور ہرتال پہ یہ مشقِ 'دُکھن' جاری رکھے ہوئے ہوں‌ ۔۔۔۔۔ اور اب تو میرے سامنے سے میری بیگم بھی اپنی کھانسی قابو پاکے گزرتی ہیں کہ کہیں تازہ شہ نہ پالوں - اس تازہ معاملے کی تفصیل یہ ہے کہ کل رات ان مذکورہ صاحبزادے کو پیٹ اور آنتوں میں نہایت شدید تکلیف ہوئی تھی اور چونکہ نیند کی گولی کھائے ہوئے ہونے کے باعث اک ذرا دیر کو میری آنکھ لگ گئی تھی چنانچہ میرے 2 بیٹے اور انکے دوست اسے ایمرجینسی میں عباسی شہید ہسپتال لے کے بھاگے تھے ۔۔۔ وہاں آجکل بھائی لوگوں کی 'خصوصی توجہ ، اور وہاں کے عملے کو فراہم کردہ طویل عرصے کی خصوصی تربیت کے باعث دیگر سرکاری ہسپتالوں کی طرح اب سوائے خدا کے آسرے کے ، کچھ بھی دستیاب نہیں شاید ایسا 'فروغ تقویٰ' کے لیئے کیا گیا ہو، تاکہ اس طرح مریض کے وابستگان کو بیچارگی کے عالم میں خدا سے زیادہ سے زیادہ لو لگانے کا بھرپور موقع مل سکے - البتہ عباسی ہسپتال کے لان کی اجڑی گھاس پہ بیٹھ کر نت نئے معاشقوں کی سہولت ہمہ وقت دستیاب ہے لہٰذا کچھ انجیکشن اور ڈرپ لگوا کے واپس لے آئے اور کل ہی دوبارہ رات گئے پھر وہیں لے کے بھاگنا پڑا اور آخرشب واپس لائے
میں ماضی کے دریچوں میں جھانکتے ہوئے یہ سوچ رہا تھا کہ کیا وہی ہسپتال ہے کہ شروع میں جب بنا تھا تو ہر سہولت میسر تھی اور عالم یہ تھا کہ بیمار تو بیمار اسکا کوئی بڑھے ہوئے پیٹ کا تیماردار بھی آجائے تو بغیر کہے سنے اسکے الٹرا ساؤنڈ کے لیئے طبی عملہ بہت بیقرار سا پھرتا تھا لیکن اب تو یہ حال ہے کہ شاید روئی ہی واحد مفت دستیاب نشان کرم ہے ۔۔۔ لیکن وہ بھی یوں چھپ چھپا کے استعمال کی جاتی ہے کہ جیسے بارودی مواد یا منشیات کی ذیل میں شمار ہوتی ہو ،،، بہرحال جب آج شام کئی لوگوں کے ساتھ سرمد کو جب لے کے ہسپتال پہنچا تو اوپی ڈے میں چیک اپ کرانے اور فائل بنوانے کے کی دوڑ بھاگ کے دوران میری اپنی طبیعت اتنی بگڑ گئی کہ پھر وہیں ایک الگ ایک بینچ پہ لیٹے لیٹے ہی تمام امور بذریعہ نپٹاتا رہا اور بچوں کو دوڑاتا رہا،،، ااس کے بعد جب سرمد کا ہسپتال میں داخلہ ہوگیا تو میرے بیٹوں نے مجھے زبردستی گھر بھیج دیا کیونکہ میری حالت بالکل ویسی ہورہی تھی کہ جیسے سرکار کی جانب سے تقریر کرنے پہ پابندی کے قبض کے بعد آجکل الطاف حسین کی ہے ۔۔۔۔ اب میں پون گھنٹہ آرام کرنے کے بعد یہ پوسٹ لکھ پا رہا ہوں - میرا یہ دوسرا بیٹا جس کا پورا نام سید سرمد جاہ عارف ہے ، بہت نڈر اور اپنے نام میں لفظ جاہ کی نسبت سے بہت 'چُوزی' ہے اور حالات کیسے بھی ہوں ہمیشہ بڑے کلے ٹھلے سے رہنا پسند کرتا ہے،البتہ مزاج کا ذرا ٹیڑھا ہے ( حآلانکہ پبلک ڈیلنگ اور مارکٰیٹنگ کے عمل میں نہایت 'آرٹی کرافٹی' ہے ) اور گھر میں اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے بہت ہی کم بات کرتا ہے ،،، (حالانکہ یہ سہولت ابتک ٹیکس ایبل نہیں ہوئی) -
قارئین سے التماس کہ مجھے اپنئے اس 'اکھرے پتر' سرمد کے لیئے دو طرح کی دعائیں مطلوب ہیں ۔۔۔
1- خدا کرے وہ جلد از جلد مکمل صحتیاب ہوجائے کیونکہ اسکی آنتوں میں شدید درد اٹھنے اور ہسپتال جانے کا مرحلہ ہر چند مہینے بعد آجاتا ہے لیکن اس بار فرق یہ ہے ک اسے بہت بخار بھی ہے اور جوڑوں میں شدید درد بھی ہے اور مزید یہ کہ رہ رہ کے زبردست الٹیاں آرہی ہیں
2- وہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ اپنے رویئے کو بہتر کرے --- آمین ثمہ آمین

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں